حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی شادی و رخصتی کی عمر پر اشکال اور جواب:

23 min readFatwa Vol 8 #203Urdu

Question

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی شادی کی حدیث پر منکرین حدیث اور وہ لوگ جو اپنے آپ کو روشن خیال کہتے ہیں، متعدد اعتراضات کرتے ہیں، جن میں سے چند اہم اعتراضات یہ ہیں: نو سال کی بچی کے ساتھ ۵۰ سال سے متجاوز آدمی کا جماع اور ہم بستری نا معقول اور سمجھ میں نہ آنے والی بات ہے۔ اس لیے عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ساتھ نکاح کی عمر یہ نہیں ہو سکتی بلکہ زیادہ تھی؟
روشن خیالوں کے دلائل میں سے چند دلائل حسبِ ذیل ہیں:
دلیل (۱) سورۂ نجم اور سورۂ قمر کے نزول سے استدلال:
حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ:
لقد أنزل على محمد ﷺ بمكة وإني لجارية ألعب ﴿بل الساعة موعدهم والساعة أدهي وأمر﴾. (صحيح البخاري: ۲/۷۲۳/٤۸۷٦).

بعض لوگ اس حدیث کو پیش کر کے استدلال کرتے ہیں کہ یہ آیت سورۂ قمر کی ہے اور سورۂ قمر کا نزول ابتدائی مکی زمانہ کا ہے کیوں کہ اس میں معجزہ شق القمر کا ذکر ہے اور ظاہر ہے کہ یہ معجزہ ابتدائی زمانہ کا ہے کیوں کہ بعد میں کفار کی مخالفت آنحضرت ﷺ سے اس قدر سخت ہو گئی تھی کہ انھوں نے آپ کو شعب ابی طالب میں محصور کر دیا تھا اور یہ محصور ہونا ۷ نبوی کا واقعہ ہے۔
پھر کہتے ہیں: اور دوسرے سورۂ نجم اور سورۂ قمر کا باہم بہت تعلق ہے، جیسا کہ مفسرین نے تسلیم کیا ہے اس لئے ان کا (قمر اور نجم کا) نزول بھی ایک ہی زمانہ کا ہونا چاہیے۔ اور سورۂ نجم کا ۵ نبوی میں نازل ہونا یقینی امر ہے، پس اسی وقت کے قریب قریب سورۂ قمر بھی نازل ہوئی، پس ۵ نبوی یا ٦ نبوی میں ان آیات کا نزول ہے، اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ میں اس وقت لڑکی تھی اور کھیلا کرتی تھی، پھر ان آیات کو سن کر سمجھ کر یا د بھی کرتی تھی۔ اس سے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی عمر ۱۰ نبوی میں بوقت نکاح چھ یا سات سال ہونا قرینِ قیاس نہیں۔ (سیرتِ عائشہ رضی الله عنه، ص:
۳۵۸
۔
۳۵۹
، ط: مکتبہ مدنیہ)
دلیل (۲) عرب میں نکاحِ صغیر کا رواج:
آنحضرت ﷺ سے نکاح سے پہلے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا جبیر بن مطعم رضی الله عنه سے منسوب تھیں اور عرب میں چار، پانچ سال کی لڑکیوں کی نسبت یا نکاح کا رواج نہ تھا، اور اس وقت حضرت عائشہ رضی الله عنه کی نسبت کا پہلے ہو چکنا بتاتا ہے کہ ان کی عمر اس وقت ایسی تھی کہ جب لڑکیوں کی نسبت یا نکاح کا عام طور پر خیال ہوتا ہے، یہ بھی ایک شہادت اس امر پر ہے کہ بوقتِ نکاح حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی عمر چھ سال سے زیادہ تھی۔ (سیرتِ عائشہ، ص
۳٦۲
)
دلیل (۳) صاحب مشکوۃ لکھتے ہیں:
وهي أكبر من أختها عائشة رضي الله عنه بعشر سنين،
حضرت اسماء رضی الله عنه اپنی بہن حضرت عائشہ رضی الله عنه سے دس سال بڑی تھیں۔ (الاکمال فی اسماء الرجال الملحق بمشکوۃ المصابیح:
۲
/
۵۸۷
، ط: قدیمی)۔
دکتور محمد رمضان ابوبکر محمود جو جامعۃ الازہر مصر کے معین استاذ ہیں، وہ اپنی کتاب "
رواية الصحيحين لعمر السيدة عائشة رضي الله عنه عند زواجها

