شلوار پہننے کا ثبوت:

6 min readFatwa Vol 7 #6Urdu

Question

آنحضرت ﷺ سے شلوار کا پہننا ثابت ہے یا نہیں؟ نیز شلوار بہتر ہے یا ازار؟

Answer

بعض ضعیف روایات سے شلوار پہننے کا ثبوت ملتا ہے، البتہ شلوار خریدنا اور اس کو پسند کرنا صحیح احادیث سے ثابت ہے، نیز شلوار کا پہننا بہتر ہے اس لیے کہ یہ استر ہے ۔
ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: دخلت مع رسول الله ﷺ السوق فقعد إلى البزازين فاشتري سراويل بأربعة دراهم

قلت: يا رسول الله! إنك لتلبس السراويل قال: نعم، بالليل والنهار وفي السفر والحضر، فإني أمرت بالتستر فلم أجد ثوباً بأستر من السراويل. (رواه البيهقي في شعب الإيمان، رقم ۵۸۳۰، والطبراني في الأوسط، رقم: ٦۵۹٤، وأبو يعلي في مسنده، رقم: ٦۱٦۲، وقال محشيه: إسناده ضعيف جداً).
قال الهيثمي في المجمع (۵/۱۲۲، دار الفكر): رواه أبو يعلي والطبراني في الأوسط وفيه يوسف بن زياد البصري وهو ضعيف.

حضرت ابو ہریرہ
رضي الله عنه
فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک دن بازار گیا آپ ﷺ ایک کپڑا فروش کے پاس تشریف فرما ہوئے، اس سے آپ ﷺ نے چار درہم میں ایک پاجامہ خریدا (حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنه فرماتے ہیں) میں نے آپ سے پوچھا کیا آپ پاجامہ پہنتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! رات میں بھی دن میں بھی، سفر میں بھی حضر میں بھی، مجھے ستر پوشی کا حکم دیا گیا ہے، اور شلوار سے زیادہ ستر پوش کسی اور کپڑے کو نہیں پاتا ۔

وعن على رضي الله عنه قال: كنت قاعداً عند النبي ﷺ عند البقيع يعني بقيع الغرقد في يوم مطر فمرت امرأة على حمار ومعها مكار فمرت في وهدة (أي منخفض من الأرض) من الأرض فسقطت فأعرض عنها بوجهه فقالوا: يا رسول الله أنها متسرولة فقال: اللهم اغفر للمتسرولات من أمتى، رواه البزاز وفيه إبراهيم بن زكريا المعلم وهو ضعيف جداً. (مجمع الزوائد: ۵/ ۱۲۲، دار الفكر).

اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے شلوار پہننے والیوں کے لیے دعائے مغفرت فرمائی۔
شلوار خریدنے کی صحیح روایت ملاحظہ ہو:

عن سويد بن قيس قال: جلبت أنا ومخرفة العبدي بزاً من هجر فأتانا رسول الله ﷺ ونحن بمنى ووزان يزن بالأجر فاشترى منا سراويل فقال للوزان: زن وأرجح. (رواه النسائي في سننه، رقم: ٤٦۰٦، والحاكم في المستدرك، رقم: ۲۲۳۰و۷٤۰۷، وقال: هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه).

ازار کے بارے میں روایات ملاحظہ ہوں:

عن أنس رضي الله عنه عن رسول الله ﷺ قال: الإزار إلى نصف الساق أو إلى الكعبين لا خير في أسفل من ذلك. رواه أحمد والطبراني في الأوسط ورجال أحمد رجال الصحيح. وعن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ كان يري عضلة ساقه من تحت إزاره إذا ائتزر. رواه أحمد وفيه صالح بن نبهان مولي التوأمة وقد اختلط وبقية رجاله رجال الصحيح. وعن سلمة بن الأكوع أن عثمان كان يتزر على نصف الساق وقال: هكذا أزرة رسول الله ﷺ. رواه البزار وفيه موسي بن عبيدة وهو ضعيف. (مجمع الزوائد: ۵/ ۱۲۲، باب في الإزار وموضعه، دار الفكر).

شمائل کبری میں ہے:
ایک حدیث میں ہے کہ آپ نے پاجامہ پہنا ہے اور حضراتِ صحابہ آپ کے حکم سے پاجامہ پہنتے تھے گو آپ ﷺ سے ثابت نہ ہو مگر پہننے کے ارادے سے خریدنا تو ثابت ہے۔
البتہ یہ محقق ہے کہ حضور پاک ﷺ کے پاس پاجامہ موجود تھا، حتی کہ کہا گیا ہے کہ وصال کے بعد ترکہ میں بھی تھا۔
حضرت ابو ہریرہ
رضي الله عنه
سے مرفوعاً روایت ہے کہ سب سے پہلے جس نے پاجامہ پہنا وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے، اسی پاجامہ کی وجہ سے ان کو قیامت کے دن سب سے پہلے لباس پہنایا جائے گا۔
پاجامہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے اور آپ ﷺ نے بھی پسند کیا ہے اور سنتِ ابراہیمی کی اتباع محمود اور امت سے مطلوب ہے۔ منی کے میدان میں خریدنا صحاح سے ثابت ہے، ظاہر ہے کہ یہ پہننے ہی کے لیے تھا۔ (زاد المعاد) علامہ عینی رحمه الله نے پاجامہ پہننا مستحب قرار دیا ہے۔ (شمائل کبری:
۱
/
۱۷۵
)۔
احسن الفتاوی میں ہے:
ازار لنگی کو کہتے ہیں، لنگی اور شلوار دونوں سنن عادیہ میں سے ہیں، چونکہ اس زمانے میں لنگی ہی کا عام دستور تھا، اس لیے آپ ﷺ کا بھی عام معمول لنگی باندھنے کا تھا، مگر شلوار کو بھی آپ نے پسند فرمایا اور خریدا، جس سے پہننے کا ثبوت ملتا ہے اور بعض روایات میں پہننے کی تصریح بھی ہے اور بعض سے اس کی فضیلت ثابت ہے، علاوہ ازیں شریعت میں تستر کی بہت اہمیت ہے اور ظاہر ہے کہ تستر شلوار میں زیادہ ہے اس لیے شلوار پہننا افضل ہے۔ (احسن الفتاوی:
۹
/
٤۰
)۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
پاجامہ خریدنا اور پسند فرمانا تو ثابت ہے، ایک روایت میں پہننا بھی منقول ہے، اس کی کیفیت کا علم نہیں، زیادہ تر لنگی ہی استعمال فرماتے تھے، (فتاوی محمودیہ:
۱۹
/
۲۷۵
، جامعہ فاروقیہ)۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (فتح الباری:
۱۰
/
۲۷۲
، و عمدۃ القاری:
۱۵
/
۲۱
، دار الحدیث ملتان، و شمائل کبری:
۱
/
۱۷۳
۔
۱۷٦
، و فتاوی شیخ الاسلام، ص
۱۱۲
، و فتاوی محمودیہ مع التعلیقات:
۱۹
/
۲۷۵
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.