نبی ﷺ کی تاریخ وفات کی تحقیق:
Question
جمہور کے نزدیک حضرت نبی کریم ﷺ کی وفات ۱۲، ربیع الاول ۱۱ ھ بروزِ دو شنبہ کو ہوئی، حجۃ الوداع میں یومِ عرفہ یومِ جمعہ کو واقع ہوا تھا یہ بھی مشہور و معروف ہے، اب اہل حساب کے نزدیک ۹ ذی الحجہ یوم الجمعہ کو ہو تو ۱۲، ربیع الاول کو پیر کا دن کسی بھی شکل میں نہیں بن سکتا، چاہے مہینے ۳۰ دن کے ہوں یا ۲۹ کے یا دونوں ہوں، اب آپ سے درخواست ہے کہ اس کا حل بتا دیں؟ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ اس اشکال کا حل شیخ المشائخ حضرت علامہ ملا علی القاری رحمه الله نے جمع الوسائل فی شرح الشمائل میں تحریر فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ اہل مکہ نے ۲۹ ذی القعدہ ختم ہونے پر ذی الحجہ کا چاند دیکھا اور بادل یا اختلافِ مطالع کے سبب اہل مدینہ کو چاند نظر نہیں آیا بنا بریں اہل مدینہ نے ذی القعدہ کے ۳۰ دن مکمل کرنے کے بعد ذی الحجہ شروع کیا، نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام نے مدینہ منورہ پہنچ کر اہل مدینہ کی رؤیت کا اعتبار کیا، اس حساب سے اگر تین ماہ مسلسل ۳۰ دن کے شمار کریں تو اہل مکہ کے لیے ۱۲ ربیع الاول کو اتوار واقع ہوتا ہے اور اہل مدینہ کا چاند ایک دن بعد دیکھا گیا اس لیے ۱۲ ربیع الاول کو دو شنبہ واقع ہوا، یعنی ذی قعدہ اور ذی الحجہ اور محرم ۳۰ دن کے ہوں اور صفر ۲۹ کا ہو تو پھر حساب صحیح بنتا ہے۔
ملاحظہ ہو جمع الوسائل میں ملا علی قاری رحمه الله رقم طراز ہیں:
وههنا سؤال مشهور على إشكال مسطور وهو أن جمهور أرباب السير على أن وفاته ﷺ وقعت في اليوم الثاني عشر واتفق أئمة التفسير والحديث والسير على أن عرفة في تلك السنة يوم الجمعة فيكون غرة ذي الحجة يوم الخميس فلا يمكن أن يكون يوم الاثنين الثاني عشر من ربيع الأول سواء كانت الشهور الثلاث الماضية يعني ذا الحجة والمحرم وصفر ثلاثين يوماً أو تسعاً وعشرين أو بعض منها ثلاثين وبعض آخر تسعاً وعشرين.
وحله أن يقال يحتمل اختلاف أهل مكة والمدينة في رؤية هلال ذي الحجة بواسطة مانع من السحاب وغيره أو بسبب اختلاف المطالع فيكون غرة ذي الحجة عند أهل مكة يوم الخميس وعند أهل المدينة يوم الجمعة وكان وقوف عرفة واقعاً برؤية أهل مكة ولما رجع إلى المدينة اعتبروا التاريخ برؤية أهل المدينة وكان الشهور الثلاثة كوامل فيكون أول ربيع الأول يوم الخميس ويوم الاثنين الثاني عشر منه. (جمع الوسائل، باب ما جاء في وفاة رسول الله ﷺ: ۲/۲۰۲، ط:
ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ، ملتان
).
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمه الله نے بھی بیاض اشرفی میں ص ۱۲۸ پر اسی طرح لکھا ہے۔
اور تین ماہ مسلسل ۳۰ دن کے ہو سکتے ہیں، بلکہ ماہرین حساب نے لکھا ہے کہ مسلسل چار ماہ بھی ۳۰ دن کے ہو سکتے ہیں۔ ملاحظہ ہو پر وفیسرمحمد الیاس اپنی کتاب "استرونمی آف اسلامک کلنڈر" میں لکھتے ہیں:
maximum number of consecutive months of one type: 30 day months: 4 , 29 day months: 3.
(astronomy of islamic calendar ,pg , no: 158).
مزید براں ۱۲ ربیع الاول میں وفات والا قول متفق علیہ بھی نہیں ہے، ہاں ملا علی قاری رحمه الله نے اکثر کا قول قرار دیا ہے اور حضرت مولانا ادریس صاحب کاندھلوی رحمه الله نے مشہور فرمایا ہے۔
ملاحظہ ہو سیرۃ المصطفی میں مرقوم ہے:
تاریخ وفات میں اختلافِ شدید ہے مشہور قول کی بنا پر ۱۲ ربیع الاول کو وفات ہوئی موسی بن عقبہ، لیث بن سعد اور خوارزمی نے یکم ربیع الاول کو تاریخ وفات بتلائی ہے اور کلبی اور ابو مخنف نے دوم ربیع الاول تاریخ وصال قرار دی ہے، علامہ سہیلی نے الروض الانف میں اور حافظ ابن حجر عسقلانی نے شرح بخاری میں اسی قول کو مرجح قرار دیا ہے۔ (سیرۃ المصطفی:
۲
/
۲٦۳
)۔
شیخ محمد الخضری نے نور الیقین فی سیرۃ سید المرسلین میں ۱۳ ربیع الاول تاریخ وصال تحریر فرمائی ہے۔ ملاحظہ ہو:
ولم تأت ضحوة هذا اليوم حتى فارق رسول الله ﷺ دنياه ولحق بمولاه، وكان ذلك في يوم الاثنين
۱۳
ربيع أول سنة
۱۱
هـ. (۸ / يونيو ٦۳۳ء). (نور اليقين في سيرة سيد المرسلين، ص ۲٦٤).
