ویڈیو گیم کھیلنے کا حکم:
Question
ـ: ویڈیو گیم کھیلنے کا کیا حکم ہے؟
Answer
ویڈیو گیم جن میں جاندار کی تصاویر نہ ہوں بلکہ بے جان اشیاء کی تصاویر سے کھیل کھیلا جاوے جیسے: کار، موٹر سائیکل، ہوائی جہاز، بحری جہاز، ہیلی کاپٹر وغیرہ چلانے یا انھیں نشانہ بنانے کا کھیل ہو، یا جاندار کی تصویریں ہوں مگر وہ اس قدر چھوٹی اور غیر واضح ہوں کہ انھیں تصویر نہ کہا جا سکے، مثلاً: اس میں آنکھ، کان، ناک، اور منہ وغیرہ واضح نہ ہوں بلکہ صرف خاکہ کی شکل ہو تو ان دونوں صورتوں میں وقتی تفریح طبع یا ذہن کی تیزی اور حاضر دماغی کے لیے یہ کھیل اگر ما قبل میں ذکر کردہ شرائط کے ساتھ کھیلا جائے تو درست ہے ۔
(۲) وہ بڑے ویڈیو گیم جن میں جاندار کی تصویریں واضح اور نماں ہوں تو یہ کھیل تصویروں کی وجہ سے ناجائز ہوگا ۔ خصوصاً جب کہ مذکورہ بالا شرائط کا لحاظ نہ رکھا جائے تو قباحت مزید بڑھ جائے گی ۔
نیز اگر ویڈیو گیمز کی وجہ سے دماغی تفریح کے بجائے مزید تکان محسوس ہوتی ہو اور تعلیم متاثر ہوتی ہو اور رات دن اسی کی لت لگی رہتی ہو تو پھر کسی قسم کا کھیل درست نہیں ہوگا ۔
ملاحظہ ہو حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله احکام القرآن میں فرماتے ہیں:
وحاصل الكلام أن ترويح القلب وتفريحه وكذا تمرين البدن من الاتفاقات المباحة والمصالح البشرية لا تمنعها الشريعة السمحة برأسها، نعم! تمنع الغلو والانهماك فيها بحيث يضر بالمعاش أو المعاد، وهذا هو السر في إباحة بعض الملاهي في بعض الأحيان. (أحكام القرآن: ۳/۱۹٦، إدارة القرآن، كراتشي).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2847
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2847