گائے کے تین تھنوں میں دودھ نہ ہو تو قربانی کا حکم:

2 min readFatwa Vol 6 #136Urdu

Question

ایک شخص نے قربانی کے لیے دودھ دینے والی ایک گائے خریدی اس گائے کے تین تھنوں میں دودھ نہیں ہے اور ایک تھن میں دودھ ہے کیا اس گائے کی قربانی درست ہے یا نہیں؟

Answer

فقہاء کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر گائے کے تھن میں دودھ نہ آئے اور یہ کسی بیماری کی وجہ سے نہ ہو بلکہ ویسے ہی بلا علت دودھ منقطع ہو گیا ہو تو ایسی گائے کی قربانی جائز ہے، لیکن اگر کسی بیماری کے سبب گائے کے دو یا زیادہ تھنوں میں دودھ منقطع ہو گیا تو ایسی گائے کی قربانی ناجائز ہے ۔ بنا بریں صورتِ مسئولہ میں اگر گائے کے تین تھنوں میں بلا کسی علت و بیماری دودھ نہیں آتا تو قربانی درست ہے، اور اگر کسی بیماری کی وجہ سے ایسا ہو تو اس گائے کی قربانی کرنا جائز اور درست نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو خلاصۃ الفتاوی میں ہے:

وفي نظم الزندويستي خمسة عشر من الآفات لا يمنع جواز الأضحية

والتي لا ينزل لها لبن من غير علة. (خلاصة الفتاوى: ٤/۳۲۱، مكتبه رشيديه). (وكذا في لسان الحكام، ص ۳۸۸).
وفي الشامي: وذكر فيها (أي الخلاصة) جواز التي لا ينزل لها لبن من غير علة. (فتاوى الشامي: ٦/۳۲۵، سعيد). (وكذا في الفتاوى الهندية: ۵/۲۹۹).

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

وفي العتابية: والشطور لا يجزئ وهي من الشاة ما قطع اللبن عن إحدى ضرعها ومن الإبل والبقر إذا انقطع اللبن من ضرعيها لأن لكل واحد منهما أربع أضرع. (الفتاوى التاتارخانية: ۱۷/٤۰۳، مكتبه زكريا). (وكذا في فتاوى الشامي: ٦/۳۲۵، سعيد، والفتاوى الهندية: ۵/۲۹۹).

احسن الفتاوی میں ہے:
گائے کے دو تھن اور بکری کا ایک تھن خراب ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں ۔ (احسن الفتاوی: ۷/٤۸۷) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.