بعض مفتیانِ کرام کے مزید شبہات اور ان کے جوابات:

14 min readFatwa Vol 6 #68Urdu

Question

بعض مفتیانِ کرام کے مزید شبہات اور ان کے جوابات:

Answer

شبہہ (۱): علامہ شامی کی عبارت:
ولا يخفي أن الجرح بالرصاص إنما هو بالإحراق والثقل بواسطة اندفاعه العنيف إذ ليس له حد. (فتاوى الشامي: ٤۷۱/٦، سعيد).
أقول:.
احراق نہیں ہے یہ تو مسلم ہے ۔ جیسا کہ قطب الاقطاب حضرت شیخ گنگوہی رحمہ اللہ نے بذاتِ خود تجربہ فرمایا ہے ۔ (تذکرہ الرشید:
۱۳۹
/
۱
) ۔ نیز شیخ حمزاوی مفتی دمشق نے بھی تحقیق فرمائی ہے ۔
رہا مسئلہ ثقل کا تو سوال یہ ہے کہ کیا گولی ثقل کی وجہ سے سرایت کرتی ہے؟ ثقل تو چیز کو گراتا ہے؟
دوسری بات یہ ہے کہ گولی کا ثقل بداہت کے خلاف ہے بلکہ یہ تیزی سے اپنا کام کرتی ہے ۔ گولی کی نوک اور بارود کی طاقت دونوں مل کر اس میں تیزی پیدا کر دیتے ہیں ۔
قولہ:
إذ ليس له حد فلا يحل
۔ حد: طرف کے معنی میں ہے اور طرف کنارہ، انتہا اور نوک سب کو کہتے ہیں ۔
علامہ شامی رحمہ اللہ نے دراصل اپنے زمانہ کی بندوق کو مدِ نظر رکھتے ہوے فرمایا کہ یہ محدد نہیں ہے اس کی وجہ سے انہار الدم حاصل نہیں ہوتا ۔ کیوں کہ ممکن ہے کہ اس وقت شکار کے لیے خاص گولیاں موجود نہ ہوں، لیکن علامہ شامی رحمہ اللہ اگر موجود ہ دور کی بندوق کی گولیوں کا مشاہدہ فرماتے "جو خاص شکار کے لیے بنائی جاتی ہیں اور محدد ہوتی ہیں اور ان سے جرح و انہار الدم بھی حاصل ہوتا ہے" تو ہرگز عدمِ جواز تحریر نہ فرماتے، بلکہ خود انھوں نے تصریح فرما دی کہ اگر محدد ہو اور انہار الدم حاصل ہو جائے تو شکار حلال ہے ۔
ملاحظہ ہو قاضيخان رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں:
قال قاضيخان: لا يحل صيد البندقة والحجر والمعراض

لأنه لا يخزق إلا أن يكون شيء من ذلك قد حدده وطوله كالسهم وأمكن أن يرمي به؛ فإن كان كذلك وخزقه بحده حل أكله، وأما الجرح الذي يدق في الباطن ولا يخزق في الظاهر لا يحل لأنه لا يحصل به إنهار الدم

الخ. (فتاوى الشامي: ٦/٤۷۱، سعيد).

