موبائل میں گھنٹی کی جگہ کلماتِ مقدسہ رکھنے کا حکم:

29 min readFatwa Vol 7 #263Urdu

Question

موبائل میں گھنٹی کی جگہ اذان یا قرآنی آیات وغیرہ رکھنا جائز ہے یا نہیں؟ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ یہ خلاف ادب ہے درمیان سے کاٹنے کی وجہ سے درست نہیں ہے ۔ اس کا کیا جواب ہے؟ بینوا بالتفصیل توجروا بالاجر الجزیل ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ موبائل میں قرآنی آیات اذان نیز ذکر و اذکار اور پند و نصائح کے کلمات وغیرہ گھنٹی کی جگہ رکھنا اور استعمال کرنا جائز اور درست ہے ۔ البتہ اس بات کا خیال رہے کہ آیتِ کریمہ پوری ہو جائے پھر فون کا جواب دیا جائے، اگر یہ اہتمام نہیں ہو سکتا ہو تو پھر قرآنی آیات استعمال نہ کرے، نیز بیت الخلاء داخل ہونے سے پہلے فون کو ساکت (silent) کر دے تاکہ مقاماتِ نجاست میں کلماتِ طیبہ کی بے ادبی نہ ہو اس کے اہتمام کی بہت ضرورت ہے ۔
اس مسئلہ کے جواز کے چند دلائل، و شواہد حسبِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
(۱) جس کام کی ابتدا اللہ تعالی کے ذکر سے ہو وہ کام مبارک اور بابرکت ہوتا ہے، بنا بریں موبائل میں بات چیت کی ابتدا اللہ تعالی کے ذکر سے ہو گی جیسے خط کی ابتدا خط میں اللہ تعالی کے نام سے ہوتی ہے ۔
حدیث شریف میں آتا ہے:

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: "كل أمر ذي بال لا يبدأ فيه بذكر الله فهو أقطع". أخرجه الدارقطني في سننه (۱/۲۲۹/۲، كتاب الصلاة).

امام نووی رحمه الله نے بحمد للہ والی روایت کو حسن اور جید فرمایا ہے ملاحظہ ہو :

قال الإمام النووي رحمه الله: هذا الحديث حسن رواه أبو داود وابن ماجه في سننهما، ورواه النسائي في كتاب عمل اليوم والليلة، وروي موصولاً ومرسلاً، ورواية الموصول إسنادها جيد. (شرح مسلم شريف: ۱/۲).
وينظر: (الأذكار، ص: ۱٤۷، كتاب حمدالله تعالى، بتحقيق بشير محمد عيون، وسنن أبي داود، ص ٦٦۵، وسنن ابن ماجه، ص ۱۳٦، وعمل اليوم والليلة، ص ۱۵۷، دار الفكر).

٭ نیز نبی پاک ﷺ نے شاہانِ عالم کے نام خطوط تحریر فرمائے تھے ان کے شروع میں بھی بسم اللہ الرحمن الرحیم تحریر فرمایا تھا اگر چہ اللہ تعالی کے نام کی بے حرمتی کا بھی اندیشہ تھا ۔ لیکن تبرکاً اللہ تعالی کے نام سے شروع کرنے کو ترجیح دی اور دوسری جانب خیال نہیں فرمایا ۔ حوالہ کے لیے سیرت کی کتابیں ملاحظہ کیجیے ۔
(۲) لیلۃ التعریس میں حضرت عمر رضي الله عنه نے سوئے ہوے حضرات کو جگانے کے لیے تین بار
"الله أكبر"
کہا تھا ۔ بخاری شریف میں روایت ہے، ملاحظہ کیجیے:

فلما استيقظ عمر رضي الله عنه ورأي ما أصاب الناس، وكان رجلاً جليداً فكبر ورفع صوته بالتكبير، فما زال يكبر ويرفع صوته بالتكبير حتى استيقظ لصوته النبي ﷺ. (رواه البخاري في حديث طويل: ۱/٤۹/۳٤٤، في باب الصعيد الطيب وضوء المسلم يكفيه من الماء).

