مونچھوں کے تراشنے کا حکم:

29 min readFatwa Vol 7 #106Urdu

Question

مونچھوں کا تراشنا اور کم کرنا افضل ہے یا حلق یعنی بال بالکل جڑ سے صاف کرنا اولی ہے؟ برائے کرم مفصل و مدلل جواب عنایت فرما کر اجر عظیم کے مستحق ہوں ۔

Answer

شریعتِ مطہرہ میں مونچھوں کا تراشنا اور بالکل بالوں کا جڑ سے صاف کرنا دونوں ہی جائز اور درست ہے ۔ نیز فقہاء کی بعض عبارات افضلیتِ قص پر دال ہیں اور بعض افضلیتِ احفاء و حلق پر، تاہم صحیح احادیث، اور بعض فقہی روایات کی روشنی میں قصر اور کم کرنا افضل اور بہتر ہے ۔
مونچھوں کے کاٹنے سے متعلق چند روایات ملاحظہ کیجیے:

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: قصوا الشوارب وأعفوا اللحى. (أخرجه أحمد في مسنده، رقم: ۷۱۳۲).
قال الشيخ شعيب الأرناؤوط: صحيح وهذا إسناد حسن.
عن ابن عمر رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: أنهكوا الشوارب وأعفوا اللحى. (رواه البخاري، رقم: ۵۸۹۳).
عن ابن عمر رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: أحفوا الشوارب وأعفوا اللحى. (رواه مسلم، رقم: ۲۵۹).
وفي رواية له عنه خالفوا المشركين أحفوا الشوارب وأوفوا اللحى. (رقم: ٦۲۵).
عن أبي هريرة رضي الله عنه، رواية: الفطرة خمس أو خمس من الفطرة: الختان والاستحداد ونتف الإبط وتقليم الأظفار وقص الشارب. (رواه البخاري: ۲/ ۸۷٤، باب قص الشارب).
عن ابن عمر رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: من الفطرة قص الشارب. (رواه البخاري، رقم: ۵۸۸۸).
عن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت: قال رسول الله ﷺ: عشر من الفطرة: قص الشارب

الخ. (رواه مسلم، رقم: ۲٦۱).
قال الإمام النسائي: أخبرنا محمد بن عبد الله بن يزيد المقرئ المكي قال: حدثنا سفيان عن الزهري عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: الفطرة خمس: الختان، وحلق العانة، ونتف الإبط، وتقليم الأظفار، وحلق الشارب. (سنن النسائي الكبري: ۱/٦۵/۹، أبواب الفطرة، عدد الفطرة).

نسائی شریف کی ایک روایت میں
"حلق الشارب"
کا لفظ آیا ہے، اور یہ شاذ ہے ۔
حافظ عراقی رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ روایت سنداً بالکل صحیح ہے، اس کے رجال سب ثقات ہیں، لہذا سند پر کوئی کلام نہیں، لیکن دراصل لفظ
"حلق الشارب"
کی تحقیق مطلوب ہے ۔
چنانچہ مذکورہ بالا سند میں محمد بن عبد اللہ بن یزید مکی نے سفیان بن عیینہ سے روایت کرتے ہوے "
حلق الشارب"
بیان کیا ہے لیکن سفیان بن عیینہ سے اس روایت کو نقل کرنے والے درجِ ذیل چند روات ہیں: ۔
(۱) امام احمد بن حنبل (۲) علی بن المدینی (۳) ابوبکر بن ابی شیبہ (٤) عمرو بن محمد الناقد (۵) زہیر بن حرب (٦) مسدد بن مسرہد ۔ (۷) زکریا بن یحیی بن اسد ۔ (۸) اسحاق بن ابراہیم ۔ (۹) سریج بن یونس ۔ (۱۰) حمیدی ۔
یہ کل دس حضرات سفیان بن عیینہ رحمه الله سے روایت کرتے ہیں اور سب کی روایت میں
"قص الشار ب"
کا لفظ ہے ۔ ہر ایک کی روایت ملاحظہ کیجیے:

(
۱
) أحمد بن حنبل، حدثنا سفيان، عن الزهري عن سعيد عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ وقال سفيان: مرة رواية: خمس من الفطرة: الختان، والاستحداد وقص الشارب، وتقليم الأظفار، ونتف الإبط. (مسند أحمد، رقم: ۷۲٦۱).
(
۲
) قال الإمام البخاري: حدثنا على حدثنا سفيان قال الزهري، ثنا عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة رضي الله عنه، رواية: الفطرة خمس

