قرآنِ پاک پڑھ کر بھولنے پر وعید:
Question
اگر کوئی شخص قرآن سیکھنے اور یا د کرنے کے بعد بھول جائے تو قرآن اور حدیث میں ایسے شخص کے لیے کوئی وعید وارد ہوئی ہے یا نہیں؟ اور حفظ قرآن مستحب ہے یا فرض کفایہ ہے؟ اور دونوں میں کیا فرق ہے؟ بینوا توجروا۔
Answer
قرآن سیکھ کر بھول جانے کی مختلف وعیدیں مختلف احادیث میں وارد ہوئی ہیں، اکثر ان میں سے ضعیف ہیں ۔ نیز بعض علماء نے اس کو گناہِ کبیرہ میں شامل فرمایا ہے ۔ چند احادیث حسبِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
أخرج الإمام أبو داود، قال: حدثنا عبد الوهاب بن الحكم الخزاز، أخبرنا عبد المجيد بن عبد العزيز بن أبي رواد، عن ابن جريج، عن المطلب بن عبد الله بن حنطب، عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: عرضت على أجور أمتي حتى القذاة يخرجها الرجل من المسجد، وعرضت على ذنوب أمتي، فلم أر ذنباً أعظم من سورة من القرآن أو آية أوتيتها رجل ثم نسيها. (رواه أبو داود، رقم: ٤٦۱، والترمذي، رقم: ۲۹۱٦).
قال الشيخ شعيب: إسناده ضعيف، ابن جريج، مدلس ورواه بالعنعنة، ولم يسمع من المطلب
الخ. وللمزيد من البحث راجع: (تعليقات الشيخ شعيب على سنن أبي داود: ۱/۳٤٦/٤٦۱).
قال الإمام النووي رحمه الله في الأذكار (۱/۸۹): تكلم الترمذي فيه. وتعقب عبد القادر الأرناؤوط: فقال: لكن للحديث شواهد بالمعني يرتقي بها إلى درجة الحسن. (روضة المحدثين، رقم: ٤٦٦۲).
ترجمہ: حضرت انس بن مالک
رضي الله عنه
روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری امت کے ثواب میرے رو برو پیش کیے گئے یہاں تک کہ اس کوڑے اور خس و خاشاک کا ثواب بھی پیش ہوا جس کو آدمی مسجد سے باہر نکالتا ہے اور اسی طرح میری امت کے گناہ بھی مجھ پر پیش کیے گئے تومیں نے اس سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں دیکھا کہ کسی شخص کو قرآن کی کوئی سورت یا کوئی آیت یا دہو اور وہ اس کو بھول گیا ہو۔
وأيضاً أخرج بسنده من حديث سعد بن عبادة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: ما من امرئ يقرأ القرآن، ثم ينساه، إلا لقي الله عزوجل يوم القيامة أجزم. (أبو داود، رقم: ۱٤۷٤، والترمذي، رقم: ۳۳۸۳).
إسناده ضعيف؛ فيه ثلاث علل: جهالة عيسى بن فائد، وجهالة الرجل، وضعف يزيد بن أبي زياد. وللمزيد من البحث راجع: (تعليقات الشيخ شعيب على سنن أبي داود: ۲/۵۹۹، ٦۰۰/۱٤۷٤).
ترجمہ: حضرت سعد بن عبادہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص قرآن شریف کو پڑھے اور پھر اس کو بھول جائے قیامت کے دن وہ اللہ تعالی کے دربار میں کوڑھی ہو کر حاضر ہوگا ۔ (کوڑھ وہ بیماری ہے جس سے ہاتھ پیر وغیرہ اعضا گل سڑ جاتے ہیں اور انسانی بدن کا گوشت گل سڑ کر گر جاتا ہے)۔
أخرج الإمام أحمد في زهده (ص ۲۸۱، رقم: ۱۷۵۰) قال: حدثنا زيد بن الحباب، أنبأنا خالد بن دينا ر قال: سمعت أبا العالية قال: كنا نعد من أعظم الذنوب أن يتعلم الرجل القرآن ثم ينام عنه حتى ينساه.