اگر ۱۳ ربیع الاول کو تاریخ وفات قرار دی جائے تو پیر کا دن بالکل ظاہر ہے، اختلافِ مطالع وغیرہ کا سہارا لینے کی بھی ضرورت نہیں ہے، بلکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ دونوں کے اعتبار سے پیر کا دن ۱۳ ربیع الاول کو واقع ہوتا ہے۔ مذکورہ بالا مسئلہ پر ایک روایت سے اشکال اور اس کا جواب:
امام بیہقی رحمه الله نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی الله عنه سے روایت بیان کی ہے: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی الله عنه فرماتے ہیں کہ نبی پاک ﷺ آیتِ کریمہ
"اليوم أكملت لكم دينكم"
کے نازل ہونے کے بعد ۸۱ دن حیات رہے پھر اللہ تعالی نے اپنی طرف اور اپنی رحمتِ خاصہ کی طرف آپ کو بلوا لیا۔
اس روایت کے اعتبار سے دو مہینے ۲۹ دن کے شمار کریں تو ۸۱ دن دوم ربیع الاول کو مکمل ہوتے ہیں اور اگر دو مہینے ۳۰ دن کے شمار کریں تو یکم ربیع الاول کو ۸۱ دن پورے ہوتے ہیں اور یہ دونوں اقوال بھی سیرۃ المصطفی کے حوالے سے مذکور ہوئے، البتہ ۸۱ دن کسی بھی حساب سے ۱۲ ربیع الاول کو نہیں بنتے تو اس اعتبار سے روایت کا جواب حسبِ ذیل مرقوم ہے۔ پہلے روایت ملاحظہ کیجیے:
أخبرنا محمد بن عبد الرحمن بن محبوب الدهان، أخبرنا الحسين بن محمد بن هارون، حدثنا أحمد بن محمد بن نصر، حدثنا يوسف بن بلال، حدثنا محمد بن مروان، عن الكلبي، عن أبي صالح، عن ابن عباس رضي الله عنه في هذه الآية: ﴿اليوم يئس الذين كفروا من دينكم﴾
فلما كان واقفاً بعرفات نزل عليه جبريل عليه السلام وهو رافع يده والمسلمون يدعون الله تعالى ﴿اليوم أكملت لكم دينكم﴾ يقول: حلالكم وحرامكم فلم ينزل بعد هذا حلال ولا حرام ﴿وأتممت عليكم نعمتي﴾ قال: منتي فلم يحج معكم مشرك ﴿و رضيت﴾ يقول: واخترت ﴿لكم الإسلام ديناً﴾ ثم مكث رسول الله ﷺ بعد نزول هذه الآية إحدى وثمانين يوماً ثم قبضه الله تعالى إليه وإلي رحمته. (الجامع لشعب الإيمان للإمام البيهقي: ۱/۱۳۵/۳۲).
لیکن محشی تعلیق میں لکھتے ہیں کہ یہ روایت ضعیف ہے، چند رواۃ پر کلام ہے، درجِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
قال: إسناده ضعيف؛ محمد بن عبد الرحمن بن محبوب الدهان، ورد اسمه فيمن روي عنه البيهقي
الحسين بن محمد بن هارون.
وأحمد بن محمد بن نصر.
ويوسف بن بلال، لم أجدهم.
محمد بن مروان بن عبد الله بن إسماعيل السدي الصغير، كوفي متهم بالكذب، من الثامنة قال البخاري: لا يكتب حديثه البتة، وهو صاحب الكلبي.
الكلبي هو محمد بن السائب بن بشر، أبو النصر الكوفي، النسابة، المفسر، متهم بالكذب، ورمي بالرفض، من السادسة قال الذهبي: لا يحل ذكره في الكتب فكيف الاحتجاج به، راجع: الميزان.
أبو صالح: باذام ويقال باذان، تابعي مولي أم هاني، ضعيف، مدلس، من الثالثة، قال ابن عدي: عامة ما يرويه تفاسير وما أقل ماله من المسند ويروي في التفسير مالم يتابعه أهل التفسير عليه، وقال ابن معين: إذا روي عنه الكلبي فليس بشيء. راجع: الميزان، وانظر: الكامل لابن عدي، والأثر ذكره السيوطي في الدر المنثور برواية المؤلف. (التعليقات على الجامع لشعب الإيمان: ۱/۱۳۵).
خلاصہ یہ ہے کہ ضعفِ شدید ہونے کی وجہ سے اس روایت کا اعتبار نہیں ، بنا بریں ۱۲ ربیع الاول کو وفات تسلیم کریں تو بھی اس روایت کی وجہ سے کوئی اشکال نہیں ہوگا، پھر چونکہ تاریخ وفات میں اختلافِ شدید ہے اور تاریخ ولادت میں بھی اختلافِ شدید ہے البتہ دن میں کوئی اختلاف نہیں ولادت اور وفات دونوں صحیح حدیث کی رو سے پیر کے دن ہوئیں، اور اس میں حکمت یہ ہے کہ ربیع الاول میں تاریخ متعین کر کے میلاد منانا اور جشن منانا درست نہیں نیز وفات پر برسی منانا بھی درست نہیں کیوں کہ دونوں کو اللہ تعالی نے مخفی رکھا ہے، ہاں صحیح روایت میں پیر کا دن وارد ہے اور صحیح حدیث میں پیر کے دن روزہ رکھنا ثابت ہے تو ہر پیر کو روزہ رکھے یہ اصل اتباع ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3060
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3060