پس پر دہ بالغ لڑکیوں کا امتحان لینے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 8 #149Urdu

Question

ہمارے مکاتب اور مدارس کا نظام یہ ہے کہ امتحانات کے لیے علماء کو مدعو کیا جاتا ہے، اور بالغ بچیوں کے ناظرہ وغیرہ کا امتحان علماء پر دہ کے پیچھے سے لیتے ہیں صرف آواز سن سکتے ہیں بچیوں کو بالکل دیکھ نہیں سکتے تو کیا یہ طریقہ جائز ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔

Answer

مسئلہ بالا کا مدار دراصل ایک دوسرے مسئلہ پر ہے وہ یہ کہ عورت کی آواز ستر میں داخل ہے یا نہیں ؟ چنانچہ اصح قول کے مطابق عورت کی آواز ستر میں داخل نہیں ہے، بایں وجہ پس پر دہ امتحان لینے کی گنجائش ہو گی، البتہ جہاں فتنہ وغیرہ کا اندیشہ ہو وہاں بچنا چاہیے۔
اس مسئلہ کی تفصیلی بحث فتاوی دار العلوم زکریا جلد ۷ میں ص ۲۲۸۔ ۲۳۰ پر گزر چکی ہے وہاں ملاحظہ کی جا سکتی ہے، یہاں پر فقط ایک دو دلائل پر اکتفا کیا جاتا ہے۔
احکام القرآن میں حضرت مولانا ظفر احمد تھانوی رحمه الله فرماتے ہیں:

حكم صوت المرأة: وقع الخلاف في صوت المرأة، أنه من العورة فلا يجوز أن تتكلم بحيث يسمعها الأجانب، أو ليس بعورة فيرخص لها في التكلم، والحق الحقيق عند أرباب التحقيق، وهو أن صوت المرأة ليس بعورة في نفسه إلا أنه قد يكون سبباً للفتنة، فكان من القسم الثاني من سد الذرائع، فدار حكمه على الفتنة وعدمها فحيث خيفت الفتنة حرم إبداؤه وحيث لا، فلا، كيف وقد حرم الله سبحانه وتعالى إظهار صوت الخلخال وأمثاله فقال: ولا يضربن بأرجلهن، لمظنة الفتنة فكيف يجوز إظهار صوت نفسها مطلقاً؟ (أحكام القرآن: ۳/٤۸۲، ط: إدارة القرآن).

معارف القرآن میں حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
کیا عورت کی آواز فی نفسہٖ ستر میں داخل ہے اور غیر محرم کو آواز سنانا جائز ہے؟ اس معاملہ میں حضراتِ ائمہ کا اختلاف ہے، امام شافعی رحمه الله کی کتب میں عورت کی آواز کو ستر میں داخل نہیں کیا گیا، حنفیہ کے نزدیک بھی مختلف اقوال ہیں، ابن ہمام رحمه الله نے نوازل کی روایت کی بنا پر ستر میں داخل قرار دیا ہے، اسی لیے حنفیہ کے نزدیک عورت کی اذان مکروہ ہے لیکن حدیث شریف سے ثابت ہے کہ ازواجِ مطہرات نزولِ حجاب کے بعد بھی پسِ پردہ غیر محارم سے بات کرتی تھیں اس مجموعہ سے راجح اور صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جس موقع اور جس محل عورت کی آواز سے فتنہ پیدا ہونے کا خطرہ ہو وہاں ممنوع ہے جہاں یہ نہ ہو جائز ہے (جصاص) اور احتیاط اسی میں ہے کہ بلا ضرورت عورتیں پس پر دہ بھی غیر محرموں سے گفتگو نہ کریں۔ واللہ اعلم۔ (معارف القرآن:
٦
/
٤۰٦
، و
۷
/
۱۲۳
، ادارۃ المعارف)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.