مذکورہ بالا حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضي الله عنه نے ساتھیوں کو بیدار کرنے کے لیے
"الله أكبر"
استعمال فرمایا، اور کسی نے انکار نہیں کیا، خود حضور آ کرم ﷺ نے بھی انکار نہیں فرمایا، خلاصہ یہ ہے کہ تکبیر کو تنبیہ اور جگانے کا ذریعہ بنایا اور اللہ تعالی کا ذکر بھی ساتھ ساتھ ہوا ۔
(۳) قصۂ افک میں حضرت صفوان بن معطل رضي الله عنه نے حضرت عائشہ رضی الله عنه کو اطلاع دینے کے لیے
"إنا لله وإنا إليه راجعون"
پڑھا، اس کلمہ کی وجہ سے حضرت عائشہ رضی الله عنه بیدار ہوئیں، اور فوراً پردہ فرمایا ۔
ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:

فبينا أنا جالسة في منزلي غلبتني عيني فنمت وكان صفوان بن المعطل السلمي ثم الذكواني من وراء الجيش فأصبح عند منزلي فرأي سواد إنسان نائم فعرفني حين رأني وكان رأني قبل الحجاب فاستيقظت باسترجاعه، حين عرفني فخمرت وجهي بجلبابي. (أخرجه البخاري في حديث طويل: ۲/۵۹٤/٤۱٤۱، في باب حديث الأفك).

حدیث بالا میں بلند آواز سے "انا للہ " کہنے کا مقصد اظہارِ مصیبت کے ساتھ ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو متنبہ بھی کرنا تھا ۔ اور موبائل میں بھی تنبیہ اور اخبار ہوتا ہے ۔
(٤) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نبی کریم ﷺ کے پیچھے صلاۃ الکسوف پڑھ رہی تھیں، حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا نے آ کر دریافت کیا کہ کیا ہوا؟ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے "سبحان الله" فرمایا، اور آسمان کی طرف اشارہ کیا ۔ ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:

عن اسماء بنت أبي بكر رضي الله عنه أنها قالت: أتيت عائشة زوج النبي ﷺ حين خسفت الشمس فإذا الناس قيام يصلون وإذا هي قائمة تصلي فقلت: ما للناس فأشارت بيدها نحو السماء وقالت: سبحان الله

الخ. (أخرجه الامام البخاري: ۱/۳۰/۱۸٤في باب من لم يتوضأ الا من الغشي المثقل).

مذکورہ بالا روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے تسبیح کے ساتھ ساتھ واقعہ کا اظہار بھی فرما دیا ۔
(۵) حدیث شریف میں حضرت عمر رضي الله عنه کے ساتھی نے آنحضرت ﷺ کے ازواجِ مطہرات کو طلاق دینے کی خبر سنائی، حضرت عمر رضي الله عنه نے آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا نہیں، اس پر حضرت عمر رضي الله عنه نے اللہ اکبر فرمایا ۔ روایت ملاحظہ کیجیے:

عن عمر رضي الله عنه قال: كنت أنا وجار لي من الأنصار في بني أمية بن زيد وهي من عوالي المدينة وكنا نتناوب النزول على رسول الله ﷺ ينزل يوماً وأنزل يوماً فإذا نزلت جئته بخبر ذلك اليو م من الوحي وغيره وإذا نزل فعل مثل ذلك فنزل صاحبي الأنصاري يوم نوبته فضرب ببابه ضرباً شديداً، فقال: أثم هو؟ ففزعت فخرجت إليه فقال: قد حدث أمر عظيم قال: فدخلت على حفصة فإذا هي تبكي فقلت: طلقكن رسول الله ﷺ قالت: لا أدري ثم دخلت على النبي ﷺ فقلت: وأنا قائم أطلقتَ نسائَ ك؟ قال: لا فقلت: الله أكبر!. (أخرجه الامام البخاري: ۱/۱۹/۸۹، باب التناوب في العلم).

حدیث بالا میں حضرت عمر رضي الله عنه نے طلاق نہ ہونے پر خوشی کا اظہار یا طلاق کی غلط شہرت پر تعجب کا اظہار کرتے ہوے اللہ اکبر فرمایا، اور خوشی یا تعجب کے اظہار میں اور موبائل کے اعلام میں کوئی خاص فر ق نہیں ۔
(٦) حضرت عبد اللہ بن عباس رضي الله عنه فرماتے ہیں کہ حضور آ کرم ﷺ کی نماز کے ختم ہونے کو ہم تکبیر کے ذریعہ محسوس کرتے تھے ۔ مسلم شریف میں ہے:

عن ابن عباس رضي الله عنه قال: كنا نعرف انقضاء صلاة رسول الله ﷺ بالتكبير. (رواه مسلم: ۱/۲۱۷/۵۸۳، باب الذكر بعد الصلاة، والبخاري: ۱/۱۱٦/۸٤۲، باب الذكر بعد الصلاة).

