انتخابات کے موقع پر غیر مسلم پارٹی کی حمایت کرنے کا حکم:
Question
کیا انتخابات کے موقعہ پر غیر مسلم سیاسی پارٹیوں سے ملی مفادات کے تحت معاہدے کرنا، ان میں شرکت اور ان کی حمایت کرنا، جائز ہے یا نہیں ؟
Answer
نبی ﷺ نے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد یہودِ مدینہ سے معاہدے فرمائے تھے، بنا بریں بصورتِ مسئولہ غیر مسلم سیاسی پارٹیوں سے دینی اور ملی مفادات کے تحت معاہدہ کرنا، اس میں شرکت اور ان کی حمایت کرنا، جائز اور درست ہوگا، ہاں کفار سے قلبی دوستی کرنا جائز نہیں ، وہ نص قطعی سے ممنوع و محظور ہے۔ ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
ومفاده جواز الاستعانة بالكافر عند الحاجة وقد استعان عليه الصلاة والسلام باليهود على اليهود. (الدر المختار: ٤/۱٤۸، سعيد).
کفایت المفتی میں مرقوم ہے:
آپ ﷺ نے یہود کے ساتھ یہ معاہدہ فرمایا تھا کہ وہ جنگ میں مسلمانوں کا ساتھ دیں گے۔ (کفایت المفتی:
۹
/
۳۷۹
)۔
نیز شریعتِ مقدسہ کے اصول سے کفار کے ساتھ اشتراکِ عمل کا جواز معلوم ہوتا ہے۔
دوسری جگہ مذکور ہے: دنیا کی عزت حاصل کرنے کے مقصد کو پیش نظر رکھ کر کفار سے دوستی کرنا درست نہیں لیکن اگر مقصد دین کی حفاظت ہو اور وہ کفار سے اشتراکِ عمل کر کے حاصل ہو سکتی ہو تو ایسا اشتراکِ عمل درست ہے، یہ دوسری بات ہے کہ اس اشتراکِ عمل سے دنیاوی اقتدار حاصل ہو جائے لیکن وہ مقصود بالذات نہ ہو تو وہ ممنوع و محظور نہیں۔ (کفایت المفتی:
۹
/
۳٦٤
، دار الاشاعت)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2990
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2990