تعدیہ امراض اور ایڈز کا متعدی ہونا:
Question
"
لا عدوى ولا طيرة"
والی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ امراض متعدی نہیں ہوتے پھر ایڈز کیسے متعدی ہوا؟
Answer
اس کے مختلف جوابات ہیں: (۱) "
لا عدوى في كل مرض"،
یعنی ہر مرض متعدی نہیں، ہاں بعض امراض متعدی ہیں آنحضور ﷺ نے فرمایا: "
فر من المجذوم فرارك من الأسد"
۔ جذامی سے یوں بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ہیں ۔
(۲) حضرت شیخ عبد الفتاح ابو غدہ صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہاں نفی نہی کے معنی میں ہے جیسے: "
فلا رفث ولا فسوق ولا جدال في الحج"
یعنی فحش کلامی مت کرو، فسق و فجور اور جھگڑے حج میں مت کرو ۔ تو یہ معنی ہوا کہ امراض متعدیہ کو متعدی مت کرو، اگر قصداً کرو تو گناہ کا اندیشہ ہے ۔
قال الشيخ عبد الفتاح: معني هذا الحديث الشريف عندي: (لا عدوي) أي لا يعد بعضكم بعضاً، أي ليمتنع صاحب المرض المعدي عن مخالطة الأصحاء، خشية أن يعديهم بتقدير الله تعالى، ولفظة (لا) هنا للنهي كقوله تعالى: ﴿فمن فرض فيهن الحج فلا رفث ولا فسوق ولا جدال في الحج﴾ أي فلا يرفث ولا يفسق ولا يجادل في أثناء قيامه بالحج. (تعليقات الموضوعات الصغير، ص ٤۷، ط: مكتبة المطبوعات الإسلامية).
(۳) بعض امراض متعدی تو ہوتے ہیں لیکن درجہ یقین میں نہیں اس لیے ان کی تعدی کو یقینی مت سمجھو جیسے ٹی بی متعدی مرض ہے لیکن بہت مرتبہ متعدی نہیں ہوتا ۔ مجھے خود ٹی بی کی بیماری تھی اور مدرسہ میں ساتھیوں کے ساتھ ایک پلیٹ میں کھانا کھاتا تھا مگر کسی کو مرض متعدی نہیں ہوا، اور ایسے موقعے پر فرمایا: "
فمن أعدي الأول"
۔ پہلے کو کس نے بیماری لگائی ۔
(٤) اگر کوئی مرض یقینی طور پر یا ظنی طور پر متعدی ہے جیسے ایڈز اور لا عدوی تمام امراض کو شامل سمجھ لیں تو پھر معنی یہ ہے کہ مرض میں متعدی ہونے کی خاصیت از خود پیدا نہیں ہوئی بلکہ یہ تاثیر اللہ تعالی نے رکھی جیسے: "
وما رميت إذ رميت"
کے معنی یہ ہیں کہ ایک مٹھی کنکریوں میں اتنی تاثیر آپ نے نہیں اللہ تعالی نے رکھی ۔
(۵) بیماری درجہ توکل میں منتقل نہیں ہوتی اور درجہ اسباب میں بعض متعدی بیماریوں سے بچنا چاہیے، جیسے حضرت ابو بکر صدیق رضي اللہ عنہ نے کل مال کو صدقہ فرمایا اور آپ ﷺ نے قبول فرمایا اور حضرت کعب بن مالک رضي الله عنه کے کل مال کے صدقہ کو قبول نہیں فرمایا کیونکہ حضرت ابو بکر صدیق رضي اللہ عنہ توکل کے اعلی درجہ پر فائز تھے، اسی کی طرف حضرت جابر رضي الله عنه کی درجِ ذیل حدیث میں اشارہ ہے:
أن رسول الله ﷺ أخذ بيد مجذوم فأدخله معه في القصعة ثم قال: كل بسم الله ثقة بالله وتوكلاً عليه. (رواه الترمذي، رقم: ۱۸۱۷، باب ما جاء في الأكل مع المجذوم).