اس حدیث میں نبی پاک ﷺ کی نماز کے ختم ہونے کی خبر تکبیر کے ذریعہ دی گئی، یاد رہے کہ بعض شارحین اس حدیث کو منی میں نماز کے بعد تکبیراتِ تشریق پر محمول کرتے ہیں ۔
(۷) خود اذان لوگوں کو اوقاتِ نماز کے داخل ہونے کی اطلاع ہے اور شعارِ اسلام میں سے ہونے کے ساتھ ساتھ ذکر بھی ہے ۔ علامہ عینی رحمه الله فرماتے ہیں:

والأذان في اللغة الإعلام، قال الله تعالى: ﴿وأذان من الله ورسوله﴾ (التوبة)

وفي الشريعة: الأذان إعلام مخصوص بألفاظ مخصوصة في أوقات مخصوصة. (عمدة القاري: ٤/۱٤۳، ومثله في الدر المختار: ۱/ ۳۸۳).

نیز اذان عقائد پر مشتمل ایسا ذکر ہے جسے سن کر شیطان بھی بھاگ جاتا ہے، و فی الحدیث الشریف:

إذا نودي للصلاة أدبر الشيطان وله ضراط حتى لا يسمع التأذين

(رواه البخاري: ۱/۸۵).

(۸) حضور آ کرم ﷺ کے زمانہ میں تہجد کی اذان کا مقصد حدیث شریف میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جاگے ہوے کو واپس کرنا اور سوئے ہوے کو جگانا ۔ ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:

لا يمنعن أحدكم، أو واحداً منكم، أذان بلال من سحوره، فإنه يؤذن، أو ينادي بالليل ليرجع قائمكم ولينبه نائمكم. (رواه البخاري: ۱/۸۷).

معلوم ہوا کہ متنبہ کرنے کے لیے کلماتِ طیبہ کا استعمال جائز اور درست ہے ذکر بھی ہے اور تنبیہ بھی ہے البتہ ان کلمات کی آواز کو تعویذ کی طرح نجاست کے مقام سے بچانا ضروری ہے ۔
(۹) ایک غزوہ میں مسلمانوں نے قرآن کریم کی آیت
"حمٓ"
بطورِ علامت استعمال کی ۔ ملاحظہ ہو ترمذی شریف کی روایت میں ہے:

عن المهلب بن أبي صفرة عن من سمع النبي ﷺ يقول: إن بيتكم العدو فقولوا حم، لا ينصرون. (رواه الترمذي: ۱/۲۹۷، باب ما جاء في الشعار).
وفي رواية أبي داود قال: إن بيتم فليكن شعاركم حم لا ينصرون. (رواه أبو داود، ص ۳٤۹). وأيضاً رواه البيهقي في سننه الكبري (٦/۳٦۱).
قال المحدث أحمد على السهارنفوري: الشعار في الأصل: العلامة التي تنصب ليعرف الرجل بها رفقته. (حاشية الترمذي: ۱/۲۹۷، رقم الحاشية: ۹).
ومثله في فيض القدير (٤/۲۱۲، ط: بيروت، ومرقات المفاتيح: ۷/۳۵۸).

(۱۰) کسی چیز کے اختتام کے لیے حمد اور درود استعمال کیا جاتا ہے تاکہ معلوم ہو جائے کہ اب اس کے بعد مزید کچھ نہیں ہے، مثلاً دعا کے آخر میں، تصنیفات و تالیفات کے آخر میں، وعظ و نصیحت کے آخر میں، وغیرہ ۔
فقط ایک مثال ملاحظہ کیجیے امام نسائی رحمه الله نے اپنی کتاب کے آخر میں تحریر فرمایا:

والحمد لله رب العلمين، وصلي الله على سيدنا محمد خاتم الأنبياء، وعلى آله الطيبين الطاهرين، ورضي الله عن كل الصحابة أجمعين.
یہ اس بات کی علامت ہے کہ کتاب مکمل ہو چکی ہے، اب اس کو کیسے مکروہ قرار دیا جائے؟
(۱۱) نماز کے اختتام کی علامت بھی شریعتِ مطہرہ نے سلام کو رکھا ہے ۔ یہ دعا بھی ہے اور نماز کے ختم ہونے کی خبر بھی ہے ۔ حدیث شریف میں آتا ہے:

عن على رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: مفتاح الصلاة الطهور، وتحريمها التكبير وتحليلها التسليم. (رواه الترمذي: ۱/٦، باب ما جاء مفتاح الصلاة الطهور).

