صلیب کی علامت والے زیورات پہننے کا حکم:
Question
کیا مسلمان عورت کے لیے جائز ہے کہ ایسا زیور یا ہار پہنے جس میں صلیب ہو جو کہ عیسائیوں کا خاص مذہبی نشان ہے؟ اور یہ صرف زینت کے لیے ہے ۔ بینوا توجروا ۔
Answer
عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی علی نبینا و علیہ الصلاۃ و السلام مظلوم مصلوب ہوے اور شہید کیے گئے، اس وجہ سے صلیب اپنے باطل مذہب کی علامت بنا لی، اللہ تعالی نے اس عقیدہ کو قرآنِ پاک میں باطل قرار دیا ہے، لہذا اگر کوئی مسلمان عیسائی مذہب کے احترام میں صلیب کا نشان اختیار کرے تو کفر ہے اور ویسے ہی بطورِ زینت استعمال کرے تب بھی جائز اور درست نہیں ہے ۔ ملاحظہ ہو مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:
عن عائشة رضي الله عنه قالت: إنا لانلبس الثياب التي فيها الصليب. وعن أبي جحاف قال: سألت أبا جعفر عن تابوت لي فيه تماثيل فقال: حدثني من رأي عمر رضي الله عنه يحرق ثوباً فيه صليب، ينزع الصليب منه. وعن ابن عون، عن محمد؛ أن النبي ﷺ رأي على بعض أزواجه ستراً فيه صليب، فأمر به فقضب. (مصنف ابن أبي شيبة: ۸/۱۹٦، كتاب اللباس).
وقال ابن ملك: الصليب في اصطلاح النصارى خشبة مثلثة يدعون أن عيسى عليه الصلاة والسلام صلب على خشبة مثلثة على تلك الصورة وقد يكون فيه صورة المسيح. (عون المعبود: ۱۱/۳۰٦، ط: بيروت).
وفي رد المحتار: أقول: والظاهر أنه يلحق به الصليب وإن لم يكن تمثال ذي روح لان فيه تشبها بالنصارى ويكره التشبه بهم في المذموم وإن لم يقصده كما مر. (فتاوى الشامي: ۱/٦٤۸، سعيد).
فتاوی محمودیہ میں ہے:
ٹائی ایک وقت میں نصاری کا شعار تھا، اس وقت اس کا حکم بھی سخت تھا، اب غیر نصاری بھی بکثرت استعمال کرتے ہیں، اب اس کے حکم میں تخفیف ہے، اس کو شرک یا حرام نہیں کہا جائے گا، کراہیت سے اب بھی خالی نہیں، کہیں کراہیت شدید ہوگی، کہیں ہلکی، جہاں اس کا استعمال عام ہو جائے وہاں اس کے منع پر زور نہیں دیا جائے گا ۔ (فتاوی محمودیہ:
۱۹
/
۲۸۹
، مبوب و مرتب) ۔
البتہ بعض حضرات نے عیسائیوں کا مذہبی شعار بتلا کر اسے ناجائز قرار دیا ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی محمودیہ کی تعلیق و حاشیہ میں مرقوم ہے:
ٹائی کا استعمال اگر چہ مسلمانوں میں بھی عام ہو گیا ہے مگر اس کے باوجود انگریزی لباس کا حصہ ہی ہے، اگر انگریزی لباس تصور نہ کیا جائے، لیکن فساق و فجار کا لباس تو بہر حال ہے، لہذا تشبہ بالفساق کی وجہ سے ممنوع قرار دیا جائے گا، دوسری بات یہ ہے کہ اہل صلاح اس لباس کو پسند بھی نہیں کرتے، کیوں کہ یہ علماء و صلحاء کے لباس کے خلاف ہے، تیسری بات یہ ہے کہ اس کے علاوہ ٹائی میں ایک اور خرابی یہ بھی ہے کہ عیسائی اس سے اپنے عقیدہ "صلیبِ عیسی علیہ السلام" یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کے مصلوب کیے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو کہ نصِ قرآنی کے خلاف ہے، لہذا تشبہ بالکفار کے ساتھ ساتھ عیسائیوں کے مذہبی یاد گار اور مذہبی شعار ہونے کی وجہ سے بھی پہننا جائز نہیں: (البتہ بعض علماء کو اس کے صلیبی نشانی اور مذہبی شعار ہونے میں کلام ہے ۔)
وعن ابن عمر رضي الله تعالى عنهما قال: قال رسول الله ﷺ: "من تشبه بقوم" أي من شبه نفسه بالكفار مثلاً في اللباس وغيره أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار، "فهو منهم" في الإثم والخير، قال الطيبي رحمه الله: هذا عام في الخَلق والخُلق والشعار ولما كان الشعار أظهر في التشبه
(مرقاة المفاتيح، كتاب اللباس، ۷/۱۵۵، رشيدية). (
مستفاد از حاشیہ فتاوی محمودیہ:
۱۹
/
۲۸۹
، مبوب و مرتب) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2675
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2675