دندان سازی کے لیے تصویر کا حکم:

4 min readFatwa Vol 7 #275Urdu

Question

کیا دندان سازی کے لیے ڈیجیٹل امیج استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟ کمپوٹر ڈیجیٹل امیج (Computer digital image) یہ ہے کہ مریض کے دانتوں کی تصویر لی جاتی ہے اور ڈاکٹر مختلف طریقہ علاج سے تجربہ کرتا ہے کہ مریض کو کتنا مفید ہوگا اور مریض بھی دیکھ سکتا ہے کہ علاج کا یہ فائدہ ہے اور قبل از علاج اور بعد از علاج کیا شکل رہے گی، کیا اس کی اجازت ہو گی یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

ڈیجیٹل کیمرے کی تصویر کے بارے میں علمائے کرام کا اختلاف پہلے گزر چکا ہے اور دلائل بھی مذکور ہوئے البتہ جو حضرات عدمِ جواز کے قائل ہیں ان کے نزدیک بھی ضرورت اور حاجت کی وجہ سے جائز ہے ۔ ملاحظہ ہو تکملہ فتح الملہم میں ہے:

هذا هو حكم الصورة في الأصل، أما اتخاذ الصورة الشمسية للضرورة أو الحاجة كحاجتها في جواز السفر، وفي التأشيرة، وفي البطاقات الشخصية، أو في مواضع يحتاج فيها إلى معرفة هوية المرء، فينبغي أن يكون مرخصاً فيه، فإن الفقهاء استثنوا مواضع الضرورة من الحرمة، قال الإمام محمد رحمه الله في السير الكبير: وإن تحققت الحاجة له إلى استعمال السلاح الذي فيه تمثال فلا بأس باستعماله" وأعقبه السرخسي رحمه الله في شرحه (۲/۲۷۸) بقوله: لان مواضع الضرورة مستثناة من الحرمة

الخ. (تكملة فتح الملهم: ٤/۱٦٤).

حلال و حرام میں ہے:
(٦) ضرورۃ ً مثلاً پاسپورٹ، شناختی کارڈ، بس و ریلوے پاس، مجرموں کی شناخت کے لیے تصویروں کی حفاظت یا کسی بڑی قومی مصلحت کے تحت تصویر کشی جائز ہو گی کہ دشواریوں کی وجہ سے احکامِ شرع میں سہولت پیدا ہو جاتی ہے:
المشقة تجلب التيسير
۔ (حلال و حرام، ص۲۲۹) ۔ (و کذا فی جدید فقہی مسائل: ۱/۳۵۸) ۔
حضرت مفتی تقی صاحب تقریر ترمذی میں درجِ ذیل الفاظ میں تحریر فرماتے ہیں:
مواضع حاجت میں تصویر کا حکم:
البتہ اس اختلاف سے ایک بات یہ سامنے آتی ہے کہ اس کا جواز اور عدمِ جواز دو وجہ سے مجتہد فیہ معاملہ بن گیا ہے، ایک یہ کہ اس بارے میں امام مالک رحمه الله کا اختلاف ہے ۔ دوسرے یہ کہ کیمرے کی تصویر کے بارے میں علامہ بخیت رحمه الله کا فتوی موجود ہے ۔ اگر چہ وہ فتوی ہمارے نزدیک درست نہیں ہے، لیکن بہرحال ایک جدید شیٔ کے بارے میں ایک متورع عالم کا قول موجود ہے، اس لیے یہ مسئلہ مجتہد فیہ بن گیا ۔ اور مجتہد فیہ مسئلہ میں حاجتِ عامہ کے وقت گنجائش پیدا ہو جاتی ہے ۔ لہذا جہاں کہیں حاجتِ عامہ ہو گی جیسے پاسپورٹ میں اور شناختی کارڈ میں یا کسی ایسی جگہ میں جہاں انسان کو اپنی شناخت کرانی ہو اور شناخت کے بغیر کام نہ چلتا ہو اور تصویر کے بغیر شناخت نہ ہو سکتی ہو تو ان مواقع پر اس کا استعمال جائز ہو جائے گا، اور مواضع حاجت کے بغیر اس کا استعمال کرنا جائز نہیں ۔ اس سے پرہیز کرنا ضروری ہے ۔ (تقریر ترمذی، جلدِ دوم، ص ۳۵۰) ۔
خلاصہ یہ ہے دندان سازی کے لیے تصویر لینا جائز ہے ہاں اشتہار کے لیے چہرے کی تصویر ناجائز ہے فقط دانتوں کی تصویر جائز ہے ۔ بعض اطباء حضرات نے بتلایا کہ اگر تصویر نہ لی جائے تو کبھی کبھی مریض ڈاکٹر کے خلاف مقدمہ دائر کر لیتا ہے کہ اس نے میرا علاج صحیح طور پر نہیں کیا ۔ نیز بعض ڈاکٹر کے اختیار کردہ طریقہ علاج کی افادیت بیان کرنے کے لیے اس تصویر کو علمِ طب کے طلبہ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، اگر ایسا ہے تو اس ضرورت کی وجہ سے فوٹو لینے کی گنجائش ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.