(۱۲) نبی کریم ﷺ، خلفائے راشدین اور سلفِ صالحین کی انگوٹھیوں پر مختلف نصیحت آمیز کلمات درج تھے ۔ بریقہ محمودیہ میں اس کی تفصیل مرقوم ہے ۔ چند حضرات کے بارے میں ملاحظہ ہو :

عن أنس رضي الله عنه أنه كان نقش الخاتم أي خاتم رسول الله ﷺ ثلاثة أسطر: محمد، رسول، الله،
ونقش خاتم أبي بكر رضي الله عنه: نعم القادر الله.
ونقش خاتم عمر رضي الله عنه: كفي بالموت واعظاً يا عمر.
وعثمان رضي الله عنه: لتصبرن أو لتندمن.
وعلي رضي الله عنه: الملك لله.
وأبي حنيفة رحمه الله: قل الخير وإلا فاسكت.
وأبي يوسف رحمه الله: من عمل برأيه قد ندم.
ومحمد رحمه الله: من صبر ظفر. (بريقة محمودية في شرح الطريقة المحمدية: ۵/٤۲۲، من آفات اليد: التختم بغير الفضة).
وزاد في "الحديقة الندية شرح الطريقة المحمدية" :
نقش خاتم الحسن بن على رضي الله عنه: العزة لله.
ونقش خاتم معاوية رضي الله عنه: رب اغفر لي.
ونقش خاتم ابن أبي ليلى رحمه الله: الدنيا غرور.
ونقش خاتم الإمام الشافعي رحمه الله: البركة في القناعة. (الحديقة الندية شرح الطريقة المحمدية: ۲/٤۵٤، ط: در سعادت).
وفي الدر المختار: وينقشه اسمه أو اسم الله تعالى، وفي الشامية: قوله أو اسم الله تعالى، فلو نقش اسمه تعالى أو اسم نبيه، استحب أن يجعل الفص في كمه إذا دخل الخلاء وان يجعله في يمينه إذا استنجي، قهستاني. (الدر المختار مع الشامي: ٦/۳٦۱، سعيد).

اس عبارت سے معلوم ہوا کہ موبائل کے وال پیپر (wallpaper) پر کلماتِ ذکر و اذکار رکھنے کی گنجائش ہے البتہ مقاماتِ ِ نجاست سے بچانا ضروری ہے ۔ حاصل یہ ہے کہ انگوٹھی کے ذریعہ ذکر و اظہارِ نصیحت اور موبائل کے ذریعہ ذکر و اظہارِ نصیحت دونوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے ۔
(۱۳) حدیث شریف میں آتا ہے کہ اندر داخل ہونے کے لیے بطورِ اجازت: سبحان اللہ، الحمدللہ، اور اللہ اکبر کہے، ملاحظہ ہو سنن ابن ماجہ میں ہے:

عن أبي أيوب الأنصاري رضي الله عنه قال: قلنا يا رسول الله! هذا السلام فما الاستئذان؟ قال: يتكلم الرجل تسبيحة وتكبيرة وتحميدة، ويتنحنح ويؤذن أهل البيت. (رواه ابن ماجه، ص ۲٦۳).

حدیث بالا میں بیان کیا گیا کہ اپنے آنے کی اطلاع دینے کے لیے تسبیح تحمید اور تکبیر کہے، معلوم ہوا کہ مبارک کلمات اطلاع کے لیے استعمال کر سکتے ہیں ۔
(۱٤) حدیث شریف میں آتا ہے کہ مصلی کے سامنے سے گزرنے والے کو روکنے کے لیے تسبیح استعمال کر سکتے ہیں ۔ ملاحظہ ہو :

أخرج البخاري رحمه الله في حديث إمامة أبي بكر رضي الله عنه

فقال ﷺ: مالي رأيتكم أكثرتم التصفيق، من نابه شيء في صلاته فليسبح، فإنه إذا سبح التفت إليه، وإنما التصفيق للنساء. (بخاري شريف: ۱/۹٤، ۱٦۲).

فتاوی شامی میں ہے:

ويدفعه بتسبيح أو جهر بقراء ة، فالمراد زيادة رفع الصوت عن أصل جهره، والظاهر شمول السرية، لان هذا الجهر مأذون فيه فلا يكره على أن الجهر اليسير عفو، والمكروه قدر ما تجوز به الصلاة في الأصح كما في سهو البحر، فإذا جهر في السرية بكلمة أو كلمتين حصل المقصود ولم يلزم المحذور، فتدبر. (فتاوى الشامي: ۱/٦۳۸، سعيد).