وقص الشارب. (رواه البخاري: ۲/ ۸۷٤).
(
۳
) حدثنا أبوبكر بن أبي شيبة و(
٤
) عمرو الناقد و(
۵
) زهير بن حرب جميعاً عن سفيان قال أبوبكر حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: الفطرة خمس

وقص الشارب. (رواه مسلم: ۱/۱۲۸، فيصل).
ورواه ابن ماجه عن أبي بكر بن أبي شيبة مثله. (ابن ماجه، ۲۵).
ورواه أبو يعلي عن عمرو الناقد عن سفيان، مثله. (رقم: ۵۸۷۲).
(
٦
) حدثنا مسدد حدثنا سفيان عن الزهري عن سعيد عن أبي هريرة رضي الله عنه يبلغ به النبي ﷺ: الفطرة خمس

قص الشارب. (رواه أبو داود: ۲/۵۷۷/٤۲۰۰).
(
۷
) حدثنا زكريا بن يحيى بن أسد قال: ثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن سعيد المسيب عن أبي هريرة رضي الله عنه

الخ. (أخرجه الإمام أبو عوانة في مستخرجه، ٤۷۱).
أيضاً أخرجه البيهقي في الصغرى (۳٤٦٤) والكبرى (۷۰٦) ومعرفة السنن والآثار (۱۲۷۸) وشعب الإيمان (۸۲٦۹) والآداب (۵۵۹) عن زكريا بن يحيى بن أسد.
(
۸
) إسحاق بن إبراهيم. قال ابن حبان أخبرنا عبد الله بن محمد الأزدي قال: حدثنا إسحاق بن إبراهيم قال: أخبرنا سفيان عن الزهري عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله ﷺ

الخ. (صحيح ابن حبان، رقم: ۵٤۸۱).
(
۹
) سريج بن يونس. قال ابن حبان أخبرنا حامد بن محمد بن شعيب قال: حدثنا سريج بن يونس، قال: حدثنا سفيان عن الزهري عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي ﷺ

الخ. (صحيح ابن حبان، رقم: ۵٤۸۲).
(
۱۰
) حدثنا الحميدي، قال: ثنا سفيان قال: سمعت الزهري يقول: أخبرني سعيد بن المسيب عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ

الخ. (مسند الحميدي، رقم: ۹٦۵).
وفي "جزء سفيان بن عيينة" (٦۸): حدثنا عن الزهري عن سعيد عن أبي هريرة رضي الله عنه يبلغ به النبي ﷺ قال: الفطرة خمس أو خمس من الفطرة: الختان، والاستحداد ونتف الإبط، وقص الشارب، وتقليم الأظفار.

مذکورہ بالا تفصیل سے روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گیا کہ سفیان بن عیینہ سے لفظ
"قص الشارب"
نقل کرنے والے ۱۰ افراد کی ایک جماعت ہے، بنا بریں لفظ
"حلق الشارب"
غیر محفوظ اور شاذ ہے ۔
چنانچہ حافظ عراقی رحمه الله فرماتے ہیں:

وقول الجماعة هو الصواب لحفظهم واتفاقهم، ورواية النسائي المسئول عنها شاذة اللفظ لمخالفتها لرواية الثقات. (مسألة في قص الشارب، ص ۲۵، ط: دار البشائر الإسلامية).

سفیان بن عیینہ رحمه الله سے روایت کرنے والوں کی تفصیل مذکور ہوئی، اور سفیان عن الزہری روایت کرتے ہیں، تواب سفیان کے متابع درجِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
(۱) ابراہیم بن سعد الزہری ۔ (۲) یونس بن یزید الایلی ۔ (۳) معمر بن راشد ۔ (٤) زمعۃ بن صالح ۔ یہ سب حضرات، ا بن شہاب الزہری سے روایت کرتے ہیں اور سفیان کی طرح ان کی روایت میں بھی قص الشارب کا لفظ موجود ہے ۔ درجِ ذیل تحریر میں ان کی روایات کی تخریج ملاحظہ ہو :

(
۱
) قال الإمام البخاري: حدثنا أحمد بن يونس حدثنا إبراهيم بن سعد حدثنا ابن شهاب عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه سمعت النبي ﷺ يقول: الفطرة خمس: الختان، والاستحداد، وقص الشارب

الخ. (رقم: ۵۸۹۱، و ٦۲۹۷).
(
۲
) يونس بن يزيد عن الزهري. (أخرجه مسلم: ۱/ ۱۲۹، والنسائي: ۱/۷).
(
۳
) ومعمر بن راشد عن الزهري. (أخرجه الترمذي: ۲/۱۰٤، والنسائي: ۱/۷).
(
٤
) زمعة بن صالح عن الزهري. (مسند أبي داود الطيالسي: ٦/۳٦٦/ ۲٤۰٤، نسخة المدينة).