اس عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ خزق یعنی نفوذ سے جرح حاصل ہو اور خون بہہ جائے تو شکار حلال ہے، اور جرح ثقل کی طرف منسوب ہو جس میں نفوذ نہ ہو تو وہ دق یعنی کوٹنا ہے اس سے خون نہیں بہتا، لہذا شکار حلال نہیں ہوگا ۔
موجود ہ دور کی گولیوں کا مشاہدہ کرنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ جرح دق کی طرف منسوب نہیں ہے بلکہ جرح نفوذ سے متحقق ہوتی ہے اور خون بھی بہہ جاتا ہے ۔ لہذا علامہ شامی رحمہ اللہ کی تحقیق کے مطابق بھی شکار حلال ہوگا ۔
مذکورہ بالا تشریح اور شکار کی گولیوں کی نوعیت کو مدِ نظر رکھتے ہوے حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب زید مجدہ کی عبارت سے بندوق کا شکار بالاتفاق حلال ہو جائے گا ۔ چنانچہ عبارت ملاحظہ فرمائیے:
مندرجہ بالا اختلاف اس وقت ہے کہ جب گولی نوک دار نہ ہو لیکن اگر گولی ایسی بنائی گئی ہے جو نوک دار ہے تو اس صورت میں وہ جانور بالاتفاق حلال ہو جائے گا ۔ (تقریر ترمذی:
۲
/
۱۳۳
، بندوق سے شکار کیے ہوے جانور کا حکم) ۔
تصاویر سے بالکل روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ شکار کی خاص گولیاں نوک دار ہیں ۔
تجربہ اور مشاہدہ:
بعض شکار کرنے والوں نے تجربہ کیا اس طور پر کہ ایک کوکا کولا کے ڈبہ (coke can) کو زمین پر رکھ کر اس پر نشانہ لگایا تو گولی پار ہو گئی لیکن ڈبہ نہیں گرا، اگر گولی میں ثقل ہوتا تو ڈبہ گر جاتا لیکن ایسا نہیں ہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ اس میں ثقل نہیں ہے، جیسا کہ علامہ ابو السعود مصری حنفی نے فتح المعین میں فرمایا ہے کہ اگر جرح خفت سے ہو تو حلال ہے ۔ ملاحظہ ہو:

وأما إذا كان القتل بالجرح للخفة بأن كان لها حدة فيحل. (فتح المعين: ۲/۴۳۱، كتاب الصيد، ط: سعيد).

نیز علامہ شامی رحمہ اللہ کتاب الجنایات میں قصاص واجب قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

قلت: وعلى كل فالقتل بالبندقة الرصاص عمد لا نها من جنس الحديد وتجرح فيقتص به. (فتاوى الشامي: ۶/۵۲۸، كتاب الجنايات، سعيد).
وفي حاشية الطحطاوي على الرد المختار: قلت فعلى ظاهر الرواية لا شك في وجوب القصاص بالقتل بالبندقة لا نها من جنس الحديد وعلي الأصح يقتص أيضاً لجرحها. (حاشية الطحطاوي: ۲۵۲/۴).
وفي شرح منظومة ابن وهبان: والحاصل: إن كل ما تتعلق به الذكاة في البهائم يتعلق به وجوب القصاص وما لا، فلا، كذا ذكره الناطفي رحمه الله في الأجناس. (شرح منظومة ابن وهبان: ۲۰۰/ ۲، وهكذا في الفتاوى البزازية: ۳۸۱ /۶، على هامش الفتاوى الهندية).

(احناف کا مشہور مذہب یہ ہے کہ آلہ غیر محدد سے قصاص واجب نہیں) ۔
یہاں پر مفتیان کرام سے ایک سوال ہے کہ اگر گولی چلا کر کسی کو قتل کیا تو آپ قصاص کو واجب قرار دیتے ہیں یا نہیں؟ کیا یہ قتل بالمثقل ہے؟
اور یہ جو کہا جاتا ہے تیر ہلکا اور گولی ثقیل ہے یہ بھی بداہت اور مشاہدہ کے خلاف ہے ۔ تیر یقیناً اثقل ہوتا ہے ۔ (آج کل کے تیر پر قیاس نہ کیا جائے، بلکہ آج کل کا تیر بھی گولی سے ثقیل ہوتا ہے) ۔
شبہہ (۲): تیر تنہا بھی بلا کمان کے بطور ہتھیار استعمال ہو سکتا ہے ۔ جب کہ گولی میں یہ صلاحیت نہیں ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ کٹا ہوا ناخن یا ٹوٹا ہوا دانت یہ بھی اسلحہ نہیں ہیں رگوں کو عرفاً نہیں کاٹ سکتے ہیں لیکن اگر کاٹ لیں تو حلال ہے ۔ اسی طرح نوک دار گولی اگر خون بہائے اور خوب بہاتی ہے تو حلال ہونا چاہیے ذبح اختیار ی اور اضطراری میں تو انہار دم مشترک ہے جب خون بہائے اور حد والی چیز ہو تو کافی ہے ۔ تنہا بطورِ ہتھیار استعمال ہونے کی شرط تو کہیں نظر سے نہیں گزری ۔
شبہہ (۳): اس میں شبہہ رہتا ہے کہ شاید ثقل کی وجہ سے مرا ہو؟