علامہ شامی رحمه الله کی عبارت سے معلوم ہوا کہ سری نماز میں بھی ایک دو کلمہ جہراً پڑھ کر گزرنے والے کو روکنا چاہیے ۔ یعنی تسبیح اور قراء ت کو تنبیہ کے لیے استعمال کرنا جائز اور درست ہے ۔

(
۱۵
) عبد الملك بن عبد الرحمن السعدي مسائل فقهية معاصرة
میں لکھتے ہیں:

السؤال: السلام عليكم شيخي: ما حكم استخدام القرآن رنة للموبايل (رنة اتصال وانتظار)، أفتونا مأجورين، وجزاك الله خيراً.
الجواب: لا مانع من ذلك، ولكن الأدب يقتضي أن لا يستغل صوت القرآن بمثابة الجرس المنبه، لذا أري ترك ذلك، وإبداله بذكر ودعاء.
كما أني أري عدم جعل الأذان منبهاً؛ لان المصلي ربما إذا سمعه يظن أن وقت الصلاة قد حان فيصلي ولا تصح صلاته، أو قد صلي وعند سماعه يظن أنه قد صلي قبل الوقت. (مسائل فقهية معاصرة، ص: ۲۲۰، ط: دار النور، عمان).

اس عبارت سے معلوم ہوا کہ موبائل میں رنگ ٹون کی جگہ کلماتِ متبرکہ کا استعمال جائز ہے البتہ آیاتِ قرآنیہ کا استعمال خلاف ادب ہے ۔

(
۱٦
) وفي تفسير مقاتل بن سليمان: وكفي الله المؤمنين القتال

وسمعوا تكبير الملائكة في نواحي العسكر فرعبوا. (تفسير مقاتل بن سليمان: ۳/۳۸).
وفي تفسير القرطبي: وكثر تكبير الملائكة في جوانب العسكر "أي في غزوة الخندق" حتى كان سيد كل خباء يقول: يابني فلان! هلم إلي، فإذا اجتمعوا قال لهم: النجاء، النجاء، لما بعث الله تعالى عليهم من الرعب. (تفسير القرطبي: ۱٤/۹۵).

تفسیر کا خلاصہ یہ ہے کہ فرشتوں نے کفار کو ڈرانے اور مرعوب کرنے کے لیے تکبیر کا استعمال کیا ۔
٭ فقہاء کی بعض عبارات سے کراہت معلوم ہوتی ہے، ان عبارات کی توجیہ ملاحظہ کیجیے:
(۱) فقہاء نے ذکر اللہ کو اپنی تجارت چلانے کے لیے وسیلہ بنانے کو منع لکھا ہے، یعنی دین کی شکل بنا کر دیندار بننے سے منع فرمایا ۔ جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ ہجرت کا نام لیکر کسی لڑکی سے نکاح کرنے کے لیے جانا ہجرت غیر مقبولہ ہے ۔ ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:

إنما الأعمال بالنيات، وإنما لكل امرئ ما نوى، فمن كانت هجرته إلى دنيا يصيبها أو إلى المرأة ينكحها فهجرته إلى ما هجر إليه. (رواه البخاري: ۱/۲).

ملا علی قاری رحمه الله مرقات شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں:

قيل: إنما ذُمَّ، لأنه طلب الدنيا في صورة الهجرة، فأظهر العبادة للعُقبي، ومقصوده الحقيقي ما كان إلا الدنيا، فاستحق الذم لمشابهته أهل النفاق. (مرقاة المفاتيح: ۱/٤٦).

اسی طرح تاجر اپنا سامان کھولتے وقت ذکر کرتا ہے تاکہ لوگ اس کو متقی سمجھ کر اس کا سامان خریدے، تو یہ بھی دین کی شکل و صورت میں دنیا کمانا ہے جو کہ برا ہے ۔ چنانچہ علامہ سید احمد طحطاوی تحریر فرماتے ہیں:

وتكره عند فتح التاجر متاعه. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ۱۲، قديمي).

دوسری جگہ فرماتے ہیں:

وحرام

عند عمل محرم، عند فتح التاجر متاعه إن قصد بذلك الإعلام بجودته، ولا خصوصية للصلاة، بل كذلك جميع الأذكار في جميع الأحوال الدالة على استعمال الذكر في غير موضعه، صرح بذلك علماؤنا. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص: ۲۷۱، قديمي).