تنبیہ: مسند طیالسی کے موجود ہ نسخوں میں قص الشارب کا لفظ نہیں ہے بلکہ سواک کا ذکر ہے اور زمعۃ اس میں متفرد ہے، اس رسالہ کے محقق عبد الرحیم بن مبارک الدرویش نے اس رسالہ کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ ایک محقق نسخہ میں قص الشارب کا لفظ موجود ہے ۔ چنانچہ لکھتے ہیں:

إن في إحدى النسخ كتب قص الشارب فوق قص الأظفار". (ص ۲٦، حاشيه نمبر ٦).

یہ نسخہ جس میں قص الشارب موجود ہے، وہ نسخۃ المدینۃ (
رمز له بـ د
) ہے ۔

قال الدكتور محمد بن عبد المحسن التركي: وتوجد هذه النسخة ضمن مجموعة طوبقبو سراي، بمدينة استانبول، في تركيا برقم: ۲۷۸، وتقع في مجلدة متوسطة، عدد أوراقها: ۲۰٦ ورقة.

خلاصہ یہ ہے کہ سفیان کے چار متابع موجود ہیں اور سب جمہور کے موافق روایت بیان کرتے ہیں ۔
پھر آگے سعید بن المسیب سے صرف ا بن شہاب الزہری روایت کرتے ہیں ۔
اور سعید بن المسیب حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنه سے روایت کرتے ہیں تو سعید بن المسیب کے علاوہ (۱) سعید المقبری (۲) ان کے والد کیسان ۔ (۳) اور ابو سلمہ، یہ تینوں حضرت ابو ہریرہ
رضي الله عنه
سے روایت کرتے ہیں ۔
تخریج درجِ ذیل ملاحظہ کیجیے:

(
۱
) أخرج النسائي بسنده عن سعيد المقبري عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: خمس من الفطرة: الختان، وحلق العانة، ونتف الإبط، وتقليم الأظفار، وتقصير الشارب. (رقم: ۵۰٤۳، ۲/۲۷٤).
(
۲
) أخرج الإمام مالك موقوفاً عن سعيد بن أبي سعيد المقبري عن أبيه عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: خمس من الفطرة

الخ. (الموطأ للامام مالك، ص ۷۱۲، كتاب الجامع، ما جاء في السنة في الفطرة).
(
۳
) أبو سلمة بن عبد الرحمن عن أبي هريرة رضي الله عنه.
الأدب المفرد
میں موجود ہے ۔ ملاحظہ ہو :

محمد بن إسحاق عن محمد بن إبراهيم عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: خمس من الفطرة: قص الشارب

الخ. (رواه البخاري في الادب المفرد، رقم: ۱۲۵۷).
وكذا أخرجه البزار في مسنده (رقم: ۷٦۷۷) بسنده عن الزهري عن سعيد وأبي سلمة، عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: خمس من الفطرة

الخ.

خلاصہ یہ ہے سعید بن المسیب کے علاوہ بھی ۳ حضرات حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنه سے روایت کرتے ہیں ۔
پھر حضرت ابو ہریرہ
رضي الله عنه
کے علاوہ حضور آ کرم ﷺ سے روایت کرنے والے دیگر صحابہ کرام بھی موجود ہیں ۔ مثلاً: حضرت عبد اللہ بن عمر
رضي الله عنه،
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا، حضرت عمار بن یا سر رضی الله عنه، حضرت ابو الدرداء رضی الله عنه، حضرت انس بن مالک رضی الله عنه، یہ تمام صحابہ کرام حضور آ کرم ﷺ سے
"قص الشارب"
کی روایت بیان کرتے ہیں ۔ تخریج درجِ ذیل ہے:
(۱) عبد اللہ بن عمر
رضي الله عنه
کی روایت بخاری شریف میں ہے ۔ (
۲/۸۷۵) اور
نسائی میں "
أخذ الشارب"
کے لفظ سے ہے ۔ (نسائی:
۱
/
۷
) ۔
(۲) حدیث عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا مسلم شریف میں ہے ۔ (
۱
/
۱۲۹
) ۔
(۳) حضرت عمار بن یا سر
رضي الله عنه
کی حدیث، ابو داود (
۱
/
۸
) اور ابن ماجہ (
۱
/
۲۵
) میں ہے ۔
(٤) ابو الدرداء رضی الله عنه کی حدیث مسند بزار، و ابی یعلی و طبرانی میں ہے ۔
(۵) حضرت انس رضی الله عنه کی حدیث، مسلم شریف، (
۱
/
۱۲۹
)، و ترمذی شریف (
۲
/
۹۹
)، و ابن ماجہ (
۲٦
) میں ہے ۔
و فيه: وقت لنا رسول الله ﷺ في قص الشارب

الخ.

