عورتوں کا جمع ہو کر ورزش کرنے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 8 #95Urdu

Question

اگر عورتیں کسی ہال میں جمع ہو کر ورزش کریں، اور کسی ایک عورت سے سیکھیں تو شریعت میں اس کی اجازت ہو گی یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔

Answer

موجود ہ دور میں جب کہ روزانہ نئے نئے فتنے سر اٹھا رہے ہیں، عریانی اور فحاشی کا سیلاب موجزن ہے، افشائے شر کے وسائل زیادہ ہیں، خیر کی امیدیں کم ہیں، فساق و فجار کا غلبہ زیادہ ہے، نیز عورتوں کے فیشن دن بدن ترقی کرتے جا رہے ہیں، ایسے دور میں گھر سے نکلنا فتنہ سے خالی نہیں ، اسی وجہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ اگر اس زمانہ کی عورتوں کو دیکھ لیتے کہ کیا کیا ایجاد کیا ہے تو ضرور منع فرماتے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کا زمانہ بھی دورِ نبوی سے قریب کا تھا اگر اِس زمانہ کا حال ماں عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو معلوم ہو جائے تو ایک سیکنڈ کے لیے گھر سے باہر جانے کو گوارا نہ فرمائیں۔ اگر ہم یہ کہیں کہ زمانہ جاہلیت پلٹ کر آ رہا ہے تو خلاف صواب نہ ہوگا۔
بنا بریں موجود ہ زمانہ کے حالات کے پیش نظر مسلمان خواتین کو بلا حاجت و ضرورت گھر سے ہرگز باہر نہیں نکلنا چاہیے۔ اور ورزش گھر میں بھی ہو سکتی ہے اس کے لیے باہر جانے کی ضرورت نہیں۔ اچھی ورزش تو گھر کا کام کاج، جھاڑو، صفائی وغیرہ ہے وہ تو انہوں نے دوسروں کے حوالہ کر دیا اور ورزشوں کے چکر میں پڑ گئیں۔
ملاحظہ ہو علامہ عینی رحمه الله شرحِ بخاری میں فرماتے ہیں:

قلت: لو شاهدت عائشة رضي الله تعالى عنها ما أحدث نساء هذا الزمان من أنواع البدع والمنكرات لكانت أشد إنكاراً، ولا سيما نساء مصر، فإن فيهن بدعاً لا توصف ومنكرات لا تمنع، منها ثيابهن من أنواع الحرير المنسوجة أطرافها من الذهب والمرصعة باللآلئ وأنواع الجواهر، وما على رؤوسهن من الأقراص المذهبة المرصعة والجواهر الثمينة، والمناديل الحرير المنسوج بالذهب والفضة الممدودة، وقمصانهن من أنواع الحرير الواسعة الأكمام جداً، السابلة أذيالها على الأرض مقدار أذرع كثيرة بحيث يمكن أن يجعل من قميص واحد ثلاثة قمصان وأكثر. ومنها: مشيهن في الأسواق في ثياب فاخرة وهن متبخرات متعطرات مائلات متبخترات متزاحمات مع الرجال مكشوفات الوجوه في غالب الأوقات. ومنها: ركوبهن على الحمير الغرة وأكمامهن سابلة من الجانبين في ازر رفيعة جداً

ومنها: غلبتهن على الرجال وقهرهن إياهم وحكمهن عليهم بأمور شديدة، ومنهن نساء يبعن المنكرات بالاجهار، ويخالطن الرجال فيها، ومنهن قوادات يفسدن الرجال والنساء ويمشين بينهن بما لم يرض به الشرع، ومنهن: صنف بغايا قاعدات مترصدات للفساد، ومنهن صنف دائرات على أرجلهن يصطدن الرجال

ومنهن: مغنيات يغنين بأنواع الملاهي بالأجرة للرجال والنساء، ومنهن: صنف خطابات يخطبن للرجال نساء لها أزواج بفتن يوقعنها بينهم، وغير ذلك من الأصناف الكثيرة الخارجة عن قواعد الشرعية، فانظر إلى ما قالت الصديقة رضي الله تعالى عنها من قولها: لو أدرك رسول الله ﷺ ما أحدثت النساء، وليس بين هذا القول وبين وفاة النبي ﷺ إلا مدة يسيرة، على أن نساء ذلك الزمان ما أحدثن جزأ من ألف جزء مما أحدثت نساء هذا الزمان. (عمدة القاري: ٤/٦٤۹، باب انتظار الناس قيام الامام العالم تحت أبواب صفة الصلاة، دار الحديث ملتان).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.