قال الشيخ شعيب: هذا مسند صحيح إلى أبي العالية وهو رفيع بن مهران الرياحي البصري أدرك الجاهلية وأسلم بعد وفاة النبي ﷺ ودخل على أبي بكر وصلي خلف عمر رضي الله عنه وروي عن جمع من الصحابة ث. (تعليقات الشيخ شعيب على سنن أبي داود: ۲/٦۰۰). وقال الحافظ ابن حجر رحمه الله: إسناده جيد. (فتح الباري: ۹/۸٦).
ترجمہ: ابو العالیہ کہتے ہیں کہ قرآن یاد کر کے سو جانے اور بھول جانے کو ہم بڑے گناہوں میں شمار کرتے تھے ۔ یہ روایت صحیح ہے ۔
وقال الحافظ: ومن طريق ابن سيرين رحمه الله بإسناد صحيح في الذي ينسي القرآن كانوا يكرهونه ويقولون فيه قولاً شديداً. (فتح الباري: ۹/۸٦).
وعن ابن جريج، قال: قال أنس بن مالك رضي الله عنه: أن رسول الله ﷺ قال: إن من أكبر ذنب توافي أمتي يوم القيامة لسورة من كتاب الله مع أحدهم فنسيها.
ابن جریج کہتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک
رضي الله عنه
نے روایت بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک سب سے بڑا گناہ جو قیامت کے دن امت کو لاحق ہوگا وہ قرآن کی سورت بھلا دینے کا ہوگا ۔ (اس بھولنے سے مراد یہ ہے کہ ناظرہ بھی نہ پڑھ سکے)۔
وعن عكرمة رضي الله عنه ومجاهد رحمه الله قالا: إذا علم الرجل القرآن، ثم نسيه يجيء يوم القيامة فيقول: لو حفظتني لبلغت بك المنزل، ولكنك قصرت فقصرت بك.
حضرت عکرمہ رضي الله عنه اور حضرت مجاہد رحمه الله دونوں کا قول ہے کہ جب کوئی قرآن سیکھے اور پھر اس کو بھلا دے قیامت کے دن قرآنِ پاک آئے گا اور اس کو کہے گا اگر تو مجھے یاد رکھتا تو میں تجھے اونچے درجہ پر پہنچا دیتا لیکن تو نے غفلت و کوتاہی برتی لہذا میں بھی آج تیری خدمت سے قاصر ہوں۔
وعن الضحاك رحمه الله: ما تعلم أحد القرآن فنسيه إلا بذنب، ثم قرأ ﴿ما أصابكم من مصيبة فبما كسبت أيديكم ويعفو عن كثير﴾ وأي مصيبة أعظم من نسيان القرآن. (قيام الليل وقيام رمضان وكتاب الوتر، وابن كثير في فضائل القرآن: ۱/۱٤۰، فتح الباري: ۹/۸٦).
قال الحافظ ابن حجر رحمه الله: واختلف السلف في نسيان القرآن فمنهم من جعل ذلك من الكبائر. (فتح الباري: ۹/۸٦).
(۲) قرآن حفظاً یاد کرنا فرضِ کفایہ ہے یعنی تمام لوگوں کے ترک کرنے سے سب گنہگار ہوں گے اور بعض کر لے تو دوسرے کے لیے فقط مستحب ہے واجب اور لازم نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو ملا علی قاری رحمه الله مرقات میں فرماتے ہیں:
إن حفظ القرآن من فروض الكفاية فيخاطب به كل الأمة في كل زمن نعم إن حفظه جمع منهم يقوم بهم الكفاية سقط الحرج عن جميعهم وإلا أثموا كلهم. (مرقاة المفاتيح: ٤/۳۸۰، فضائل القرآن، ط: مكتبه إمداديه، ملتان).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2881
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2881