خلاصہ یہ ہے کہ نسائی شریف کی روایت، محمد بن عبد اللہ بن یزید المکی کے طریق سے ہے، جس میں
"حلق الشارب"
آیا ہے، یہ شاذ ہے، محمد بن عبد اللہ بن یزید کے علاوہ تمام
"قص الشارب"
بیان کرتے ہیں ۔ اور دوسرے حضرات حفظ و اتقان میں بھی محمد بن عبد اللہ بن یزید سے اعلی درجہ پر فائز ہیں ۔
مزید براں سنن النسائی المجتبی کے نسخہ میں
"أخذ الشارب"
ہے صرف سنن النسائی الکبری کے نسخہ میں "
حلق الشارب"
آیا ہے ۔ اور سب نسخوں کی سند ایک ہے، محمد بن عبد اللہ بن یزید راوی ہے، جو امام نسائی رحمه الله کے شیخ ہیں ۔
نسائی شریف کے حاشیہ میں علامہ سندی رحمه الله نے فرمایا:
وقد اختار كثير القص، وحملوا الحلق عليه.

نیز سنن النسائی الکبری کی تعلیق میں مرقوم ہے:

قال محمد بن عبد الله بن يزيد عن سفيان في هذا الحديث "حلق الشارب" والمحفوظ عن سفيان "قص الشارب" كذا رواه جمهور أصحابه عنه، وكذلك أخرجه البخاري عن ابن المديني، ومسلم عن أبي بكر بن أبي شيبة وعمرو الناقد وزهير بن حرب، كلهم عن ابن عيينة بذكر القص بدلاً من الحلق، وكذا رواه إبراهيم بن سعد عند البخاري (۲۵۹۱، ۲٦۹۷) ويونس عند مسلم (۲۵۷/۵). (تعليقات سنن النسائي الكبري: ۲/۱٤/۹، دار التأصيل، مركز البحوث وتغنية المعلومات).
علامہ انور شاہ کشمیری رحمه الله نے "
العرف الشذي"
میں فرمایا کہ لفظ "
الحلق"
غیر ثابت ہے ۔ (العرف الشذی:
۲
/
۱۰٤
، فیصل، دیوبند) ۔
مذکورہ بالا حدیث کی تحقیق نقشہ ذیل میں ملاحظہ کیجیے:
حافظ عراقی رحمه الله نے سنداً کلام فرمانے کے بعد متناً کلام فرمایا ہے جس کا خلاصہ حسبِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
قائلینِ حلق یوں کہتے ہیں کہ قص کی روایات کو حلق پر محمول کریں کیوں کہ گاہے گاہے حلق قینچی سے ہوتا ہے جیسے بکری کے بال، اس لیے کہ احادیث میں احفاء، جز کا حکم ہوا ہے، چنانچہ متفق علیہ کی روایت میں "
أحفوا الشوارب"،
اور بخاری کی روایت میں
"أنهكوا الشوارب"،
اور مسلم کی روایت میں "
جزوا الشوارب"
کے الفاظ وارد ہوئے ہیں ۔
الجواب: (۱) علامہ عراقی رحمه الله فرماتے ہیں کہ قص کا اطلاق حلق پر خلاف ظاہر ہے کیوں کہ بعض روایات میں تقصیر کا لفظ وارد ہوا ہے، جس سے قص کی مزید وضاحت ہوتی ہے اور تقصیر و حلق کے مابین فرق واضح ہے ۔ تقصیر کے معنی ہیں کم کرنا یعنی بعض کو باقی رکھنا اور حلق کے معنی ہیں جڑ سے صاف کر دینا، اور عرف میں بھی دونوں علیحدہ معنی میں سمجھے جاتے ہیں ۔
ایک حدیث شریف میں آتا ہے نبی پاک ﷺ نے سر کے بالوں کا حلق کرنے والوں کو تین مرتبہ دعا دی اور قصر کرنے والوں کو ایک مرتبہ ۔
(۲) نیز ابن عمر
رضي الله عنه
وابو ہریرہ
رضي الله عنه
کی روایت میں
أحفوا
کا لفظ آیا ہے، وہ تمام روایات میں نہیں، بلکہ مسند احمد کی روایت میں بجائے
أحفوا الشوارب
کے
قصوا الشوارب
وارد ہوا ہے ۔ (مسند احمد:
۲
/
۲۲۹
/
٦۱۳۲
) ۔
(۳) دونوں کے درمیان تطبیق:
أحفوا، جزوا، أنهكوا،
یہ الفاظ محمول ہیں کنارۂ لب پر اور قص، تقصیر منابتِ شعر پر، اس طرح تطبیق حاصل ہو جاتی ہے ۔ اس کی تائید درجِ ذیل روایت سے ہوتی ہے:

