اجتماعات میں مہمانی کا کھانا فروخت کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 6 #267Urdu

Question

ہمارے یہاں تبلیغی اجتماعات میں ہم اپنا کھانا تھوڑے سے نفع پر فروخت کرتے ہیں ۔ جب کہ بعض مرتبہ دوسرے حضرات کی طرف سے کھانے کی کچھ اشیاء بطورِ مہمانی مفت اجتماعات میں دی جاتی ہیں، تاکہ لوگوں کی مہمانی کی جائے، تو کیا اس طرح کے کھانے کو فروخت کر کے اس کا پیسہ دیگر اخراجات میں صرف کر سکتے ہیں یا نہیں؟ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کھانا خریدنے والے کو کسی وقت میں کھانا نہیں ملتا تو اس صورت میں کیا کرنا چاہیے؟ بینوا توجروا ۔

Answer

تبلیغی اجتماعات میں کھانا فروخت کرنا جائز اور درست ہے، اگر چہ باہر سے ہدایا بھی آتے ہیں، کیوں کہ اکثر و بیشتر کچا غلہ یا اشیائے خوردنی باہر سے بطورِ ہدیہ حاصل ہوتی ہیں ان کو تیار کرنے کے اخراجات اجتماعات کے منتظمین حضرات ادا کرتے ہیں، لہذا ان اخراجات کی قیمت وصول کرنا جائز اور درست ہے ۔
پھر بہت سی مرتبہ کھانے کی ایک دو چیزیں ہدیہ میں آتی ہیں اس کے ساتھ دیگر اشیاء ملا کر کھانا پکایا جاتا ہے ان کی قیمت وصول کرنا بھی جائز اور درست ہے ۔
پھر جو قیمت حاصل ہوتی ہے اس سے متعلق اجتماع کے منتظمین حضرات کو اختیار ہے دوسرے اخراجات وغیرہ میں صرف کر سکتے ہیں ۔
ہاں اگر کھانا کم ہو جائے اور پیسہ ادا کرنے والوں کو نہ پہنچے تو ان سے معافی مانگی جائے اور دوسرے وقت میں جلد آنے کو کہا جائے، اور اگر معاف نہ کریں تو ایک وقت کے کھانے کی رقم ان کو واپس کر دی جائے ۔
فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے کہ کرایہ دار دوسرے کرایہ دار کو زیادہ اجرت پر دے تو زیادتی اس صورت میں حلال ہو گی جب کہ کرایہ کی جنس مختلف ہو یا اس میں کچھ خرچہ وغیرہ کر دیا ہو تو زیادہ کرایہ لینا درست ہے ۔ ملاحظہ ہو علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

قوله لو أصلح فيها شيئاً، بأن جصصها أو فعل فيها مسناة وكذا كل عمل قائم لأن الزيادة بمقابلة ما زاد من عنده حملاً لا مره على الصلاح كما في المبسوط. (رد المحتار: ٦ / ۲۹، سعيد).
وفي الهندية: ولو زاد في الدار زيادة كما لو وتد فيها وتداً أو حفر فيها بئراً أو طيناً أو أصلح أبوابها أو شيئاً من حوائطها طابت له الزيادة. (الفتاوى الهندية: ٤/٤۲۵).

مذکورہ عبارات سے پتا چلتا ہے کہ دوسرے کی چیز میں کچھ اصلاح اور مرمت کر کے اس کے عوض کرایہ میں زیادہ وصول کر سکتے ہیں، اسی طرح مہمانی کے کھانے یا اشیائے خوردنی کو تیار کرنے کا خرچہ یا اور چیزیں ملائی گئی ہیں ان کی قیمت بصورتِ ثمن وصول کر سکتے ہیں ۔
پھر یہ قیمت بھی ایک قسم کا چندہ اور اجتماع کے امور میں معاونت کی غرض سے لی جاتی ہے، جس میں تسامح چلتا ہے ۔ اس وجہ سے بھی اس کی گنجائش ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.