تسمیہ واحدہ سے چند مرغیاں ذبح کرنے کا حکم:
Question
قریبی زمانے میں مجھے ایک مرغی کے مذبح میں جانے کا اتفاق ہوا جہاں پر ایک منٹ میں تقریباً ۱۴۰ مرغیوں کو ذبح کیا جاتا تھا، اس کا طریقہ یہ تھا کہ مرغیاں زنجیر میں بندھی ہوئیں مسلمان ذابحین کے پاس ترتیب سے آتی تھیں، تقریباً ۵ مسلمان افراد تیزی سے بسم اللہ پڑھ کر مرغیوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے، لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ عجلت کی وجہ سے دو یا زیادہ مرغیوں کو ایک ہی تسمیہ سے ذبح کر دیتے تھے، اب سوال یہ ہے کہ کیا اس صورت میں ایک تسمیہ سے دو یا زیادہ مرغیاں حلال ہوں گی یا نہیں؟ کیا ایک تسمیہ چند مرغیوں کے لیے کافی ہو جائے گا یا نہیں؟ یہ بھی مدِ نظر رہے کہ یہ نادر الوقوع ہے، کمپنی کے مالک کا کہنا ہے کہ اس تیزی کو کم نہیں کر سکتے ورنہ تجارت میں نقصان ہوگا کیونکہ یہ مذبح کثیر مقدار میں مرغیاں تیار کر کے برآمد کرتا ہے ۔ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ ہر ایک مرغی پر علیحدہ بسم اللہ پڑھنا لازم اور ضروری ہے، اگر عجلت کی وجہ سے پوری تسمیہ "بسم اللہ واللہ اکبر" نہ پڑھ سکے تو فقط بسم اللہ پڑھنا بھی کافی ہوگا، لیکن اگر کسی مرغی کو بلا بسم اللہ ذبح کر دی تو وہ مردار کے حکم میں ہو گی، اگر تیزی میں کمی نہیں کر سکتے تو ذابحین کی تعداد میں اضافہ کر دیا جائے تاکہ ذبیحہ موافق شریعت ہو جائے ۔
ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں ہے:
وأما شرائط ركن الذكاة فأنواع
ومنها التسمية حالة الذكر عندنا
ومنها أن يريد بها التسمية على الذبيحة. أما وقت التسمية فوقتها في الذكاة الاختيارية وقت الذبح. (بدائع الصنائع: ۵/٤٦، ٤۸، سعيد).
النتف في الفتاوى
میں ہے:
والأحسن أن يقول: بسم الله. (النتف في الفتاوى، ص: ۱٤۸، كتاب الذبائح، دار الكتب العلمية).
فتاوی قاضيخان میں ہے:
رجل أراد أن يذبح عدداً من الذبائح لا تجزيه تسمية واحدة على واحدة لما بعدها. (فتاوى قاضيخان على هامش الفتاوى الهندية: ۳/۳٦۸).
در مختار میں ہے:
والمعتبر الذبح عقب التسمية قبل تبدل المجلس حتى لو أضجع شاتين إحداهما فوق الأخرى فذبحهما ذبحة واحدة بتسمية واحدة حلا، بخلاف ما لو ذبحهما على التعاقب لأن الفعل يتعدد فتعدد التسمية ذكره الزيلعي في الصيد. وفي رد المحتار: قوله لأن الفعل يتعدد، فيتبدل المجلس حكماً. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/۳۰۲، سعيد).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2346
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2346