أخرج الإمام أحمد في مسنده، وأبو داود في سننه، والترمذي، في الشمائل، والنسائي في سننه، من رواية مغيرة بن عبد الله عن المغيرة بن شعبة، قال: كان شاربي وفي فقصه لي رسول الله ﷺ على سواك، أو قال: أقصه لك على سواك، واللفظ لا حمد (رقم: ۱۸۲۱۲). وإسناده صحيح، ورجالهم محتج بهم في الصحيح.

اگر حلق اور بالکل جڑ سے صاف کرنا مقصود ہو تا تو مسواک رکھنے کی کیا ضرورت تھی؟
(٤) جن روایات میں
الأخذ من الشارب
کا لفظ آیا ہے وہاں
من
تبعیضیہ ہے اور تقصیر مراد ہے استیصال مراد نہیں ہے ۔
حافظ عراقی رحمه الله نے اس کے بعد صحابہ اور تابعین کے آثار نقل فرمائے ہیں ۔ چند ملاحظہ ہوں:

(
۱
) روي الإمام الأوزاعي عن عمر بن عبد العزيز رحمه الله أنه قال: السنة في قص الشارب حتى يبدو الإطار. (أخرجه أبو عبيد القاسم بن سلام في غريب الحديث: ۵/٤٦۰).
الإِطار: بكسر الهمزة، هو حرف الشفة الأعلى الذي يحول بين منابت الشعر والشفة ذكره ابن الأثير في النهاية (ص ٤۰). وينظر: (المصنف لابن أبي شيبة، رقم: ۲٦۰۱۱).

اور کسی صحابی یا تابعی کا یہ کہنا
من السنة كذا
مرفوع کے حکم میں ہوتا ہے ۔
قال ابن الحنبلي في قفو الأثر: وأما قول الصحابي: من السنة كذا، ذاكراً قولاً أو فعلاً، فله حكم الرفع عند الأكثر، وهو مذهب عامة المتقدمين من أصحابنا، ومختار صاحب البدائع من متأخريهم، قال ابن عبد البر من المالكية: وإذا قالها غير الصحابي فكذلك. (قفو الاثر، ص ۹٤، ط: حلب).
(
۲
) روي الإمام البيهقي في سننه الكبري بإسناد جيد، من رواية شرحبيل بن مسلم الخولاني قال: رأيت خمسة من أصحاب رسول الله ﷺ يقصون شواربهم ويعفون لحاهم. (السنن الكبري: ۱/۱۵۱).
(
۳
) وذكر الإحفاء في الشوارب عند مالك فقال: ينبغي أن يضرب من صنع ذلك، فليس حديث النبي ﷺ في الإحفاء ولكن يبيح حرف الشفتين والفم. (السنن الكبري للبيهقي: ۱/۱۵۱).
قال يحيى وسمعت مالكاً يقول: يؤخذ من الشارب حتى يبدو طرف الشفة وهو الإطار ولا يجزه فيمثل بنفسه. (الموطأ للامام مالك، رقم: ۱٦٤۲).

مصنف ابن ابی شیبہ میں چند آثار مذکور ہیں:

حدثنا معن بن عيسى، عن محمد بن هلال، قال: رأيت سعيد بن المسيب وعمر بن عبد العزيز وسالماً وعروة بن الزبير وجعفر بن الزبير وعبيد الله بن عبد الله بن عتبة وأبا بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام: لا يحفون شواربهم جداً، يأخذون منها أخذاً حسناً.
حدثنا شبابة قال: حدثنا سليمان بن المغيرة قال: رأيت حميد بن هلال والحسن وابن سيرين وعطاء وبكر بن عبد الله: لا يحفون شواربهم. (مصنف ابن أبي شيبة: ۱۳/۱۱۱، باب من كان لا يحفي شاربه، ط: المجلس العلمي).

