ڈاڑھی کی حدودِ اربعہ و مذاہبِ اربعہ میں اس کا حکم:
Question
ڈاڑھی کی حد کیا ہے کیا رخسار اور خدین سے نیچے کے بال ڈاڑھی کی حد میں داخل ہیں یا اس کا کاٹنا جائز ہے؟ کیا چہرے کی گول ہڈی یعنی رخسار سے نیچے کے بال کاٹنا جائز ہے یا نہیں؟ آج کل طلبہ اور بعض دیگر حضرات نے یہ طریقہ اختیار کر لیا ہے اور یہ رواج بہت عام ہوتا جا رہا ہے ایک پٹی سی چھوڑ دیتے ہیں اور گول ہڈی سے بہت نیچے تک خط بناتے ہیں، کیا شرعاً یہ سنت کے مطابق ہے یا خلاف سنت؟ اور ٹھوڑی کے اوپر زیر لب ہونٹ کے نیچے کے بال جس کو ریش بچہ کہتے ہیں ان کے کاٹنے کا کیا حکم ہے؟ امید ہے کہ مدلل جواب عنایت فرما کر ممنون و مشکور فرمائیں ۔
Answer
واللہ الموفق للصواب:
شریعتِ مطہرہ نے مردوں پر ڈاڑھی رکھنے کو واجب اور لازم قرار دیا ہے، اور اس کی کم از کم حد طولاً و عرضاً ایک مشت ہے، یعنی ڈاڑھی ایک مشت سے کم کرنا نا جائز ہے، یہ ائمہ اربعہ کا متفقہ اور مسلمہ حکم ہے ۔ ایک مشت سے پہلے ڈاڑھی کٹانے والا یا چھوٹی رکھنے والا فاسق و فاجر ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں بخاری شریف میں ہے:
عن ابن عمر رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: خالفوا المشركين، وفروا اللحى وأحفوا الشوارب. (رواه البخاري: ۲/۸۷۵، باب تقليم الأظفار، ط: فيصل).
مسلم شریف میں ہے:
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: جزوا الشوارب وأرخوا اللحى، خالفوا المجوس. (رواه مسلم: ۱/۱۲۹، باب خصال الفطرة، فيصل).
علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ مشرکین کی مخالفت ڈاڑھی بڑھانے میں ہے، اس لیے کہ مشرکین ڈاڑھی کو چھوٹی کرتے تھے ۔
ملاحظہ ہو عمدۃ القاری میں ہے:
لأنهم كانوا يقصرون لحاهم ومنهم من كان يحلقها. (عمدة القاري: ۱۵/۹۰، دار الحديث، ملتان).
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2695
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2695