"
میں اس اشکال کو اس طرح لکھتے ہیں؛ خلاصہ حسبِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
معترضین کا دعوی ہے کہ تمام تاریخی مراجع اس بات پر شاہد ہیں کہ حضرت اسماء رضی الله عنه حضرت عائشہ رضی الله عنه سے دس سال بڑی تھیں اور اس بات کو بلا اختلاف سب نے نقل کیا ہے کہ حضرت اسماء رضی الله عنه کی ولادت ہجرتِ مدینہ سے ۲۷ سال قبل ہوئی تھی اس سے یہ بات مؤکد ہو جاتی ہے کہ حضرت عائشہ رضی الله عنه کی عمر ابتدائی بعثت میں ٤ سال تھی، اس سے یہ نتیجہ برآمد ہوا کہ آپ رضی الله عنه بوقتِ نکاح ۱۰ نبوی میں ۱٤ سال کی ہو چکی تھیں، پھر رخصتی مزید تین سال اور کچھ ماہ کے بعد ہوئی، تو اب حضرت عائشہ رضی الله عنه کی عمر بوقتِ رخصتی مکمل ۱۸ سال ہوئی اور یہ حقیقی عمر تھی۔ (ملخص از
رواية الصحيحين
، ص
۲).

دلیل (٤): حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی عمر کا تناسب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی کی عمر سے:
شیخ محمد رمضان کی تحریر میں اس اشکال کی وضاحت ملاحظہ کیجیے؛ خلاصہ حسبِ ذیل ہے:
معترضین کہتے ہیں کہ حافظ ابن حجر رحمه الله نے الاصابہ میں لکھا ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی ولادت بنائے کعبہ کے سال ہوئی، جس وقت نبی ﷺ کی عمر شریف ۳۵ سال تھی، اور یہ بات بھی مسلم ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے ۵ سال چھوٹی ہیں، تو اس سے خود بخود واضح ہوا کہ بعثت والے سال حضرت عائشہ رضی الله عنه کی ولادت ہوئی اور آپ رضی الله عنه بوقتِ ہجرت مکمل تیرہ سال کی تھیں نہ کہ نو سال کی۔ (
رواية الصحيحين، ص ۲۳). بينوا توجروا.