قص الشارب کی تحقیق فقہاء کے کلام کی روشنی میں:
مذہب احناف:
فقہائے احناف کے ہاں مختلف اقوال موجود ہیں: (۱) قص الشارب ۔ (۲) حلق الشارب ۔ (۳) حلق بدعت اور مکروہ ہے اور قصر سنت ہے ۔
پھر فقہائے کرام کا اصول یہ ہے کہ جو فقہی روایت احادیث و آثار کے موافق ہو اسی کو لینا چاہیے، اس اعتبار سے بھی قصر راجح ہو گا اور حلق مرجوح ہو گا ۔ البتہ جائز دونوں ہیں ۔

قال ابن عابدين الشامي رحمه الله: قال في شرح المنية: ولا ينبغي أن يعدل عن الدراية إذا وافقتها رواية على ما تقدم عن فتاوى قاضيخان. (فتاوى الشامي: ۱/٤٦٤، سعيد، وشرح المنية، ص ۲۹۵، ط: سهيل). (وكذا في شرح معاني الآثار: ۲/۳٦۷، باب حلق الشارب من كتاب الكراهية، ط: سعيد).

فقہاء کی عبارات ملاحظہ کیجیے:

قال في رد المحتار: واختلف في المسنون في الشارب هل هو القص أو الحلق؟ والمذهب عند بعض المتأخرين من مشايخنا أنه القص، وقال في البدائع: وهو الصحيح، وقال الطحاوي رحمه الله: القص حسن، والحلق أحسن وهو قول علمائنا الثلاثة. (فتاوى الشامي: ۲/۵۵۰، سعيد).
وفيه أيضاً: إذا تردد الحكم بين سنة وبدعة، كان ترك السنة راجحاً على فعل البدعة. (فتاوى الشامي: ۱/٦٤۲، سعيد).
وفي الدر المختار: حلق الشارب بدعة، وقيل: سنة. وفي رد المحتار: قوله: وقيل: سنة، مشي عليه في الملتقي وعبارة المجتبى بعد ما رمز للطحاوي رحمه الله حلقه سنة، ونسبه إلى أبي حنيفة رحمه الله وصاحبيه: والقص منه حتى يوازي الحرف الأعلى من الشفة العليا سنة بالإجماع. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/٤۰۷، سعيد).

ملا علی قاری رحمه الله شرح النقایہ میں فرماتے ہیں:

ويسن قص الشارب

قال الطحاوي رحمه الله في شرح الآثار: وقص الشارب حسن، وهو أن يأخذ منه حتى ينتقص عن الطرف الأعلى من الشفة العليا. وأجاز بعضهم حلقه لقوله عليه الصلاة والسلام: "أحفوا الشارب وأعفوا اللحى" وفسر الإحفاء بالاستيصال، ودفع بأنه: "قصوا الشارب وأعفوا اللحى" كما رواه أحمد عن أبي هريرة رضي الله عنه وهو تفسير للإحفاء؛ ولأنه عليه الصلاة والسلام لم يحفظ عنه أنه حلق شاربه، بل قد ورد: "قصوا الشوارب مع الشفاه"، رواه الطبراني عن الحكم بن عمرو. (شرح النقاية: ٤/۵۷، أمور الفطرة، بيروت).
وفي المحيط البرهاني: وينبغي للرجل أن يأخذ من شاربه حتى يصير مثل الحاجب

وبه نأخذ، وعليه الفتوى. (المحيط البرهاني: ٦/۱۲۰، كتاب الكراهية، ط: مكتبه رشيديه، كوئته).
وفي الفتاوى السراجية: ينبغي أن يأخذ الرجل من شاربه حتى يصير مثل الحاجب وحلق الشارب بدعة. (الفتاوى السراجية، ص ۳۳۷، ط: زمزم).
قال في البزازية: وينبغي للرجل أن

