طبی تجربہ کے لیے انسانی جسم کی تشریح کا حکم:
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: طبی تجربہ کے لیے جسم انسانی کو قطع برید کرنا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہے بعض علماء فرماتے ہیں تکریم انسان اور احترام آدمیت کا لحاظ کرتے ہوئے اس کی اجازت نہیں ہے ۔ اور حدیث شریف میں ہے:
عن عائشة أن رسول الله ﷺ قال: كسر عظم الميت ككسره حياً. (رواه أبو داود، رقم: ۳۳۰۷، وابن ماجه، رقم: ۱٦۱٦، وغيرهما).
قال الطيبي: فيه إشارة إلى أنه لا يهان الميت كما لا يهان الحي وقال ابن الملك وإلي أن الميت يتألم، وقال ابن حجر رحمه الله: من لوازمه أنه يستلذ بما يستلذ به الحي. قال في الدرجات: روينا في جزء بحديث ابن منيع عن جابر رضي الله عنه قال: خرجنا مع رسول الله ﷺ حتى إذا جئنا القبر إذا هو لم يفرغ، فجلس النبي ﷺ على شفير القبر، وجلسنا معه، فأخرج الحفار عظماً ساقاً أو عضداً، فذهب ليكسرها، فقال النبي ﷺ: "لا تكسرها، فإن كسرك إياه ميتاً ككسرك إياه حياً، ولكن دسه بجانب القبر" فاستفدنا منه سبب الحديث، انتهي. (بذل المجهود: ۱۰/٤۹۷، ط: دار البشائر الإسلامية). وينظر: (شرح الطيبي: ۳/۳۸۷، ومرقاة المفاتيح: ٤/۱۹۵).
فتاوی محمودیہ میں ہے:
شریعت نے مردہ انسانوں کا احترام اسی طرح ضروری قرار دیا ہے جس طرح زندہ کا، پس محض طبی تجربات کے لیے مردوں کا چیرنا پھاڑنا جائز نہیں، الخ ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۸/۳٤۰) ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (فتاوی محمودیہ: ۱۸/۳٤۰ ۔ ۳٤۵، جامعہ فاروقیہ، و بہشتی زیور، نواں حصہ، ص ۱۰۳، ط: دار الاشاعت) ۔
لیکن بعض دوسرے حضرات نے اس کی اجازت دی ہے ۔
نظام الفتاوی میں ص ٤۵٦ ۔ ٤۵۸ پر تفصیلی فتوی درج ہے جس کا خلاصہ حسبِ ذیل ہے:
میڈیکل کالج میں تعلیمی ضرورت کے لیے نعش پر عمل جراحی کرنا شرعاً جائز ہوگا اس لیے کہ آئین اسلام کا ضابطہ یہ ہے کہ دو ضرروں میں سے ایک ضرر اگر دوسرے ضرر سے اعظم ہو تو اشد ضرر کا اخف ضرر کے ذریعہ سے ازالہ کیا جائے گا جس کی ایک مثال مردہ عورت کے پیٹ کا بچہ نکالنے کے لیے چیرا جانا ہے
میڈیکل کالج میں چند مردوں کی نعش پر عمل جراحی کے باعث چونکہ سینکڑوں زندہ مریضوں کی جان بچتی ہے اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ ایک بچہ کی جان بچانے کے لیے ایک نعش پر عمل جراحی بلا اختلاف جائز ہوا اور سینکڑوں جان بچانے کے لیے چند نعشوں پر عمل جراحی جائز نہ ہو لہذا "
الأشباه"
کی تصریح کی بنا پر آئین اسلام کی رو سے اس میں کوئی شبہ نہیں رہتا ہے کہ میڈیکل کالج میں نعش پر عمل جراحی کیا جاتا ہے وہ شرعاً حدِ جواز کے اندر ہے ۔
اس تفصیلی فتوے پر دار العلوم دیوبند کے سابق مفتی حضرت سید مہدی حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
علمِ جراحی مسلمانوں کے لیے حاصل کرنا لازم اور ضروری ہے، اور ادھر یہ قاعدہ بھی ہے، "
الضرر يزال"،
اور "
الضرورات تبيح المحظورات"،
پس ضرورت اور مجبوریوں کی وجہ سے یہ عمل جراحی جائز ہے، چنانچہ مجیب، لبیب نے توضیح کی ہے ۔
دار العلوم دیوبند کے صدر مفتی حضرت مفتی نظام الدین رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
الجواب صحيح والمجيب نجيح
، خط کشیدہ عبارت تو بہت ہی مضبوط دلیل ہے اور آیتِ کریمہ:
ولكم في القصاص حيوة يا أولي الألباب،
اور آیتِ قتال کے اشارے بھی اسی طرف ہیں ۔ (منتخباتِ نظام الفتاوی، ص ٤۵۷، ٤۵۸) ۔
یاد رہے کہ احسن الفتاوی (۸/۳٤۱) میں نظام الفتاوی کے تفصیلی فتوے کی تردید فرمائی ہے ۔
من شاء فليراجع ثم.
فتوى هيئة كبار العلماء:
صدر قرار من مجلس هيئة كبار العلماء في حكم التشريح
وظهر أن الموضوع ينقسم إلى ثلاثة أقسام:
الأول: التشريح لغرض التحقق من دعوي جنائية.