أقول:
اگر ثقل سے قتل کا شبہ مفقود ہو اور اچھی طرح خون بھی بہہ جائے جو ذبح اضطراری میں رکن ہے ۔ تو پھر کیوں حلال نہیں؟
نیز اس خلجان کا جواب شارح تحفۃ الملوک شیخ محمد بن عبد اللطیف ابن ملک نے شرح تحفۃ الملوک میں یہ دیا ہے کہ اگر گارے کی گولی سے شکار کو مار آ جائے تو شکار حرام ہے اس میں شک کرنے کی ضرورت نہیں، اور ٹن یا تانبے وغیرہ کی گولی یا چھرے سے بسم اللہ پڑھ کر مار آ جائے اور اس میں خون بہانے کی صلاحیت ہو تو بلاشبہ کیا ہوا شکار حلال ہے ۔ عبارت ملاحظہ ہو:

ولا يحل الصيد بالبندقة وهي: طينة مدورة يرمي بها؛ لا نها لا تجرح بل يدق ويكسر

قال: في الكنز وما قتله المعراض بعرضه أو البندقة حرم.
وقال في الينابيع: وإن رماه بمعراض فجرحه أكل كيف ما أصابه، وكذلك البندقة والحجر، والعودة، فيحمل كلام صاحب الكنز على البندقة من الطين، وكلام الينابيع على البندقة من الرصاص. انتهي. وقال الشيخ عبد المجيد الدرويش في تعليقات شرح التحفة: قوله البندقة من الرصاص، وهو محدد يجرح. (شرح تحفة الملوك مع التعليقات: ۲/۱۷۱۸).

پھر حلال چیز کو حرام کہنا بھی زیادتی ہے ۔

﴿قل من حرم زينة الله التي أخرج لعباده والطيبات من الرزق﴾
طیب اور حلال رزق کو حرام کہنا بھی کہاں درست ہے؟ حلال و حرام جمع ہوں تو حرام کو ترجیح ہے ۔ اس کی مثال تو یہ ہے کہ مجوسی اور مسلمان کا کتا شکار میں شریک ہوں تو وہاں قوی شبہ ہے اور حرمت غالب ہے اور یہاں یہ صورت نہیں، فتأمل۔
شبہہ (۴): جمہور علماء احناف عدمِ حل کی طرف ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ مفتی شام جو حنفی تھے انہوں نے حلت پر رسالہ لکھا ہے جو
"فتوى الخواص في حل ما صيد بالرصاص"
کے نام سے معروف ہے اور
منية الصيادين
میں از ص ۱۹۲ تا ۱۹۸، مذکور ہے اسی طرح
الفقه الحنفي وأدلته
کے مصنف بھی جواز کے قائل ہے ۔ علامہ شیخ محمد عابد الانصاری السندی رحمہ اللہ نے بھی شکار کی حلت پر رسالہ تحریر فرمایا ہے، اس کے علاوہ فقہائے حنفیہ، مالکیہ اور حنابلہ کی عبارات مذکور ہوئیں اس سے بھی واضح ہوتا ہے کہ جمہور حلت کے قائل ہیں ۔
باقی موجود ہ دور کے مفتیانِ کرام نے جو عدمِ جواز تحریر فر مایا ہے تو ان کے دلائل پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرات کے دو گروہ ہیں:
(۱) بعض حضرات نے علامہ شامی کی عبارت کو اساس بنایا ہے اور اس کا جواب اور اس پر کچھ مختصر کلام گزر گیا ۔
(۲) اور دوسرے بعض حضرات نے موجود ہ دور کی بندوق کو فقہاء کے زمانہ کے بندقہ پر قیاس فرمایا ہے اور دونوں میں کیا فرق ہے وہ پہلے مفصل لکھا جا چکا ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
موجود ہ زمانے کی بندوق میں استعمال ہونے والی گولیاں نوک دار ہیں، جرح اور انہارِ دم اچھی طرح حاصل ہوتا ہے ۔
ملحقہ تصاویر میں اس کا مشاہدہ کیجیے:
شکار کے مسئلہ پر مقالہ تحریر کرنے کے اسباب
دراصل اس مسئلہ پر زیادہ تحقیق کرنے کے تین اسباب ہیں:
(۱) جنوبی افریقہ میں ملک کے اکثر دار الافتاء کے مفتیانِ کرام نے ایک اکیڈمی "جمعیۃ المفتین" کے نام سے منعقد کی ہے جس میں حالاتِ حاضرہ اور جدید مسائل پر بحث و مباحثہ ہوتا ہے، اسی مناسبت سے بتاریخ ۷/مئی ۲۰۰۳؁ ء مطابق: ۶/ربیع الثانی ۱۴۲۴ ھ بروزِ سنیچر بمقامِ آزاول شکار کے مسئلہ پر بحث و مباحثہ ہوا اور مفتیانِ کرام نے اپنی اپنی تحقیق و مقالات پیش فرمائے، اسی مجلس کے لیے یہ اس مقالہ کا ایک حصہ تیار کیا گیا اور شرکاء سیمینار کی خدمت میں پیش بھی کیا گیا ۔ بعد میں مزید اضافے کیے گئے پھر بعد میں علامہ محمد عابد انصاری سندھی کا رسالہ بھی بندہ عاجز کو اسلام آباد کے ایک کتب خانہ سے مل گیا، شیخ محمد عابد سندھی حضرت مولانا عبد الغنی مجددی کے شیخ ہیں، مولانا عبد الغنی مجددی سنن ابن ماجہ کے حاشیہ "انجاح الحاجۃ" میں توسل کے مسئلہ میں فرماتے ہیں:
ذكر شيخنا عابد السندي في رسالته، (ص ۹۸).

