غیر مسلم کو قربانی کا گوشت دینے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 6 #143Urdu

Question

قربانی کا گوشت غیر مسلم کو دے سکتے ہیں یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ قربانی کا گوشت غیر مسلم کو دے سکتے ہیں، ہاں مسلمان کو دینا افضل اور اولی ہے۔ البتہ اضحیہ منذورہ میں سے دینا درست نہیں ہے۔
ملاحظہ ہو عالمگیری میں ہے:

ويهب منها ما شاء للغني والفقير والمسلم والذمي كذا في الغياثية. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۰۰).

اعلاء السنن میں ہے:

وللمضحي أن يهب كل ذلك أو يتصدق به أو يهديه لغني أو فقير مسلم أو كافر. (اعلاء السنن: ۱۷/۲۵۸، إدارة القرآن). (وكذا في حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ٤/۱٦٦، كوئته).
وانظر للمزيد: (اعلاء السنن: ۱۷/۲۸۳، إدارة القرآن).

حضرت تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قربانی گو خود واجب ہو مگر گوشت تقسیم کرنا واجب نہیں، پس وہ ہدیہ ہو گا یا صدقہ نافلہ اور حربی مصالح حکمِ مستامن ہے، لہذا اس کو دینا جائز ہے، البتہ جس قربانی کا گوشت تقسیم کرنا واجب ہو اس میں سے دینا جائز نہیں۔ (امداد الفتاوی:
۳
/
۵۵۰
)۔
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
سوال: کیا قربانی کا گوشت غیر مسلم کو دیا جا سکتا ہے؟
جواب: دیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ نذر کی قربانی نہ ہو۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ٤/
۲۰۹
)۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
کوئی واقعی مصلحت ہو تو دے سکتے ہیں مگر بہتر نہیں ہے کیوں کہ مسلمانوں میں غرباء کی کمی نہیں ہے۔ (فتاوی رحیمیہ:
۵
/٤
۱۵
)۔
مزید ملاحظہ ہو: (فتاوی محمودیہ:
۱۷
/٤
۳۵
، جامعہ فاروقیہ، و احسن الفتاوی:
۷
/٤
۹٦
، و فتاوی بینات: ٤/
۵٦۳
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.