بوقتِ اذان کتوں کا رونا اور شور مچانا:

1 min readFatwa Vol 8 #202Urdu

Question

ایک مسجد میں جب مؤذن اذان دینا شروع کرتا ہے تو محلہ کے کتے بھونکنا اور شور مچانا شروع کرتے ہیں، تو مؤذن کی اذان اور کتوں کے بھونکنے میں کیا مناسبت ہے؟ بینوا توجروا۔

Answer

صحیح احادیث میں آتا ہے کہ جب اذان شروع ہوتی ہے تو شیطان بھاگتا ہے تاکہ اذان کی آواز نہ سنے، اور بعض مرتبہ جانوروں کو شیطان بھاگتا ہوا نظر آتا ہے تو جانور چیخنا چلانا شروع کرتے ہیں۔
ملاحظہ ہو صحیح بخاری شریف میں روایت ہے:

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: إذا أذن بالصلاة أدبر الشيطان له ضراط حتى لا يسمع التأذين فإذا سكت المؤذن أقبل فإذا ثوب أدبر فإذا سكت أقبل فلا يزال بالمرء يقول له: اذكر ما لم يكن يذكر حتى لا يدري كم صلي. (رواه البخاري، رقم: ۱۲۲۲، باب ما يفكر الرجل في الصلاة).

فتاوی محمودیہ میں مرقوم ہے:
اذان سن کر ایک کتا ہمارے مدرسہ کے سامنے ہمیشہ روتا ہے اور چلاتا ہے، اور جگہ بھی ایسا ہوتا ہے، یہ کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے، اذان سن کر شیطان بھاگتا ہے، بعض دفعہ بعض جانوروں کو بھی نظر آتا ہے، اس سے گھبرا کر روتے اور آواز کرتے ہیں۔ (فتاوی محمودیہ:
۵
/
٤٤۳
، جامعہ فاروقیہ)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.