پھر ص ۹۹ پر تحریر فرماتے ہیں:
وقد كتب شيخنا المذكور رسالة مستقلة فيها التفصيل. (ص ۹۹)
اور حضرت مولانا عبد الغنی رحمہ اللہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی اور حضرت گنگوہی دونوں کے شیخ ہیں ۔
(۲) دوسری اہم اور بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس ملک میں شکار کا زیادہ دستور ہے عام طور پر لوگ ایامِ تعطیلات میں شکار کے لیے جاتے ہیں اور شکار کرتے ہیں، اور جانور کافی مہنگے ہوتے ہیں مثلاً چار، پانچ ہزار کا ایک جانور ہوتا ہے، پھر گولی لگنے کے بعد شکار تک پہنچنا کبھی مشکل ہوتا ہے زیادہ مسافت کی وجہ سے، اس لیے کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ گولی لگنے کے بعد جانور شکاری کے پہنچنے سے پہلے ہی مر جاتا ہے، جس کی وجہ سے کافی نقصان ہوتا ہے، بنا بریں شکار کرنے والوں نے خصوصی توجہ دلائی کہ اس مسئلہ پر غور فکر کر کے شریعت کی روشنی میں صحیح رہنمائی کی جائے ۔
(۳) چونکہ ہر زمانہ میں آلات بدلتے رہتے ہیں چنانچہ فقہاء کے زمانہ میں بندوق کی نوعیت مختلف تھی جس کی وجہ سے اکثر فقہاء محدثین نے مٹی کے غلہ کو بندوق کہا ہے، اور ہمارے زمانہ میں بندوق کی نوعیت بالکل ہی جداگانہ اور مختلف ہے، لہذا ضرورت اس بات کی تھی کہ دونوں کے درمیان فرق واضح کیا جائے ۔ کیوں کہ ظاہر ہے کہ بدلتے ہوئے آلات سے احکام بھی بدلتے ہیں، جو حکم مٹی کے غلہ کا ہے وہ حکم نوک دار گولی کا یقیناً نہیں ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
باب (۲)

ما يؤكل لحمه من الحيوانات وما لا يؤكل

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.