قلب کی پیوند کاری کا حکم:
Question
کیا قلب کی پیوند کاری (heart transplant) جائز ہے یا نہیں؟ نیز اگر اختلاف ہے تو دونوں فریق کے دلائل بھی پیش کیجیے، اور مفتی رضاء الحق صاحب جس قول کو ترجیح دیتے ہیں اس کو بھی درج کیجیے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
جاننا چاہیے کہ اعضاء انسانی کی پیوند کاری کے سلسلہ میں علمائے کرام کے درمیان دو مختلف نظریات اور مذاہب پائے جاتے ہیں، بعض حضرات اس کے عدمِ جواز کے قائل ہیں اور دیگر حضرات اس کے جواز کے قائل ہیں، فی زماننا علماء کی ایک بڑی جماعت نے تحققِ ضرورت اور مختلف دلائل کی روشنی میں اس کے جواز کو ترجیح دی ہے، فریقین کے دلائل کی تفصیلات ما قبل میں گزر چکی ہیں، وہاں ملاحظہ کر لی جائیں۔
البتہ ایک آدمی کے قلب کو نکال کر دوسرے کو لگانا اس شخص کو قتل کرنے کے مترادف ہے لہذا دل کی پیوند کاری کی اجازت نہیں دی جا سکتی، دل و دماغ کے علاوہ ایسے اعضاء کی پیوند کاری جس پر اس کی زندگی موقوف نہ ہو ان میں اختلاف کی گنجائش ہے، مثلاً آنکھ، ایک گردہ وغیرہ اس کے متعلق مجوزین کے قول پر عمل کر سکتے ہیں۔
لیکن اگر مرنے کے بعد فوراً یا اطباء کے کہنے کے مطابق دماغی موت واقع ہو جانے کے بعد نکالا جائے جس میں قتل کا شبہ نہ ہو تو پھر مجوزین کے قول کے مطابق قلب کی پیوند کاری کی اجازت ہو گی جیسا کہ فی زماننا مروج ہے۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (مجلہ فقہ اسلامی، مرتب قاضی مجاہد الاسلام صاحب قاسمی رحمہ اللہ: ۱/۱٦۹۔ ۲٤۸، اعضاء کی پیوند کاری)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2560
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2560