Answer

سوال میں مذکورہ روایت میں رخصتی یا تنہائی یا رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچانے کا ذکر ہے، ہم بستری کا ذکر نہیں ؛ چونکہ رسول اللہ ﷺ کا گھر امت کی خواتین کے لیے ایک دینی جامعہ تھا؛ اس لیے رسول اللہ ﷺ کو ایک ایسی لڑکی کی ضرورت تھی جو ذہین، ہوشیار، حاضر باش اور حفظ و یاد داشت میں ممتاز ہو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا میں یہ صفات مکمل طور پر موجود تھیں اور یہ حاضر باشی نکاح کے بغیر سر انجام نہیں ہو سکتی تھی؛ اس لیے آپ نے ان سے کم عمری میں نکاح اور کم عمری میں تنہائی فرمائی؛ اسی لیے رسول اللہ ﷺ زیادہ سے زیادہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس رہنا چاہتے تھے؛ تاکہ افادہ اور استفادہ کا سلسلہ چلتا رہے اور اسی لیے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے اپنی باری حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ فرما دی تھی۔ مرض وفات میں بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس رہنے کی تمنا کرتے رہے؛ یہاں تک کہ آپ کی وفات بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر پر ہوئی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کے نکاح کے مقصد کی خوب لاج رکھی؛ چنانچہ وہ مکثرین صحابہ جن سے ایک ہزار سے اوپر احادیث مروی ہوں وہ سات ہیں ان میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا چوتھا نمبر ہے: ۱- حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنه سے ۵۳۷٤۔ ۲- حضرت ابن عمر رضی الله عنه سے ۲٦۳۰۔ ۳- حضرت انس رضی الله عنه سے ۲۲۸٦۔ ٤- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ۲۲۱۰۔ ۵- حضرت ابن عباس رضی الله عنه سے ۱٦٦۰۔ ٦- حضرت جابر
رضي الله عنه
سے ۱۵٤۰۔ ۷- حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنه سے ۱۱۷۰؍ احادیث مروی ہیں۔
دلیل نمبر ۱کا جواب: حضرت مولانا سید سلیمان ندوی صاحب رحمه الله اپنے مقالہ "حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی عمر پر تحقیقی نظر" میں (ص:
۳۵۹
) پر رقم طراز ہیں:
اس مرتب دلیل میں کتنے بے بنیاد مقدمات ہیں، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا تو صرف ایک آیت کا نزول اور اس کا یاد رکھنا فرماتی ہیں اور یہ لوگ پوری سورۂ قمر کا احاطہ کر لیتے ہیں، حالانکہ سب کو معلوم ہے کہ قرآن پاک میں کبھی ایک آیت، کبھی چند آیتیں، کبھی پوری سورت اتری، کبھی ایک ایک سورت چند سالوں میں متفرق طور پر نازل ہو کر پوری ہوتی تھی، اور آنحضرت ﷺ فرماتے تھے کہ اس آیت کو فلاں مقام پر رکھو، اس لئے جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ یہ آیتِ مذکورہ تنہا نہیں بلکہ پوری سورۂ قمر ایک ساتھ اتری اس وقت تک دلیل تام نہیں ہو سکتی، اگر پوری سورت ایک ساتھ اترتی تو حضرت عائشہ سورۂ قمر کا حوالہ دینے کے بجائے، اخیر کی ایک تنہا آیت کا حوالہ کیوں دیتیں۔
نیز یہ بھی ضروری نہیں کہ دو متناسب سورتیں ایک ہی زمانہ میں نازل ہوں، سورۂ نساء اور سورۂ طلاق بہت متناسب ہیں، مگر ان کے نزول میں برسوں کا فرق ہے اور سورتوں کا بھی یہی حال ہے، سورۂ انفال اور براءت میں اتنا اتصال اور تناسب ہے کہ حضرت عثمان رضی الله عنه نے بیچ میں فصل کی بسم اللہ بھی نہیں لکھی، مگر ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ انفال کا زیادہ تر تعلق غزوۂ بدر سے ہے جو ۲ ؁ھ کا واقعہ ہے اور سورۂ براءت کا تعلق فتح مکہ کے بعد سے جو ۹ ؁ھ کا واقعہ ہے۔
