ریڈیو پر خبریں نشر کرنے کے ضوابط:
Question
ریڈیو پر جو خبریں نشر کی جاتی ہیں ان کے شرعی اصول و ضوابط کیا ہیں؟
Answer
اس سلسلہ میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے ایک مقالہ "اخبار بینی" کے نام سے تحریر فرمایا ہے جس میں اخبار بینی کے بے لذت گناہوں کی نشاندہی کی ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ کچھ شرعی اصول و ضوابط جمع فرمائے ہیں جن کی پابندی کرتے ہوے اخبارات سے یہ خرابیاں دور کی جا سکتی ہیں، لہذا یہی اصول و ضوابط ریڈیو کے لیے بھی رہیں گے:
اس سلسلہ میں سب سے جامع اور مانع اصول یہ ہے کہ جس وقت کسی چیز کے لکھنے یا نشر کرنے کا ارادہ کرے پہلے اپنے ذہن میں استفتاء کرے کہ اس کا لکھنا میرے لیے جائز ہے یا نہیں، اگر جائز ثابت ہو تو قدم آگے بڑھائے اور اگر خود احکامِ شرعیہ میں ماہر نہ ہو تو کسی ماہر سے استفتاء کرنا ضروری ہے، یہ ایک شرعی اجمالی قانون ہے جو ہر قسم کی تحریر میں ہر مسلمان کے مطمح نظر ہونا چاہیے نظر ہونا چاہیے، اس کے بعد ہم اس کی تفصیل چند نمبروں میں ذکر کرتے ہیں:
(۱) جو واقعہ کسی شخص کی مذمت اور مصائب پر مشتمل ہو اس کو اس وقت تک ہرگز شائع نہ کیا جائے جب تک حجتِ شرعیہ سے اس کا کافی ثبوت نہ مل جائے کیوں کہ چھوٹا الزام لگانا افتراء باندھنا کسی کافر پر بھی جائز نہیں ہے ۔
(۲) یہ بات بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ اس معاملہ میں حجتِ شرعیہ کے لیے کسی افواہ کا عام ہونا یا کسی اخبار کا لکھ دینا ہرگز کافی نہیں بلکہ شہادتِ شرعیہ ضروری ہے کیوں کہ دورِ حاضر کے موجود ہ تمام اخبارات کے صدہا تجربات نے اس بات کو ناقابل انکار کر دیا ہے کہ بہت سے مضامین اور واقعات اخبارات میں شائع ہوتے ہیں اور جس شخص کی طرف سے شائع کیے جاتے ہیں اس غریب کو خبر تک نہیں ہوتی اور یہ صورت کبھی تو قصداً کی جاتی ہے اور کبھی سہواً خطا ہو جاتی ہے، اس لیے اگر کسی اخبار میں کسی شخص کے حوالہ سے کوئی مضمون یا واقعہ نقل کر دیا جائے تو شرعاً اس کو ثابت نہیں کہا جا سکتا، البتہ اگر یہ واقعہ کسی کی مذمت یا مضرت و عیب جوئی پر مشتمل نہ ہو تو پھر یہ ضعیف ثبوت بھی کافی ہے اور اس کو نقل کر کے شائع کر دیا جائے ۔
(۳) کسی شخص کا عیب یا گناہ کا واقعہ اگر حجتِ شرعیہ سے بھی ثابت ہو جائے تب بھی اس کی اشاعت کرنا جائز نہیں بلکہ اس وقت بھی اسلامی فرض یہ ہے کہ خیر خواہی سے تنہائی میں اس کو سمجھایا جائے اگر سمجھانے سے نہ مانے اور آپ کو قدرت ہو تو جبراً اس کو روک دے ورنہ کلمہ حق پہنچا کر آپ اپنے فریضہ سے سبکدوش ہو جائیں، اس کی اشاعت کرنا اور رسوا کرنا تجربہ سے ثابت ہے کہ بجائے مفید ہونے کے ہمیشہ مضر ہوتا ہے اور اس لیے رحمۃ ً للعلمین ﷺ نے متعدد احادیث میں اس کی تاکید فرمائی ہے کہ اگر اپنے مسلمان بھائی کا کوئی عیب یا گناہ ثابت ہو تو اس کو رسوا نہ کرے بلکہ پردہ پوشی سے کام لے اور خفیہ اس کو سمجھائیں کیوں کہ یہی طرز زیادہ مؤثر اور مفید ثابت ہوا ہے ۔
(٤) البتہ اگر کسی مسلمان کا ایسا عیب یا گناہ حجتِ شرعیہ سے ثابت ہوا کہ جس کا نقصان اپنی ذات کو پہنچتا ہے اور یہ اس سے مظلوم ٹھہرتا ہے تو پھر اس کی برائی کو علانیہ شائع کر سکتا ہے، اس کے متعلق حق تعالی کا ارشاد ہے:
﴿لايحب الله الجهر بالسوء من القول إلا من ظلم﴾
