جنات سے متعلق چند سوالات کے جوابات:

15 min readFatwa Vol 8 #30Urdu

Question

۱۔ کیا جنات تابع ہو سکتے ہیں؟ اگر تابع ہو سکتے ہیں تو کیا ان کو تابع کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
۲۔ کیا وہ غیب کی باتیں بتلا سکتے ہیں؟ اگر بتلا سکتے ہیں تو کیا ان سے غیب کی باتیں پوچھنا جائز ہے یا نہیں ؟ اور ان کی خبروں پر اعتماد کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

Answer

۱۔ بصورتِ مسئولہ جنات کو تابع کرنا ممکن ہے، حضرت سلیمان علیہ السلام نے دعا کی تھی تو اللہ تعالی نے دعا فرما کر جنات تابع کرنے کی قدرت دی تھی، نصوصِ کثیر ہ اس پر شاہد ہیں۔
پھر جنات تابع کرنے کی مختلف صورتیں ہیں:
٭ اگر تسخیر کا مقصد ان کو اللہ تعالی کی اطاعت اور فرماں برداری پر لانا ہے تو یہ جائز ہے۔
٭ اگر تسخیر کا مقصد ان کو مباح کام میں استعمال کرنا ہو تو یہ بھی جائز ہے۔
٭ اگر تسخیر کا مقصد ان کو غلط اور ناجائز امور میں استعمال کرنا ہو تو یہ ناجائز ہے، پھر اگر ان کو کفریہ کاموں میں استعمال کریں تو کفر ہے، اور اگر فسق و فجور میں استعمال کریں تو فسق اور گناہ ہے۔
٭ اگر تسخیر کا مقصد ان کو مسلوب القدرۃ کرنا ہے تو یہ بھی درست نہیں کہ اس میں استرقاق الحر ہے۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کو جنات پر قدرت حاصل تھی، اس کے ثبوت میں چند نصوص درجِ ذیل ملاحظہ کیجیے:

قال الله تعالى: ﴿ومن الشياطين من يغوصون له ويعملون عملاً دون ذلك وكنا لهم حافظين﴾
وقال تعالى: ﴿وحشر لسليمان جنوده من الجن والإنس والطير فهم يوزعون﴾
وقال تعالى: ﴿ومن الجن من يعمل بين يديه بإذن ربه ومن يزغ منهم عن أمرنا نذقه من عذاب السعير، يعملون له ما يشاء من محاريب وتماثيل وجفان كالجواب وقدور راسيات، اعملوا آل داود شكراً﴾
وقال تعالى: ﴿والشياطين كل بناء وغواص وآخرين مقرنين في الأصفاد﴾
وقال تعالى: ﴿قال عفريت من الجن أنا آتيك به قبل أن تقوم من مقامك﴾
وقال شاكر في كتاب العجائب: حدثنا محمد بن عمير أبو عزيز حدثنا عمران بن موسى بمكة حدثنا على بن مهران حدثنا جرير بن عبد الحميد عن سفيان بن عبد الله أن عمر بن عبد العزيز سأل موسى بن نصير أمير المغرب وكان يبعث في الجيوش حتى بلغ أو سمع وجوب الشمس عن أعجب شيء رأه في البحر فقال: انتهيت إلى جزيرة من جزائر البحر فإذا نحن ببيت مبني وإذا نحن فيها بسبع عشرة جرة خضراء مختومة بخاتم سليمان عليه السلام فأمرت بأربع منها فأخرجت وأمرت بواحدة منها فنقبت فإذا شيطان يقول: والذي أكرمك بالنبوة لا أعود بعدها أفسد في الأرض ثم نظر فقال: ما أري بها سليمان وملكه فانساخ في الأرض فذهب فأمرت بالبواقي فردت إلى مكانها. (آكام المرجان في أحكام الجان، ص ۱۳۸، ۱۳۹).

حدیث شریف میں ہے:

عن أبي الدرداء رضي الله عنه قال: قام رسول الله ﷺ فسمعناه يقول: أعوذ بالله منك، ثم قال: ألعنك بلعنة الله ثلاثاً، وبسط يده كأنه يتناول شيئاً، فلما فرغ من الصلاة قلنا: يا رسول الله! لقد سمعناك تقول في الصلاة شيئاً، لم نسمعك تقوله من قبل، ورأيناك بسطت يدك، فقال: إن عدو الله إبليس جاء بشهاب من نار ليجعله في وجهي، فقلت: أعوذ بالله منك ثلاث مرات، ثم قلت: ألعنك بلعنة الله التامة، فلم يستأخر ثلاث مرات، ثم أردت أخذه، والله لولا دعوة أخينا سليمان لا صبح موثقاً يلعب به ولدان أهل المدينة. (صحيح مسلم، رقم: ۵٤۲).