يأخذ من شاربه حتى يصير كالحاجب. (فتاوى البزازية بهامش الفتاوى الهندية: ٦/۳۷۷).
قال في نفع المفتي والسائل: الاستفسار: هل يجوز حلق الشارب؟
الاستبشار: الحلق، قيل: سنة، ونسبه الطحاوي إلى أبي حنيفة رحمه الله، ومحمد رحمه الله، كذا في خزانة الروايات عن الحميدي في كتاب الحج. وعن السغناقي: ومن الناس من قال: إن الحلق بدعة، والقصر سنة، وبه أخذ بعض المتأخرين من أصحابنا. (فتاوى اللكنوي، ص ٤۹۱، ما يتعلق بالنوم والقيام والقعود والكلام والختان).
وللاستزادة انظر: (البحر الرائق: ۸/۲۳۳، دار المعرفة، والفقه على المذاهب الأربعة، وعمدة القاري: ۱۵/۸٦، دار الحديث، ملتان، وبذل المجهود: ۱/۱۲۹، واوجز المسالك: ۱٦/ ۲۵٦، والفتاوى الهندية: ۵/۳۵۸).

شیخ عبد الحق محدثِ دہلوی رحمه الله شرح سفر السعادۃ میں فرماتے ہیں:
وازکلام مصنف چناں معلوم شد کہ مذہبِ حنیفہ رحمه الله حلق است، واز طحاوی رحمه الله کہ قدوۂ علماء متقدمین است ایں مذہب نیز ظاہر شود چنانچہ گفت: طحاوی رحمه الله می گوید: چوں استحباب بقص مجمع علیہ است، حلق افضل بود قیاساً علی الراس، و مصنف فی گوید: اما دریں قیاس نظرست، چہ دراحفائے شارب قبح ظاہرست، ونوعے ست از مثلہ واللہ اعلم ۔ ونیز افضلیتِ حلق رأس غیر مسلم است مطلقاً چنانکہ معلوم شد تا افضلیتِ حلقِ شارب را برآں قیاس کنند ۔ ہذا ولیکن بودنِ مذہبِ حنفی افضلیت حلق شارب محل نظراست، بآنکہ ظاہراز کتبِ ایشاں آنست کہ سنت قص شارب، ساختن او مثل حاجب، وگفتہ اند کہ
"وبه نأخذ، وعليه الفتوى"
ایں درغیر غازی ست، اما درحق غازی مندوب تطویل شارب ست، تا در چشمِ دشمناں مہیب نماید، کذا فی مطالب المؤمنین نقلاً عن الذخیرۃ، ونیز از سراجیہ نقل کردہ کہ سنت قص شارب است تا ظاہر گردد، گرد برگرد لب، حلق شارب بدعت است ۔ (شرح سفرالسعادۃ:
٤۹٤
) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ سفر السعادۃ کے مصنف علامہ مجد الدین محمد بن یعقوب شیرازی، فیروز آبادی متوفی ۸۲٦ ؁ فرماتے ہیں: امام طحاوی رحمه الله فرماتے ہیں کہ چونکہ مونچھ کے قصر کے استحباب پر اجماع ہے، اس لیے سر پر قیاس کرتے ہوے مونچھ میں بھی حلق افضل ہے، پھر مصنف رحمه الله لکھتے ہیں کہ سر پر مونچھ کو قیاس کرنا محل نظر ہے کیوں کہ مونچھوں کو بالکل صاف کرنا بہت برا معلوم ہوتا ہے اور مثلہ کی شکل بن جاتی ہے ۔
اس پر حضرت شیخ عبد الحق محدثِ دہلوی رحمه الله فرماتے ہیں: سر کے حلق کا مطلقاً افضل ہونا مسلم نہیں ہے، کہ اس پر حلق شارب کے افضل ہونے کو قیاس کیا جائے؟ نیز حلق شارب کے افضل ہونے کو مذہبِ حنفی قرار دینا بھی مشکوک اور محل کلام ہے، کیوں کہ کتبِ احناف سے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ مونچھوں کو مثل حاجب کاٹنا سنت ہے ۔ اور اسی کو فقہاء نے مفتی بہ قرار دیا ہے ۔
شیخ عبد الحق محدثِ دہلوی رحمه الله اشعۃ اللمعات میں فرماتے ہیں: و روایت کردہ شدہ است از امام ابو حنیفہ رحمه الله کہ شارب بمقدارِ ابرو باید ۔ (اشعۃ اللمعات:
۱
/
۲۲۸
، باب السواک، المکتبۃ الرشیدیہ) ۔
کفایت المفتی میں ہے:
بہتر یہ ہے کہ مونچھوں کو قینچی سے کتروائے ۔ (کفایت المفتی:
۹
/
۱۷۸
، دار الاشاعت) ۔
بہشتی زیور میں ہے:
لبوں کا کتروانا، اس قدر کہ لب کے برابر ہو جائے سنت ہے، اور منڈانے میں اختلاف ہے، بعضے بدعت کہتے ہیں، بعضے اجازت دیتے ہیں، لہذا نہ منڈانے میں ہی احتیاط ہے ۔ (بہشتی گوہر، ص
۱۱۵
) ۔
امداد الاحکام میں ہے:

وفي هداية النور في أحكام الشعور للمفتي سعد الله:
حلق شعور بہروت بدعت است بر قولِ اصح، ابو المکارم، و شرح مختصر زاہدی می آرد:
حلق الشارب بدعة، وقيل: سنة، وفي النيل: وذهب كثير منهم إلى منع الحلق والاستيصال وإليه ذهب مالك، وكان يري تأديب من حلقه، وروي عنه ابن القاسم أنه قال: إحفاء الشارب بدعة، قال النووي: والمختار أنه يقص حتى يبدو طرف الشفة ولا يحفيه من أصله، قال في النهاية: إحفاء الشوارب أن يبالغ في قصها
۔ پس مونچھوں کا مونڈنا اگر چہ ایک قول پر جائز ہے مگر راجح یہ ہے کہ بدعت ہے، اور سنت یہ ہے کہ قینچی سے کتروا دے، اور کترنے میں مبالغہ کرے کہ بال کھال سے مل جائیں ۔ (امداد الاحکام:
٤
/
۳۳٤
، و
٤
/
۳٤۲
) ۔
مولانا عبد الرحمن کامل پوری رحمه الله فرماتے ہیں:
شوارب کا قطع کرنا اولی ہے اور حلق کرنا مکروہ ہے ۔ (معارفِ ترمذی:
۲
/
٤۰۵
) ۔
قاموس الفقہ میں ہے:
شوافع کے نزدیک قولِ مختار یہ ہے کہ اس طرح تراشے جائیں کہ ہونٹ کے کنارے صاف ہو جائیں، یہی رائے مالکیہ کی بھی ہے، اور یہی رائے نصوص اور انسانی عادت سے زیادہ ہم آہنگ ہے ۔ (قاموس الفقہ:
٤
/
۱۷۹
) ۔
حلال و حرام میں ہے:
اس سلسلہ میں اہل علم کی آراء مختلف ہیں اور ان کے پاس اپنی رائے کے لیے مناسب بنیادیں بھی موجود ہیں لیکن حدیث کے مجموعی الفاظ سے اسی کی تائید ہوتی ہے کہ معمولی طور پر مونچھیں تراشی جائیں ۔ (حلال و حرام، ص:
۸۵
) ۔
مجموعی بحث کا حاصل یہ ہے کہ فقہاء کی اس مسئلہ میں دو روایتیں ہیں ۔ (۱) قصر یعنی تراشنا اور کم کرنا ۔ (۲) حلق یعنی بالکل جڑ سے صاف کرنا ۔ اور دونوں ہی جائز اور درست ہے ۔ البتہ ہمارے نزدیک قصر والی روایت احادیثِ صریحہ صحیحہ کے موافق ہونے کی وجہ سے راجح اور اقوی ہے ۔
مذہبِ مالکیہ:
امام مالک رحمه الله کے نزدیک قصر افضل اور سنت ہے اور حلق جائز نہیں ہے، مثلہ کے حکم میں ہے، جو حلق کرتا اس کی پٹائی کا حکم فرماتے تھے، جیسا کہ مؤطا کے حوالہ سے گزرا ۔ مزید ملاحظہ ہو:

قال ابن عبد البر: وقد اختلف العلماء في حلق الشارب، فكان مالك يقول: السنة قص الشارب وهو أخذ الشعر من الإطار وهو طرف الشفة العليا. والحجة لمالك فيما ذهب إليه من ذلك قوله ﷺ خمس من الفطرة فذكر منها قص الشارب

ومن الحجة له أيضاً حديث زيد بن أرقم قال: قال رسول الله ﷺ: من لم يأخذ من شاربه شيئاً فليس منا. وحديث عبد الله بن بسر قال: كان شارب رسول الله ﷺ بحيال شفته وحديث المغيرة بن شعبة قال: ضفت عند رسول الله ﷺ

وأخذ من شاربي على سواك، وهذا كله لا يكون معه حلق ولا استيصال. (الاستذكار: ۱/۵۷٦۸).

مذہبِ شافعیہ:
علامہ نووی رحمه الله نے فرمایا ہے کہ قص سنت ہے اور حلق مکروہ ہے ۔

قال في شرح المهذب: وأما قص ا

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.