(٦) ایک جواب یہ بھی دیا گیا ہے کہ جاہلیت کے عقیدہ کے مطابق بیماری اڑ کر منتقل ہوتی تھی اور موجود ہ تحقیقات اور شریعت کی نظر میں بیماری کے اسباب اور جراثیم اور وائرس منتقل ہوتے ہیں تو
"لا عدوي"
میں ان کے عقیدے کی نفی ہے ۔
(۷) شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ تعالی نے اس کی یہ توجیہ فرمائی ہے کہ اگر کسی کی بیماری اتفاقاً کسی کو لگ گئی تو اس کی بنا پر اس پر مقدمہ چلا کر اس سے تاوان یا قصاص و دیت کا مطالبہ نہیں ہو سکتا ۔ (حجۃ اللہ البالغہ: ۲/۳٤۳، ط: قدیمی) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
متعدی امراض سے احتیاطی تدابیر کے نظائر:
مظنون التعدی امراض سے حفاظتی تدابیر کے چند نظائر ملاحظہ فرمائیے:
(۱) بخاری اور مسلم کی روایت میں ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بیمار اونٹ کو صحتمند اونٹ کے پاس نہ لایا جائے۔
عن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله ﷺ: لا يوردن ممرض على مصح. (رواه البخاري، رقم ۵۷۷۰، ومسلم، رقم ۲۲۲۱).
دوسری حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجذوم سے ایسے بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ہو۔
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ قال:
وفر من المجذوم كما تفر من الأسد. (أخرجه البخاري تعليقاً، باب الجذام).
مسلم شریف کی روایت میں ہے حضرت شرید رضي الله عنه کہتے ہیں کہ قبیلہ بنو ثقیف کے وفد میں ایک مجذوم شخص بھی تھا نبی ﷺ نے اس کو پیغام بھیجا کہ ہم نے تمہیں بیعت کر لیا ہے، لہذا تم لوٹ جاؤ۔
عن عمرو بن الشريد عن أبيه قال: كان في وفد ثقيف رجل مجذوم فأرسل إليه النبي ﷺ إنا قد بايعناك فارجع. (رواه مسلم، رقم: ۲۲۳۱).
(۲) حدیث میں آتا ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی کے مشروب میں مکھی گر جائے تو اس کو ڈبو دو، پھر نکال دو کیوں کہ اس کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے میں شفا۔
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: إذا وقع الذباب في شراب أحدكم فليغمسه ثم لينزعه فإن في إحدى جناحيه داء والأخرى شفاء. (رواه البخاري، رقم: ۳۳۲۰).
اور صحیح ابن خزیمہ کی روایت میں یہ زیادتی موجود ہے:
وأنه يتقي بجاحه الذي فيه الداء فليغمسه كله ثم لينزعه. (صحيح ابن خزيمة، رقم: ۱۰۵).
یعنی وہ اپنے اس پر کو مقدم کرتی ہے جس میں بیماری ہوتی ہے لہذا اسے پوری طرح ڈبو دو۔
(۳) حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال دے تو اس میں موجود پانی وغیرہ کو بہا دو اور برتن کو سات مرتبہ دھو ڈالو۔
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: إذا ولغ في إناء أحدكم فليرقه ثم ليغسله سبع مرار. (رواه مسلم، رقم: ۲۷۹).
شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کی ترمذی کی تقریر میں ہے:
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سات مرتبہ دھونے کو مستحب کہتے ہیں اور تین مرتبہ فرض قرار دیتے ہیں اور اس کی خباثت پر "
لا تدخل الملائكة"
والی روایت دلالت کرتی ہے اور بعض بزرگوں سے منقول ہے کہ نسیاناً سور کلب پینے سے ان کے قلب کا نور چلا گیا اور آج کل سائنس نے ثابت کر دیا ہے کہ لعابِ کلب میں زہریلے جراثیم ہوتے ہیں جب تک سات مرتبہ پانی سے دھویا نہ جائے اور ایک مرتبہ مٹی سے نہ مانجا جائے تو وہ زہریلے جراثیم زائل نہیں ہوتے بلکہ وہ انسانی صحت کے لیے مضر ہیں باؤلے کتے کا زہریلا پن تو واضح ہے تو تین مرتبہ دھونے سے طہارت حاصل ہو جاتی ہے سات مرتبہ دھونا شفا حاصل کرنے کے لیے ہے۔ (تقریر ترمذی، ص ۱۹۱۔ ۱۹۲)۔