صحیح بخاری شریف میں ہے:

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن الرسول ﷺ قال: إن عفريتاً من الجن جعل يفتك على البارحة ليقطع على الصلاة، وإن الله أمكنني منه، فذعته، فلقد هممت أن أربطه إلى جنب سارية من سواري المسجد، حتى تصبحوا تنظرون إليه أجمعون (أو كلكم) ثم ذكرت قول أخي سليمان: رب اغفر لي وهب لي ملكاً لا ينبغي لاحد من بعدي، فرده الله خاسئاً. (صحيح البخاري، رقم: ۳٤۲۳).

معارف القرآن میں مرقوم ہے: خلاصہ یہ ہے کہ جنات کی تسخیر کسی کے لیے بغیر قصد و عمل کے محض من جانب اللہ ہو جائے جیسا کہ سلیمان علیہ السلام اور بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کے متعلق ثابت ہے تو وہ معجزہ یاکرامت میں داخل ہے۔ اور جو تسخیر عملیات کے ذریعہ کی جاتی ہے اس میں اگر کلماتِ کفریہ یا اعمالِ کفریہ ہوں تو کفر اور صرف معصیت پر مشتمل ہوں تو گناہِ کبیرہ ہے۔ اور اگر ایسے کلمات ہوں جن کا معنی معلوم نہ ہوں تو ناجائز ہے اس لیے کہ ہو سکتا ہے کہ کفریہ کلمات ہوں۔ اور اگر اسمائے الہیہ یا آیاتِ قرآنیہ ہوں اور اس میں نجاست وغیرہ کے استعمال جیسی کوئی معصیت نہ ہو تو دفع مضرت کے لیے جائز ہے اور اگر مقصود کسبِ مال ہو تو جائز نہیں استرقاق الحر کی وجہ سے۔ (معارف القرآن:
۷
/
۲٦٦
)۔
مجموع الفتاوی لابن تیمیہ میں مرقوم ہے:

الجن مع الإنس على أحوال: فمن كان من الإنس يأمر الجن بما أمر الله به ورسوله من عبادة الله وحده وطاعة نبيه، ويأمر الإنس بذلك، فهذا من أفضل أولياء الله تعالى، وهو في ذلك من خلفاء الرسول ﷺ ونوابه.
ومن كان يستعمل الجن في أمور مباحة له، فهو كمن استعمل الإنس في أمور مباحة له، وهذا كأن يأمرهم بما يجب عليهم، وينهاهم عما حرم عليهم، ويستعملهم في مباحات له، فيكون بمنزلة الملوك، الذين يفعلون مثل ذلك، وهذا إذا قدر أنه من أولياء الله

ومن كان يستعمل الجن فيما ينهي الله عنه ورسوله إما في الشرك، وإما في قتل معصوم الدم، أو في العدوان عليهم بغير القتل، كتمريضه وإنسائه العلم، وغير ذلك من الظلم، وإما في فاحشة، كجلب من يطلب منه الفاحشة، فهذا قد استعان بهم على الإثم والعدوان، ثم إن استعان بهم على الكفر فهو كافر، وإن استعان بهم على المعاصي فهو عاصٍ: إما فاسق، وإما مذنب غير فاسق، وإن لم يكن تام العلم بالشريعة، فاستعان بهم فيما يظن أنه من الكرامات، مثل أن يستعين بهم على الحج، أو يطيروا به عند السماع البدعي، أو أن يحملوه إلى عرفات، ولا يحج الحج الشرعي الذي أمره الله به ورسوله، وأن يحملوه من مدينة إلى مدينة، ونحو ذلك، فهذا مغرور قد مكروا به. (مجموع الفتاوي: ۱۱/ ۳۰۷، ۳۰۸).