الاشباہ و النظائر میں ہے:

الفقاعي إذا قال عند فتح الفقاع للمشتري: صل على محمد، يكون آثماً، وكذا الحارس إذا قال في الحراسة: لا إله إلا الله، يعني لا جل الإعلام بأنه مستيقظ

رجل جاء إلى البزاز ليشتري منه ثوباً، فلما فتح المتاع قال: سبحان الله! أو قال: اللهم صل على محمد، إن أراد بذلك إعلام المشتري جودة ثيابه ومتاعه كره. (الأشباه والنظائر مع الحموي: ۱/۱۰٤).
الفقاع، نبيذ الشعير ونحوه. (تقريرات الرافعي: ۱/٦٤، سعيد).
وينظر: (الفتاوى الهندية: ۵/۳۱۵، والدر المختار مع رد المحتار: ۱/۵۱۸، سعيد، والبحر الرائق: ۱/۳٤۷، دار المعرفة، والمحيط البرهاني: ۵/۱۳۷، دار إحياء التراث).

تنبیہ: ممکن ہے کہ یہ لفظ قفاعی ہو تو زیادہ مناسب ہے کیوں کہ قفاع (قفعۃ) ٹوکرے کو کہتے ہیں یعنی ٹوکری کھولتے وقت درود پڑھے۔
عالمگیری میں ہے:

حارس يقول: لا إله إلا الله، أو يقول: صلي الله على محمد، يأثم لأنه يأخذ لذلك ثمناً، بخلاف العالم إذا قال في المجلس صلوا على النبي، أو الغازي يقول: كبروا، حيث يثاب، كذا في الكبري. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۱۵).

لیکن صاحب نصاب الاحتساب نے بہت عمدہ بات لکھی ہے فرماتے ہیں کہ میری رائے یہ ہے کہ حارس کو "لا الہ الا اللہ" پڑھنے پر ثواب ملے گا، وجہ اس کی یہ ہے کہ اجرت حفاظت پر ملتی ہے نہ کہ ذکر پر اس لیے کہ اگر حفاظت کے ساتھ دوسرا کوئی کلام کرتا تب بھی اجرت ملنے والی تھی، تو معلوم ہوا کہ اللہ تعالی کے ذکر میں مثاب ہوگا نہ کہ کمانے والا، کیوں کہ اگر ہم اس کو ذکر و اذکار سے منع کر دے جب کہ اس کو جہری کلام کی ضرورت ہے بیدار رہنے کے لیے تو بہت ہی قریب ہے کہ وہ موسیقی اور گانے میں مبتلا ہو جائے جو کہ حرام ہے۔
عبارت ملاحظہ کیجیے:

قال العبد: وعندي أنه يثاب عليه لان الأجر يأخذه على الحراسة لا على الذكر لأنه لو حرس بكلام آخر يستحق الأجر فعلم أنه في الذكر محتسب لا مستأجر ولأنا لو منعناه عن الذكر وأنه يحتاج إلى كلام يجهر به فلا يؤمن عليه أن يقع في الغناء وأنه حرام. (نصاب الاحتساب، ص ۳۰٦، الباب السادس والأربعون في الاحتساب في فعل البدع من الطاعات وترك السنن، للفقيه عمر بن محمد بن عوض السنامي).

(۲) علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ذکر و اذکار کو کسی کام کے لیے محض تنبیہ اور اعلام کا وسیلہ بنانا مکروہ ہے۔

قال صاحب الدر: وقد كرهوا الله أعلم، ونحوه لا علام ختم الدرس حين يقرر. وقال الشامي: فإنه استعمله آلة للإعلام ونحوه

فلم يكن المقصود الذكر. (فتاوى الشامي: ٦/٤۳۱).

اس کا مطلب یہ ہے کہ محض تنبیہ کا ذریعہ بنایا اجر و ثواب کی کوئی نیت نہیں کی، لیکن اگر اجر و ثواب کی نیت سے کہا جائے تو درست ہے جیسے خطباء اور واعظین اور مؤلفین و مصنفین اپنے کلام کے آخر میں
"وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العٰلمين"
پڑھتے ہیں، اور یہ مکروہ بھی نہیں ہے۔ معلوم ہوا کہ جب دنیا کمانا مقصود نہیں تو جائز اور درست ہے، جیسے بھوکا آدمی سلام کر کے کھانے کی مجلس میں شریک ہو جائے تو اس کو ثواب بھی ملے گا اور کھانا بھی ملے گا۔ ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

ودع آكلاً إلا إذا كنت جائعاً

٭

وتعلم منه أنه ليس يمنع
(الدر المختار: ۱/٦۱۷، سعيد).

