والد کی تعظیم میں قبلہ و کعبہ کے الفاظ لکھنے کا حکم:
Question
خط میں اپنے والد صاحب کے لیے قبلہ اور کعبہ کے الفاظ استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ اس بارے میں اکابر رحمه الله کی عبارات میں کیا اختلاف ہے؟ اور راجح قول کون سا ہے؟ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ خط میں اپنے والد صاحب کے لیے قبلہ و کعبہ لکھنا جائز اور درست ہے، البتہ خلاف اولی ہے، وجہ جواز یہ ہے کہ حدیث میں آتا ہے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کا مفہوم یہ ہے: مومن کا مرتبہ بیت اللہ کے مرتبہ سے بڑھ کر ہے۔
تذکرۃ الرشید میں مرقوم ہے کہ ان القاب سے بڑوں کو خطاب کرنا مکروہ تحریمی ہے اور امداد الفتاوی میں مذکور ہے کہ بتاویل معنی مجازی کے جائز ہے مگر خلافِ اولی ہے۔
بظاہر امداد الفتاوی والا قول زیادہ راجح معلوم ہوتا ہے اس لیے کہ مکروہ تحریمی والا قول زیادہ سخت ہے، اور چونکہ بفحوائے حدیث مومن کی شان یقیناً بیت اللہ سے بڑھ کر ہے، تو خلافِ اولی کہنا زیادہ مناسب ہے۔
ملاحظہ ہو سنن ابن ماجہ میں مذکور ہے:
عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنه قال: رأيت رسول الله ﷺ يطوف بالكعبة ويقول: "ما أطيبك وأطيب ريحك، ما أعظمك وأعظم حرمتك، والذي نفس محمد بيده لحرمة المؤمن أعظم عند الله حرمة منك، ماله ودمه وأن نظن به إلا خيراً. وفي الزوائد: في إسناده مقال، ونصر بن محمد شيخ ابن ماجه ضعفه أبو حاتم وذكره ابن حبان في الثقات. (رواه ابن ماجه، رقم الحديث: ۳۹۳۲).
امداد الفتاوی میں مرقوم ہے:
سوال: بہشتی زیور میں القابِ بزرگان میں قبلہ و کعبہ لکھا گیا اور تذکرۃ الرشید میں مکروہ تحریمی لکھا ہے بدلیل قوله علیه السلام "لا تطرونی"، (الحدیث)، اس کی تاویل کیا ہے؟ الجواب: بلا تاویل مکروہ تحریمی ہے اور بتاویل معنی مجازی کے جائز ہے گو خلافِ اولی ہے۔ (امداد الفتاوی: ۴/۲۷۴)۔
تذکرۃ الرشید کی عبارت ملاحظہ کیجیے:
قبلہ و کعبہ، قبلہ دارین، کعبہ کونین، یا قبلہ دینی و کعبہ دنیوی یا قبلہ مال و حاجات یا قبلہ مرادات یا قبلہ صوری و کعبہ معنوی یا دیگر مثل ان الفاظ کے القاب و آداب میں والد کو یا عموی کو یا اخوی کو یا اور کسی کو تحریر کرنے جائز ہے یا نہیں ، حرام ہے یا مباح اور مکروہ ہے تو تحریمی ہے یا تنزیہی؟
الجواب: ایسے کلمات مدح کے کسی کی نسبت کہنے اور لکھنے مکروہ تحریمی ہیں، لقولہ علیہ السلام: "
لا تطروني"،
(الحدیث)، جب زیادہ حد شانِ نبوی سے کلماتِ مدحیہ آپ کے واسطے ممنوع ہوے تو کسی دوسرے کے واسطے کس طرح درست ہو سکتے ہیں۔ (تذکرۃ الرشید، ص
۱۳۷
، ادارۂ اسلامیات، و فتاوی رشیدیہ، ص
٦۰٤
، مکتبہ رحمانیہ)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3093
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3093