جواب: ۲۔ علمِ غیب یہ اللہ تعالی کی صفتِ خاصہ ہے، نہ کوئی انسان علمِ غیب جانتا ہے اور نہ کوئی جنات، اور اس کے دلائل میں قرآن و حدیث بھرے ہوے ہیں۔
شیخ عمر بن سلیمان الاشقر العتیبی اپنی کتاب
"عالم الجن والشياطين"
میں لکھتے ہیں:

شاع لدي كثير من الناس أن الجن يعلمون الغيب، ومردة الجن يحاولون أن يؤكدوا هذا الفهم الخاطئ عند البشر، وقد أبان الله للناس كذب هذه الدعوي، عند ما قبض روح نبيه سليمان عليه السلام، وكان قد سخر له الجن يعملون بين يديه بأمره، وأبقي جسده منتصباً، واستمر الجن يعملون، وهم لا يدرون بأمر وفاته، حتى أكلت دابة الأرض عصاه المتكئ عليها، فسقط فتبين للناس كذبهم في دعواهم، أنهم يعلمون الغيب، ﴿فلما قضينا عليه الموت ما دلهم على موته إلا دابة الأرض تأكل منسأته فلما خر تبينت الجن أن لو كانوا يعلمون الغيب ما لبثوا في العذاب المهين﴾ [سبأ: ۱٤

ہاں بعض مرتبہ جنات مستقبل کی ایسی باتیں بتلاتے ہیں جو بعد میں سچی ہوتی ہیں، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ مختلف نصوص سے یہ بات ثابت ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانہ تک جنات آسمان میں جاتے تھے اور خبریں سن کران کو نقل کرتے تھے اور سچی نکلتی تھیں، لیکن اس سے ان کا عالم الغیب ہونا لازم نہیں آتا بلکہ فقط ناقل غیب تھے، پھر حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت کے بعد ان کو تیسرے آسمان تک جانے سے روک دیا گیا، اور رسول اللہ ﷺ کی ولادت با سعادت کے بعد پہلے آسمان تک جانے سے بھی روکا گیا، اس کے باوجود جانے کی کوشش کرتے ہیں تو فرشتے ان کو شہابِ ثاقب (دہکتے ہوے انگاروں) سے مارتے ہیں۔

قال الله تعالى: ﴿وأنا لمسنا السماء فوجدناها ملئت حرساً شديداً وشهباً، وأنا كنا نقعد منها مقاعد للسمع فمن يستمع الآن يجدله شهاباً رصداً﴾ [الجن: ۸، ۹].
آكام المرجان في أحكام الجان
میں مرقوم ہے:

ذكر الزبير بن أبي بكر وغيره أن إبليس كان يخترق السموات قبل عيسى عليه السلام فلما ولد وبعث عليه السلام حجب عن ثلاث سموات فلما ولد محمد ﷺ حجب عنها كلها وقذفت الشياطين بالنجوم.
وقالت قريش حين كثر القذف بالنجوم قامت الساعة فقال عتبة بن ربيعة: انظروا إلى العيوق فإن كان قد رمي به فقد آن قيام الساعة، وإلا فلا

وذكر أن أول العرب فزع للرمي بالنجوم حين رمي بها للقذف ثقيف وأنهم جاءوا إلى رجل منهم يقال له عمرو بن أمية أحد بني علاج وكان أدهي العرب وأكثرها رأياً فقالوا له يا عمرو ألم تر ما حدث في السماء من القذف بهذه النجوم قال بلي، فانظروا فإن كانت معالم النجوم التي يهتدي بها في البر والبحر وتعرف بها الأنواء من الصيف والشتاء لما تصلح الناس في معايشهم هي التي يرمي بها فهو والله طي الدنيا وهلاك هذا الخلق الذي فيها وإن كانت نجوماً غيرها وهي ثابتة فهذا الأمر أراد الله تعالى بهذا الخلق.
وروي ابن عبد البر من طريق أبي داود بسنده إلى الشعبي قال: لما بعث النبي ﷺ رجمت الشياطين بنجوم لم تكن ترجم بها قبل فأتوا عبد ياليل بن عمرو الثقفي فقالوا: إن الناس قد فزعوا واعتقوا رقبتهم وسيبوا انعامهم لما رأوا في النجوم فقال لهم وكان رجلاً أعمي لا تعجلوا وانظروا فإن كانت النجوم التي تعرف فهي عند فناء الناس وإن كانت لا تعرف فهي من حدث فنظروا فإذا هي نجوم لا تعرف فقالوا هذا من حدث فلم يلبثوا حتى سمعوا بالنبي ﷺ. (آكام المرجان في أحكام الجان، الباب الثامن والستون في جواز سؤال الجن عن الاحوال الماضية دون الامور المستقبلة، ص ۱۷۳).

