مشترک کاروبار والے پر قربانی حکم:

1 min readFatwa Vol 6 #164Urdu

Question

اگر کئی افراد کسی کاروبار میں مشترک ہوں اور کچھ مال اس کاروبار سے حاصل ہو اور ہر ایک کے پاس انفراداً نصاب کے بقدر مال نہیں لیکن مجموعی رقم بقدرِ نصاب ہے تو کس پر قربانی واجب ہو گی؟

Answer

اگر ہر فرد کے حصہ میں بقدرِ نصاب مال آتا ہو یا اپنے دوسرے اموال کے ساتھ ملا کر صاحبِ نصاب بنتا ہو تو قربانی اس فرد پر واجب ہو گی لیکن نصاب کے بقدر نہیں ہے تو قربانی واجب نہ ہو گی ۔ خلاصہ یہ ہے کہ مجموعی رقم کا اعتبار نہیں ہے انفراداً نصاب کے بقدر مال کا اعتبار ہوگا ۔ (الفتاوی الہندیۃ: ۵ /۲۹۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.