نیز کھانے کے بعد دعا پڑھتے ہیں: "
الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمين"،
یہ ذکر بھی ہے اور کھانے کے اختتام کی علامت بھی ہے۔
٭ قابل غور بات یہ ہے کہ موبائل میں گھنٹی کوئی پسندیدہ چیز نہیں ہے ہاں بالکل ناجائز بھی نہیں ہے، چنانچہ حدیث شریف میں آتا ہے:

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ قال: لا تصحب الملائكة رفقة فيها كلب ولا جرس. (رواه مسلم: ۲/۲۰۲/۱۲۲۳، باب كراهة الكلب والجرس في السفر).
وعنه أن رسول الله ﷺ قال: الجرس مزامير الشيطان. (رواه مسلم: ۲/۲۰۲/۱۲۲٤، باب كراهة الكلب والجرس في السفر).

لیکن دیگر احادیث، شروح اور کتب الفقہ و الفتاوی کی روشنی میں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ گھنٹی سے منع کرنا درجِ ذیل تین وجوہات کی بنا پر تھا، جہاں ان باتوں میں کوئی بات نہ ہو وہاں گھنٹی کا استعمال درست ہوگا:
(۱) گھنٹی کے استعمال سے مسلمانوں کو نقصان کا اندیشہ ہو وہاں اس کا استعمال ممنوع ہے۔
ملاحظہ ہو المحیط البرہانی میں مرقوم ہے:

وقال محمد رحمه الله في السير الكبير: إنما يكره اتخاذ الجرس للغزاة في دار الحرب

لان العدو يشعر بمكان المسلمين

فعلي هذا قالوا: إذا كان الراكب في المفازة في دار الإسلام ويخافون من اللصوص يكره لهم تعليق الجرس على الدواب أيضاً حتى لا يشعر بهم اللصوص

فأما ما كان في دار الإسلام فيه منفعة لصاحب الراحلة فلا بأس به، قال: في الجرس منافع جمة منها: إذا ضل واحد من القافلة يلتحق بها بصوت الجرس، ومنها: أن صوت الجرس يبعد هوام الليل عن القافلة كالذئب وغيره، ومنها: أن صوت الجرس يزيد في نشاط الدواب، وهو نظير الحدو، فإنه جوز، لأنه يزيد في نشاط الدواب. (المحيط البرهاني: ۸/۱۲۵، فصل ۳۲، في المتفرقات من كتاب الكراهية، ط: المجلس العلمي).
(وكذا في الفتاوى الهندية: ۵/۳۵٤، الباب السابع عشر في الغناء واللهو).
وبهذه العلة علله ابن عابدين رحمه الله أيضاً فقال: ولعل رفع الصوت يجر بلاء، والحرب خدعة. (فتاوى الشامي: ٦/۳۹۸، سعيد).

(۲) گھنٹی کا مقصد محض لہو و لعب ہو یا لذت حاصل کرنا ہو تو ممنوع ہے ورنہ نہیں۔

قال المحدث السهارنفوري في بذل المجهود في شرح أبي داود:
"لا تصحب الملائكة رفقة فيها جرس أو كلب" وهذا إذا خليا عن المنفعة، وأما ما احتيج إليه منهما فمرخص فيه. (بذل المجهود: ۱۲/۵۳، المكتبة الإمدادية).
قال الملا على القاري في المرقاة: وقال بعض العلماء: جرس الدواب منهى عنه إذا اتخذ للهو، وأما إذا كان فيه منفعة فلا بأس
۔
(مرقاة المفاتيح: ۷/۳۲۷)
۔

وقال في تكملة فتح الملهم: والذي يظهر لهذا العبد الضعيف عفا الله عنه أن الكراهة المذكورة في الحديث إنما تنصرف إلى كلب وجرس قصد منهما اللهو والغناء، كما يعتاده بعض أهل القوافل ويدل عليه قوله عليه الصلاة والسلام في الرواية الآتية: الجرس مزامير الشيطان. (تكملة فتح الملهم: ٤/۱۷۹).

