عورت کے چہرہ کے بال صاف کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 7 #118Urdu

Question

عورت کے چہرہ پر غیر ضروری بال مثلاً ڈاڑھی، مونچھ وغیرہ کے بال ظاہر ہو جائیں تو صاف کرنا درست ہے یا نہیں؟ اگر صاف کرے گی تو حدیث شریف میں نامصہ و متنمصہ کی ممانعت میں داخل ہو گی یا نہیں ہو گی؟ بینوا توجروا ۔

Answer

عورت کے لیے اپنے چہرہ کے غیر ضروری بال صاف کرنا درست اور جائز ہے ۔ حدیث شریف میں ممانعت بھوں کو باریک کرنے اور خط بنانے کے بارے میں وارد ہوئی ہے ۔
ملاحظہ ہو علامہ عینی رحمه الله عمدۃ القاری میں فرماتے ہیں:

إذا نبتت للمرأة لحية أو شوارب فلا يحرم بل يستحب عندنا والنهي إنما هو في الحواجب وما في أطراف الوجه. (عمدة القاري: ۱۳/۳۸۸، باب وما آتاكم الرسول فخذوه، كتاب التفسير، ط: دار الحديث ملتان).

فتاوی الشامی میں ہے:

وفي تبيين المحارم: إزالة الشعر من الوجه حرام إلا إذا نبت للمرأة لحية أو شوارب فلا تحرم إزالته بل تستحب، وفي التاتارخانية عن المضمرات: ولا بأس بأخذ الحاجبين وشعر وجهه ما لم يشبه المخنث ومثله في المجتبى، تأمل. (فتاوى الشامي: ٦/۳۷۳، سعيد).
(و كذا في مرقاة المفاتيح: ۸/۲۸۹، باب الترجل، ط: إمدادية ملتان، والبحر الرائق: ۸/۲۳۳، دار المعرفة، والفتاوى الهندية: ۵/۳۵۸، وحاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ۵۲۷، ط: قديمي).

احسن الفتاوی میں ہے:
عورت کے لیے چہرے کے بال صاف کرنا جائز ہے، اور اگر ڈاڑھی یا مونچھ کے بال نکل آئیں تو ان کا ازالہ مستحب ہے ۔ نامصہ اور متنمصہ پر لعنت کا مورد یہ ہے کہ ابرو کے اطراف سے بال اکھاڑ کر باریک دھاری بنائی جائے،
كما يدل عليه التعليل بتغيير خلق الله
۔ ابرو بہت زیادہ پھیلے ہوئے ہوں تو ان کو درست کر کے عام حالت کے مطابق کرنا جائز ہے ۔ غرضیکہ تزیین مستحب اور ازالہ عیب کا استحباب نسبۃً زیادہ مؤکد ہے اور تلبیس اور تغییر خلق ناجائز ہے ۔ (احسن الفتاوی:
۸
/
۷۵
) ۔
فتاوی بینات میں ہے:
خواتین کو اپنے چہرے کے غیر معتاد بال مثلاً ڈاڑھی، مونچھ، پیشانی وغیرہ کے بال یا کلائیوں اور پنڈلیوں کے بال صاف کرنا جائز ہے ۔ البتہ ان زائد بالوں کو نوچ کر نکالنا مناسب نہیں، کیوں کہ اس میں بلا وجہ اپنے جسم کو اذیت دینا ہے، کسی پاؤڈر وغیرہ کے ذریعہ صاف کر لیا جائے تو زیادہ بہتر ہے ۔ (فتاوی بینات، جلدِ چہارم، ص
٤۰۷
) ۔
حدیث شریف کی مزید وضاحت ما قبل میں گزر چکی ہے وہاں ملاحظہ کی جا سکتی ہے ۔

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.