الثاني: التشريح لغرض التحقق من أمراض وبائية لتتخذ على ضوئه الاحتياطات الكفيلة بالوقاية منها.
الثالث: التشريح للغرض العلمي تعلماً وتعليماً.
وبعد تداول الرأي والمناقشة ودراسة البحث المقدم من اللجنة المشار إليه أعلاه قرر المجلس ما يلي:
وأما بالنسبة للقسم الثالث وهو التشريح للغرض التعليمي: فنظراً إلى أن الشريعة الإسلامية قد جاء ت بتحصيل المصالح وتكثيرها وبدرء المفاسد وتقليلها وبارتكاب أدني الضررين لتفويت أشدهما، وأنه إذا تعارضت المصالح أخذ بأرجحها وحيث إن تشريح غير الإنسان من الحيوانات لا يغني عن تشريح الإنسان، وحيث إن في التشريح مصالح كثيرة ظهرت في التقدم العلمي في مجالات الطب المختلفة، فإن المجلس يري جواز تشريح جثة الآدمي في الجملة إلا أنه نظراً إلى عناية الشريعة الإسلامية بكرامة المسلم ميتاً كعنايتها بكرامته حياً، وذلك لما روي أحمد وأبو داود وابن ماجة عن عائشة رضي الله تعالى عنها أن النبي ﷺ قال: "كسر عظم الميت ككسره حياً" ونظراً إلى أن التشريح فيه امتهان لكرامته، وحيث إن الضرورة إلى ذلك منتفية بتيسير الحصول على جثث أموات غير معصومة، فإن المجلس يري الاكتفاء بتشريح مثل هذه الجثث وعدم التعرض لجثث أموات معصومين والحال ما ذكر. (فتاوى اللجنة الدائمة: ۵/۲۷۱).
اسلامک فقہ اکیڈمی کا فیصلہ:
المجمع الفقہی نے محسوس کیا کہ لاشوں کا پوسٹ مارٹم ایسی ضرورت ہے جس کی بنیاد پر پوسٹ مارٹم کی مصلحت انسانی لاش کی بے حرمتی کے مفسدہ پر فوقیت رکھتی ہے ۔
چنانچہ المجمع الفقہی طے کرتی ہے کہ: مندرجہ ذیل مقاصد کے تحت لاشوں کا پوسٹ مارٹم جائز ہے:
(ج) طب کی تعلیم و تدریس مقصود ہو جیسا کہ میڈیکل کالج میں رائج ہے ۔
بغرض تعلیم پوسٹ مارٹم میں درجِ ذیل شرائط کی رعایت ضروری ہے:
(الف) لاش اگر کسی معلوم شخص کی ہو تو موت سے قبل حاصل کی گئی خود اس کی اجازت یا موت کے بعد وارثین کی اجازت ضروری ہے، معصوم الدم لاش کا پوسٹ مارٹم بغیر ضرورت نہیں ہونا چاہیے ہونا چاہیے ۔
(ب) پوسٹ مارٹم بقدرِ ضرورت ہی کیا جائے تاکہ لاشوں کے ساتھ کھلواڑ کی صورت نہ پیدا ہو ۔
(ج) خواتین لاشوں کا پوسٹ مارٹم خواتین ڈاکٹروں کے ذریعہ ہی کرنا ضروری ہے ۔
تمام حالات میں پوسٹ مارٹم شدہ لاش کی تدفین واجب ہے ۔ (عصر حاضر کے پیچیدہ سائل کا شرعی حل، ص ۱۸۳) ۔
مولانا بدر الحسن القاسمی صاحب تفصیلی بحث کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
ان تمام مسائل میں اگر غور کیا جائے تو قدر مشترک یہی بات نکلتی ہے کہ عمومی مصالح کی خاطر انفرادی نقصان کو انگیز کیا جا سکتا ہے ان ہی نظائر کو سامنے رکھ کر موجودہ زمانہ کے فقہاء و اربابِ افتا کا عام رجحان یہی ہے کہ پوسٹ مارٹم میں جو فوائد ہیں ان کے پیش نظر لاش کی قطع و برید سے ہونے والی اہانت گوارا کی جائے گی خاص طور پہ جب کہ پوسٹ مارٹم کا مقصود لاش کی اہانت ہرگز نہیں ہوا کرتی، لیکن اس میں بھی احتیاط ضروری ہے کہ تعلیم کے مقصد سے پوسٹ مارٹم کے لیے ان لاشوں کا استعمال کیا جائے جو لا وارث اور غیر معصوم ہوں، مسلمان کی لاش کو انتہائی مجبور کن حالات کے علاوہ ہاتھ نہ لگایا جائے ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔ (عصر حاضر کے فقہی مسائل، ص ۸۳) ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (نظام الفتاوی، ص ٤۵٦ ۔ ٤۵۸، و عصر حاضر کے فقہی مسائل، ص ۷٦ ۔ ۸۳، ط: حیدر آباد، و عصر حاضر کے پیچیدہ مسائل کا شرعی حل، ص ۱۸۳ ۔ ۱۸٤، ط: ادارۃ القرآن) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2585
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2585