(۳) بعض لوگ اس عقیدہ کی وجہ سے گھنٹی ڈالتے تھے کہ بیماری، حسد اور نظر بد سے جانور محفوظ رہے گا، اس وجہ سے ممانعت وارد ہوئی تھی کہ مؤثر حقیقی اللہ تعالی کی ذات ہے۔ ملاحظہ ہو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"كانوا يقلدون الإبل أوتار القسي لئلا تصيبها العين بزعمهم، فأمروا بقطعها إعلاماً بأن الأوتار لا ترد من أمر الله شيئاً، وهذا قول مالك رحمه الله. (فتح الباري: ٦/۱٤۲).
وفي فتاوى الأزهر: والعلة في الكراهة أما أن التعاليق على الحيوانات كانت عند العرب لمنع الحسد، أو العلاج، أو دفع المرض كالخرز والتمائم

، وقد جاء النهى عنها في الأحاديث لاعتقادهم أنها تؤثر بذاتها، بعيداً عن إرادة الله تعالى

(فتاوى الأزهر: ۱۰/۳۳۷).
وللمزيد راجع: (فتح الباري: ٦/۱٤۲، وعمدة القاري: ۱۰/۳۱۸، وفتاوى اللجنة الدائمة، وفتاوى الكويت، وشرح النووي على صحيح مسلم: ۲/۲۰۲، ونفع المفتي والسائل، ص ٤۹۱، ط: دار ابن حزم).

خلاصہ یہ ہے کہ جب شریعت نے ضرورت کی وجہ سے گھنٹی کے استعمال کی اجازت دی ہے جب کہ گھنٹی پسندیدہ چیز نہیں ہے، تو موبائل میں کلماتِ طیبہ رکھنے کی اجازت بطریق اولی ہو گی۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
اشکالات اور جوابات:
اشکال: (۱) بعض حضرات یہ اشکال کرتے ہیں کہ آیاتِ قرآنیہ کو موبائل میں گھنٹی کی جگہ استعمال کرنے سے یہ خرابی لازم آتی ہے کہ بات چیت جاری ہونے پر آیتِ کریمہ کو درمیان میں سے کاٹنے کی وجہ سے کلام ناقص رہ جاتا ہے اور یہ ناجائز ہے؟
الجواب: ما قبل میں ہم لکھ چکے ہیں کہ آیتِ کریمہ پوری کرنے کا اہتمام کیا جائے اور اگر یہ اہتمام نہ ہو سکے تو آیات استعمال نہ کرے۔ تاہم اتفاقاً اگر آیتِ کریمہ پوری نہیں ہوئی تب بھی اس کو ناجائز نہیں کہا جائے گا ہاں خلاف ادب ضرور ہوگا، لیکن ناجائز کہنے کی کوئی وجہ نہیں، اس کی متعدد مثالیں قرآنِ کریم میں موجود ہیں:

(
۱
) ﴿إن الذين كفروا بالذكر لما جاء هم﴾. (فصلت: ٤۱).

اس جملہ کی خبر مذکور نہیں، صاحب جلالین نے
"نجازيهم"
مقدر مانا ہے ۔ (جلالین: 2/400)۔

(
۲
) "أفمن زين له سوء عمله فرآه حسناً" [الفاطر: ۸]
اس کی خبر مذکور نہیں، مفسرین نے: "
كمن لم يزين له"
بیان کی ہے۔ (
تفسير النسفي: ۲/۳۳٤).

اشکال: (۲) بیت الخلاء میں فون آنے پر گھنٹی بجنی شروع ہو جائے گی اور یہ کلماتِ طیبہ بیت الخلاء میں سنے جائیں گے جو کہ بے ادبی ہے، اور یہ ناجائز ہے، اس کا کیا جواب ہے؟
الجواب: صرف اس شبہ کی وجہ سے ناجائز کہنا محل نظر ہے، ہاں احتیاط کی تلقین کی جائے کہ حتی الامکان بند کرنے کے بعد داخل ہو، لیکن اس کے باوجود کوئی بند کرنا بھول جائے تو اور بیت الخلاء میں بجنا شروع ہو جائے تو بعد میں استغفار کر لے۔
حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی انگوٹھی پر "محمد رسول اللہ" کے الفاظ کندہ تھے آپ ﷺ بیت الخلاء تشریف لے جانے سے قبل اتار دیتے تھے، اگر چہ عام لوگوں کے لیے بھولنے کی وجہ سے بیت الخلاء میں لے جانے کا اندیشہ تو موجود ہے۔

عن أنس بن مالك رضي الله عنه

فاتخذ النبي ﷺ خاتماً من فضة، كأني أنظر إلى وبيصه، ونقشه محمد رسول الله. (رواه البخاري: ۲/۱۰٦۱).
وعنه أن النبي

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.