شیخ احمد شآ کر مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
قد ظهر من البحوث الطبية الحديثة: أن وجه غسل الإناء سبعاً من ولوغ الكلب هو: أن في أمعاء أكثر الكلاب دودة شريطية صغيرة جداً طولها ٤ مليمترات. فإذا راث الكلب خرجت بويضاتها بكثرة في الروث، فيلصق أكثر منها بالشعر الذي بالقرب من دبره، وعادة الكلب أن ينظف مخرجه بلسانه فيتلوث لسانه وفمه بها، وتنشر في بقية شعره بواسطة لسانه أو غيره، فإذا ولغ الكلب في إناء أو قبله انسان ـ كما يفعل الافرنج ومقلدوهم ـ علقت بعض هذه البويضات بتلك الأشياء وسهل وصولها إلى فمه في أثناء أكله أو شربه، فتصل إلى معدته وتخرج منها الأجنة فتثقب جدار المعدة والأمعاء، وتصل إلى أوعية الدم فتحدث أمراضاً كثيرة في المخ والقلب والرئة إلى غير ذلك، ولما كان تمييز الكلب المصاب بهذه الدودة عسيراً جداً، لأنه يحتاج إلى زمن طويل وبحث دقيق بالآلة التي لا يعرف استعمالها إلا قليل من الناس، لأن اعتبار الشارع إياه موبوء اً والغسل من ولوغه سبع مرات إنقاء للإناء بحيث لا يعلق فيه شيء مما ذكرناه، هو عين الحكمة والصواب. (تعليق أحكام الأحكام شرح عمدة الأحكام، ص ۳۰، ۳۱).
(و کذا فی احکام اسلام عقل کی نظر میں، ص ٤۷)۔
(٤) فقہاء نے اسبابِ حرمت میں سے ایک سبب یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ وہ چیز جسمِ انسانی کے لیے ضرر رساں نہ ہو ورنہ اس کا کھانا جائز نہیں ہے، یعنی شریعتِ مطہرہ کی طرف سے یہ جسمِ انسانی کے حفاظت کی احتیاطی تدبیر ہے۔
ملاحظہ ہو الموسوعہ میں فرماتے ہیں:
ما يحرم أكله لا سباب مختلفة: يظهر من الاستقراء وتتبع تعليلات فقهاء المذاهب فيما يحكمون بحرمة أكله أنه يحرم أكل شيء مهما كان نوعه لا حد أسباب خمسة: ــ
السبب الأول: الضرر اللاحق بالبدن أو العقل: ولهذا أمثلة كثيرة: منها: الأشياء السامة سواء كانت حيوانية
أم كانت نباتية
أم جمادية
ومنها: الأشياء الضارة وإن لم تكن سامة، وقد ذكر منها في كتب الفقه: الطين، والتراب، والحجر، والفحم، على سبيل التمثيل، وإنما تحرم على من تضره. ولا شك أن هذا النوع يشمل ما كان من الحيوان أو النبات أو الجماد، ويعرف الضار من غير الضار من أقوال الأطباء والمجربين.
ولا فرق في الضرر الحاصل بالسميات أو سواها بين أن يكون مرضاً جسمانياً أيا كان نوعه، أو آفة تصيب العقل كالجنون والخبل. (الموسوعة الفقهية: ۵/۱۲۵، ط: وزارة الاوقاف).
نیز فقہاء نے فرمایا کہ مٹی کھانا بھی مکروہ ہے کیوں کہ اس کی وجہ سے جسم میں کوئی بیماری یا کسی مصیبت کے پہنچنے کا اندیشہ ہے، یہ بھی ایک احتیاطی تدبیر کے قبیل سے ہے۔
ملاحظہ ہو فتاوی ہندیہ میں ہے:
أكل الطين مكروه هكذا ذكر في فتاوى أبي الليث رحمه الله تعالى وذكر شمس الأئمة الحلواني في شرح صومه: إذا كان يخاف على نفسه أنه لو أكله أورثه ذلك علة أو آفة لا يباح له التناول وكذلك هذا في كل شيء سوى الطين
وكراهية أكله لا للحرمة بل لتهييج الداء. (الفتاوى الهندية: ۵/۳٤۰).
(وكذا في المحيط البرهاني: ۵/۲۰٦، الفصل الثاني عشر في الكراهية في الأكل، ط: دار إحياء التراث العربي، ونصاب الاحتساب، ص ۱٤۸، الباب العاشر، في الاحتساب في الأكل والشرب والتداوي، ونفع المفتي والسائل، ص: ۳۷۹، ما يتعلق بالأكل والشرب، ط: دار ابن حزم).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2593
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2593