کہ اللہ تعالی برائی کے اعلان کو پسند نہیں فرماتے مگر جن پر ظلم کیا گیا (وہ ظالم کے ظلم کا اعلان کر سکتا ہے) (روح المعانی) لیکن اس صورت میں بہتر یہ ہے کہ عام اعلان و اشاعت کے بجائے صرف ان لوگوں کے سامنے بیان کرے جو اس کی داد رسی کر سکیں ۔
(۵) اگر کسی اخبار میں کوئی قابل تردید غلط مضمون کسی شخص کے نام سے طبع ہوا ہو تو اس کے جواب میں صرف اس پر اکتفا کیا جائے کہ فلان اخبار نے ایسا لکھا ہے اس کا جواب یہ ہے، اس شخص کی ذات پر کوئی حملہ نہ کیا جائے کیوں کہ ابھی تک کسی حجتِ شرعیہ سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ واقع میں یہ مضمون اسی شخص کا ہے ۔
(٦) جو خبر کسی شخص کی مذمت اور ضرر پر مشتمل نہ ہو اس کی اشاعت جائز ہے مگر اس شرط سے کہ کسی مسلمان کی خاص مصلحت یا عام مصلحت کے خلاف نہ ہو اور جن میں ایسا احتمال ضعیف بھی ہو تو بجز ان لوگوں کے جو عقل اور شرع کے موافق اس معاملہ کو ہاتھ میں لیے ہوے ہوں عام لوگوں پر اس کو ظاہر کرنا نہ چاہیے کیوں کہ ممکن ہے کہ اس کے نقصانات کی طرف اس شخص کی نگاہ نہ پہنچی ہو، آیت
﴿وإذا جاء هم أمر من الأمن أو الخوف أذاعوا به﴾
میں ایسے ہی اخباروں اور جلسوں کی مضرت اور مذمت کو بیان فرمایا ہے، لیکن مسلمان کے لیے مناسب ہے کہ اس کو بھی محض خبر کی حیثیت سے نقل نہ کرے بلکہ اس سے کوئی دینی یا دنیوی فائدہ پیدا کرے، اول تو کوئی واقعہ اور کوئی خبر دنیا میں ایسی کم ہوتی ہے جو نتیجہ خیز نہ ہو یا جن سے کوئی دینی یا دنیوی فائدہ متصور نہ ہو، لیکن اگر کوئی خبر ایسی بھی ہو تب بھی اس کو محض تفریح طبع کے مد میں ذکر کر دینا مضائقہ نہیں بلکہ یہ بھی ایک درجہ میں شرعاً مطلوب ہے اور حضرت نبی کریم ﷺ کا بعض اوقات مزاح فرمانا اسی حکمت پر مبنی تھا ۔
(۷) خلاف شرع مضامین اور ملحدین کے عقائد باطلہ اول تو شائع نہ کیے جائیں اور اگر کسی ضرورت سے اشاعت کی نوبت آئے تو جن پر چہ میں (یا مجلس میں ) وہ شائع ہوں اسی میں ان کی تردید اور شافی جواب بھی ضرور شائع کر دیے جائیں، آئندہ پر چہ پر (یا مجلس میں ) اس کو حوالہ نہ کیا جائے کیوں کہ بہت سے آدمی وہ ہوتے ہیں جن کی نظر سے آئندہ پر چے نہیں گزرتے خدا نہ خواستہ اگر وہ اس سے کسی شبہ میں گرفتار ہو گئے تو اس کا سبب شائع کرنے والا ہو گا ۔
(۸) اگر مسلمانوں پر کافروں کے ظلم کی خبر شائع کرنا ہو تو جب تک ظلم کی نسبت کافروں کی طرف حجتِ شرعیہ سے ثابت نہ ہو اس طرح شائع کیا جائے کہ فلان مقام کے مسلمانوں پر مظالم ہو رہے ہیں، مسلمان ان مظالم کا انسداد کریں اور جائز طریق پر اس کی جانی و مالی امداد کریں ۔
(۹) اخبار کا ایڈیٹر ہمیشہ ایسا شخص بنے جو تمام علومِ اسلامیہ پر عبور رکھتا ہو یا کم از کم علماء سے رجوع کرنے کا پابند ہو اور مذہب سے ہمدردی رکھنے والا ہو ورنہ ظاہر ہے کہ اخبارات اشاعت بے دینی و بے قیدی کا ایک کامیاب آلہ ہے ۔
(۱۰) کسی ایسی کتاب کا جو دین کو مضر ہو یا ایسی دوا کا جو شرعاً حرام ہو یا کسی ایسے معاملہ کا جو شرعاً فاسد ہو اشتہار نہ دیا جائے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
فصل چہارم
آلاتِ جدیدہ سے تصویر کشی کے احکام
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2863
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2863