دلائل النبوۃ میں امام بیہقی رحمه الله فرماتے ہیں:

إن الشياطين كانوا يصعدون إلى السماء فيستمعون الكلمة من الوحي فيهبطون بها إلى الأرض فيزيدون معها تسعاً فيجد أهل الأرض تلك الكلمة حقاً والتسع باطلاً، فلم يزالوا كذلك حتى بعث الله محمداً ﷺ، فمنعوا تلك المقاعد، فذكروا ذلك لا بليس، فقال: لقد حدث في الأرض حدث فبعثهم، فوجدوا رسول الله ﷺ يتلو القرآن بين جبلي نخل، قالوا: هذا والله لحدث، وإنهم ليرمون فإذا تواري النجم عنكم فقد أدركه لا يخطئ أبداً لا يقتله يحرق وجهه، جنبه، يده

(دلائل النبوة للامام البيهقي: ۲/۲۳۹).

احیاناً جنات کی بات سچی ہوتی ہے اس کی حقیقت:
حدیث شریف میں ہے: حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنه سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس وقت اللہ تعالی آسمان میں کسی چیز کا حکم جاری کرتا ہے، تو فرشتے اللہ تعالی کے فرمان سن کر خوف و عاجزی سے اپنے بازو کو پھڑ پھڑانے لگتے ہیں، اور اللہ تعالی کے فرمان یعنی اس کے کلام کی آواز گویا اس زنجیر کی آواز کی مانند ہوتی ہے، جس کو صاف پتھر پر کھینچا جائے، پھر جب فرشتوں کے دلوں سے خوف دور ہو جاتا ہے تو وہ نیچے رہنے والے تمام فرشتے مقرب فرشتوں سے دریافت کرتے ہیں کہ تمہارے پروردگار نے کیا حکم جاری فرمایا ہے مقرب فرشتے وہ حکم بتاتے ہیں، چنانچہ ان باتوں کو چوری چھپے سننے والے جنات و شیاطین سن لیتے ہیں اور اوپر والا جن فرشتوں کی بات کو چوری چھپے سن کر اپنے نیچے والے جن کو پہونچا دیتا ہے اور وہ اپنے نیچے والے جن کو، یہاں تک کہ آخری جن جو سب سے نیچے ہوتا ہے اس بات کو ساحر یا کاہن کی زبان تک پہنچا دیتا ہے وہ اس میں سو جھوٹی باتیں شامل کر لیتا ہے۔ (رواہ البخاری)۔
چنانچہ مذکورہ بالا عبارات سے معلوم ہوا کہ جنات کو علمِ غیب حاصل نہیں ہے لہذا ان سے غیب کی باتیں پوچھنا ناجائز اور حرام ہے۔ ملاحظہ ہو علامہ ابن تیمیہ رحمه الله اپنے فتاوی میں لکھتے ہیں:

أما سؤال الجن وسؤال من يسألهم فهذا: إن كان على وجه التصديق لهم في كل ما يخبرون به والتعظيم للمسئول فهو حرام كما ثبت في صحيح مسلم وغيره عن معاوية بن الحكم السلمي قال: قلت: يا رسول الله! أمورا كنا نصنعها في الجاهلية كنا نأتي الكهان، قال: فلا تأتوا الكهان

(مجموع الفتاوى لابن تيمية رحمه الله: ۱۹/٦۲).

علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:

والذي يدعي أن له صاحباً من الجن يخبره عما سيكون، والكل مذموم شرعاً، محكوم عليهم وعلى مصدقهم بالكفر. (رد المحتار على الدر المختار: ٤/۲٤۲، سعيد).

فتاوی تاتارخانیہ میں مرقوم ہے:

يكفر بقوله: أنا أعلم المسروقات أو أنا أخبر عن أخبار الجن إياي. (الفتاوى التاتارخانية: ۵/٤۷۷).

لباب الفتاوی میں مذکور ہے:
سوال: بعض لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ کسی شخص کو کوئی جن تابع ہو تو اس جن کو چھپی غیب کی باتیں اور خبریں معلوم ہوتی ہیں اور تابع جن کی مدد سے ان کو پوچھا جائے تو وہ سچی بات بتاتے ہیں، تو کیا یہ بات صحیح ہے؟
جواب: یہ عقیدہ رکھنا کہ جس شخص کو جن تابع ہو وہ اس تابع جن کی مدد سے چھپی باتیں اور خبریں بتا دیتا ہے یہ کتاب و سنت کے خلاف ہے تابع جن یا عامل کے بارے میں غیب کی باتیں بتانے کا عقیدہ رکھنا حرام، ضلالتِ شدیدہ اور کفر ہے۔ (لباب الفتاوی، ص
۳۳۳
، ص
۳۳۷
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.