عورت کے قاضی بننے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 8 #61Urdu

Question

کیا عورت کا قاضی بننا جائز ہے یا نہیں ؟

Answer

عورت کا قاضی بننا مکروہ ہے، اگر عورت کوکسی نے قاضی بنا دیا تو جن امور میں عورت کی شہادت جائز ہے ان امور میں عورت کا فیصلہ بھی معتبر ہوگا البتہ بنانے والا گنہگار ہوگا، اور جن امور میں عورت کی شہادت جائز نہیں ان امور میں عورت کا فیصلہ بھی معتبر نہیں ہے جیسے حدود و قصاص وغیرہ۔

قال في الهداية: ويجوز قضاء المرأة في كل شيء إلا الحدود والقصاص اعتباراً بشهادتها فيهما وقد مر الوجه. (الهداية: ۳/۱٤۱، ط: المصباح).
وفي فتح القدير: وقد مر الوجه، يعني وجه جواز قضائها وهو أن القضاء من باب الولاية كالشهادة والمرأة من أهل الشهادة فتكون من أهل الولاية. (فتح القدير: ٦/۳۹۱). (وكذا في العناية: ٦/۳۹۱، والدر المختار: ۵/٤٤۰، سعيد، وبدائع الصنائع: ۷/۳، سعيد، والموسوعة الفقهية: ۱۲/٦۵۳۲، وفتاوى قاضيخان: ۲/۳٦٤).

جواہر الفتاوی میں مفتی محمد عبد السلام چاٹگامی مد ظلہ تحریر فرماتے ہیں:
امام بغوی رحمه الله نے عورت کو منصبِ امارت و قضا کے واسطے نا موزوں ہونے کی دو بنیادی وجوہ لکھی ہیں:
۱۔ ایک یہ کہ عورت کا معاملہ ستر کا ہے کہ وہ پر دہ میں رہیں اور گھر میں رہیں، بلا ضرورتِ شرعی یا طبعی گھر سے باہر نہ نکلے جب کہ منصبِ امارت و قضا قبول کرنے کی صورت میں بار بار باہر نکلنے اور مردوں کے ساتھ اختلاط کی صورت میں بے پر دہ ہو جانے کا یقین جازم ہے، لہذا عورت کا مزاج اور فطرت منصبِ امارت و قضا کے لیے اہل نہیں اس لیے موزوں نہیں۔
۲۔ دوسری وجہ یہ کہ جنس عورت خواہ کتنی پڑھی لکھی ہو ذہین و فطین ہو لیکن فطرت و خلقت کے اعتبار سے کامل العقل نہیں جس کی نشاندہی رسول اللہ ﷺ نے فرمائی ہے، بلکہ منصبِ امارت و قضا کے لیے ایسے افراد کا ہونا ضروری ہے جو کہ دینی و دنیوی امور کے اعتبار سے اعلی تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ کامل و مکمل عقل رکھتے ہوں، اور فطرت اور خلقت کی روسے جنس مرداس کے لیے نہایت موزون و مناسب ہے۔ (جواہر الفتاوی:
۱
/
۳۵۵
، اسلامی کتب خانہ، کراچی)۔
مزید ملاحظہ کیجیے: (مسلم پرسنل لا، ص
۲۱۹
، و امداد الفتاوی:
۵
/
۹۲
، و مصادرِ شریعتِ اسلامیہ اور عورت کی حکم رانی، ص
٦۸
، و اسلامی عدالت، جلد اول، ص
۱۸۷
، ط: قاضی پبلشرز)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.