شکار کے لیے زندہ کیڑوں کو استعمال کرنا:

2 min readFatwa Vol 6 #64Urdu

Question

اکثر لوگ مچھلیاں پکڑنے کے لیے زندہ کیڑوں کو استعمال کرتے ہیں کیوں کہ اس کی وجہ سے مچھلی بہت جلد آسانی سے پکڑی جا سکتی ہے کیا محض مچھلی پکڑنے کی غرض سے زندہ کیڑوں کو استعمال کرنا درست ہے یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ زندہ کیڑوں کو استعمال کرنا درست نہیں ہے بلکہ ان کو مار کر استعمال کرنا چاہیے کیوں کہ اس میں جاندار کو اذیت پہنچانا ہے اور یہ ممنوع ہے ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

ويكره تعليم البازي بالطير الحي لتعذيبه. (الدر المختار: ٦/٤۷٤، باب الصيد، سعيد).

عالمگیری میں ہے:

ويكره تعليم البازي بالطير يأخذه ويعذبه ولا بأس بأن يعلم بالمذبوح. (الفتاوى الهندية: ۵/۳٦۲).
تكمله فتح الملهم
میں ہے:

وكل طريق أدي الحيوان إلى تعذيب أكثر من اللازم لا زهاق روحه فهو في النهي ومأمور بالاجتناب عنه. (تكملة فتح الملهم: ۳/۵٤۰، باب الامر بإحسان الذبح).
قال الحافظ في الفتح في باب ما يكره من المثلة والمصبورة

وفي هذه الأحاديث تحريم تعذيب الحيوان الآدمي وغيره. (فتح الباري: ۹/٤٤۵، ط: لاهور).

فتاوی رشیدیہ میں ہے:
سوال: ایک کیڑے کو جس کا نام گھینسا ہے اس کو توڑ توڑ کر اور کانٹے میں لگا کر شکار ماہی کا کرتے ہیں پس ایسا شکار کرنا اور اس مچھلی کا کھانا کیسا ہے؟
جواب: اول اس کو مار کر پھر ٹکڑے کر کے کانٹے میں لگانا درست اور زندہ کو لگانا منع ہے کہ اذیت ذی روح کی مکروہ تحریمہ ہے ۔ (فتاوی رشیدیہ، ص
٦۳۵
، ط: لاہور) ۔
امداد الفتاوی میں ہے:
اگر کیچوے کو اول مار دیا جائے پھر اس سے شکار کیا جائے جائز ہے، اس وقت ایک شکاری نے بیان کیا کہ مردہ کیچوے سے بھی ویسی ہی مچھلی آتی ہے ۔ (امداد الفتاوی:
۳
/
۵۵۷
) ۔
فتاوی محمدیہ میں ہے:
کیچوا اگر مار کر کانٹے میں لگا کر شکار کیا جائے تو یہ فعل درست ہے ۔ زندہ جانور کو کانٹے میں لگا کر شکار کرنا ممنوع ہے ۔ (فتاوی محمودیہ:
۱۷
/
۲۱۸
،
۲۱۹
، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.