سورۂ نجم کے نزول کی قطعی تاریخ ۵ نبوی بتانا بھی صحیح نہیں ، معترضین یہ زمانہ اس لیے قطعی سمجھتے ہیں کہ یہی وہ سورت ہے جس کو رمضان ۵ نبوی میں تلاوت کرتے وقت (بقولِ بعض مفسرین) آپ نے یا شیطان نے نعوذ باللہ بتوں کی تعریف
تلك الغرانيق
ملا دی تھی اور سب نے مع مسلمانوں اور مشرکوں کے سجدہ کر لیا تھا، اور یہ سن کر مہاجرین حبش نے جنھوں نے رجب ۵ نبوی میں ہجرت کی تھی، شوال ۵ نبوی میں حبشہ سے واپس چلے آئے، اس لیے یہ سورت ۵ نبوی میں اتری، لیکن تمام ناقدین حدیث جانتے ہیں کہ یہ واقعہ تمام تر لغو ہے، سورۂ نجم کی تلاوت اور تمام کفار کے سجدہ کرنے کا ذکر بلا وقت کی تعیین کے اور بغیر اس کے کہ اس میں تلک الغرانیق والا ٹکڑا ہو اور بغیر اس کے کہ یہ واقعہ مہاجرین حبش کی واپسی کا غلط سبب بنے احادیثِ صحیحہ میں مذکور ہے، مگر اس سے معترضین کے استدلال کو کوئی تعلق نہیں ، تعلق اسی وقت ہوگا کہ جب اس لغو حصہ کی شمولیت ہو، اور یہ صحیح نہیں ، بلکہ اگر چند آیتوں سے پوری پوری سورت پر حکم لگایا جا سکتا ہے، تو میں کہتا ہوں کہ سورۂ نجم کا ۵ نبوی میں نازل ہونا اور حضور صلی اللہ علیہ سلم کا پوری سورت کی اس وقت قراءت کرنا نا ممکن ہے، کیوں کہ اس سورت کی ابتدا میں معراج کے روحانی مناظر و مشاہد کا ذکر ہے اور معراج کی تاریخیں ۱۱ نبوی یا ۱۲ نبوی ہیں، اس لیے کیونکر ممکن ہے کہ ۵ نبوی میں یہ سورت پوری اتری ہو، اور تلاوت کی گئی ہو۔
معجزۂ شق القمر کے وقوع کے زمانہ کو اس لیے ابتدائی بتانا کہ ۷ نبوی سے تو آپ شعبِ ابی طالب میں چلے گئے (محصور کہنا صحیح نہیں۔ کیوں کہ آنا جانا، نکلنا، بند نہیں تھا، فقط تعلقات اور خرید و فروخت کی بندش تھی) کیا آپ شعب ابی طالب میں یا اس سے نکلنے کے بعد ۹ نبوی سے لے کر ۱٤ نبوی تک اس معجزہ کو نہیں دکھا سکتے تھے، یہ کیا لزوم ہے کہ اگر آپ یہ معجزہ دکھا سکتے تو ۵ نبوی یا ۱۰ نبوی ہی تک دکھا سکتے تھے کوئی اور دلیل اس کی ہو تو ہو، مگر یہ تو کوئی دلیل نہیں ہے۔
علاوہ ازیں ایک دو نہیں ، بکثرت محدثین اور علمائے سیر نے شق القمر کے معجزہ کی تاریخ ۵ سال قبل ہجرت متعین کی ہے یعنی ۱۰ نبوی (دیکھو فتح الباری:
٦
/
۲٦٤
، و قسطلانی:
۷
/
٤۰۷
، و سیرتِ حلبی:
۳
/
٤۰۵
، و زرقانی بر مواہب:
۵
/
۱۲٤
، و تاریخ خمیس دیار بکری:
۱
/
۲۹۸
)، شاید بعض حضرات کو ۵ نبوی اور ۵ قبل ہجرت کے الفاظ میں تسامح اور تشابہ ہو گیا، حالانکہ ان دونوں میں چھ برس کے قریب کا فرق ہے، ان تصریحات کی بنا پر سورۂ قمر کا نزول کم از کم ۱۰ نبوی کا واقعہ ہونا چاہیے، جب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی عمر کا پانچواں سال ختم یا چھٹا سال شروع ہوگا، اس لیے اس عمر میں کھیل کے وقت ایک اور صرف ایک آیت کا کان میں پڑ کر یاد رہ جانا کوئی بڑی بات نہیں ہے، اور خصوصاً ایک تیز اور ذہین اور قوی الحافظہ لڑکی کے لیے، اس لیے اس دلیل سے بھی اس سورت کے بلکہ صحیح یوں کہنا چاہیے کہ اس ایک آیت کے نزول کا وقت ۵ نبوی یا ٦ نبوی ٹھہرانا بے ثبوت ہے۔ (سیرتِ عائشہ، ص
۳۵۹
۔
۳٦۲
)۔
صرف دو عربی عبارات پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ ملاحظہ ہو فتح الباری میں ابن حجر رحمه الله فرماتے ہیں:

فذكر فيه حديث ابن مسعود وأنس وابن عباس في ذلك وقد ورد انشقاق القمر أي من حديث على وحذيفة وجبير بن مطعم وابن عمر وغيرهم فأما أنس وابن عباس فلم يحضرا ذلك لأنه كان بمكة قبل الهجرة بنحو خمس سنين وكان ابن عباس إذ ذاك لم يولد وأما أنس فكان ابن أربع أو خمس بالمدينة وأما غيرهما فيمكن أن يكون شاهد. (فتح الباري: ٦/٦۳۲، ط: دار نشر الكتب الإسلامية).

علامہ قسطلانی رحمه الله فرماتے ہیں:

وفي رواية عن ابن عباس عند أبي نعيم في الدلائل والفضائل فصار قمرين في زمان النبي ﷺ وابن عباس أيضًا لم يحضر ذلك لأنه كان بمكة قبل الهجرة بنحو خمس سنين، وكان ابن عباس إذ ذاك لم يولد لكن في بعض الطرق أنه حمل الحديث عن ابن مسعود، وانشقاق القمر من أمهات المعجزات وأجمع عليه المفسرون وأهل السُّنّة وروي عن جماعة كثيرة من الصحابة. (إرشاد الساري: ٦/۷٤، ط: المطبعة الكبرى الأميرية). (وكذا في تاريخ الخميس في أحوال أنفس النفيس: ۱/۲۹۸، والمواهب اللدنية بالمنح المحمدية: ۲/۲۵٤، ط: المكتبة التوفيقية).

دلیل نمبر ۲کا جواب: عرض یہ ہے کہ عرب میں نہ صرف کمسن بچیوں کے پیام و نسبت کا رواج تھا بلکہ شیر خوار بچیوں کے نکاح کا بھی، بلکہ حمل کے اندر جو اولاد ہو اس کے نکاح کا وعدہ بھی مروج تھا، ملاحظہ ہو سنن ابی داود کتاب النکاح باب فی تزویج من لم یولد، کہ جاہلیت میں غیر مولود بچے کا بھی پیام ہو جاتا تھا، عرب میں کم سن لڑکیوں کے نکاح کے عدمِ رواج سے مطلب اگر زمانہ جاہلیت ہے تو یہ ہر شخص کو معلوم ہے کہ زمانہ جاہلیت کے واقعات محفوظ نہیں ، جو اس عہد کے عرب کے متعلق آپ نفیاً یا اثباتاً کچھ کہہ سکیں، پھر معلوم نہیں کہ عدمِ رواج کا دعوی اس عہد کے متعلق کس دلیل پر مبنی ہے، اور اگر اسلام کے زمانہ کا عرب مراد ہے تو حضرت عائشہ رضی الله عنہ کے علاوہ کمسن لڑکیوں کے نکاح کی متعدد مثالیں ملتی ہیں۔ بطورِ مشتے نمونہ از خروارے چند مثالیں پیش خدمت ہیں:
(۱) حضرت قدامہ بن مظعون

صحابی رضی الله عنه نے حضرت زبیر
رضي الله عنه
کی نو مولود لڑکی سے اسی دن نکاح پڑھایا جس دن وہ پیدا ہوئیں۔ (مرقاۃ ملا علی قاری حنفی:
۳
/
٤۱۷
)۔

(
۲
)
خود آنحضرت ﷺ نے حضرت ام سلمہ رضی الله عنه کے کمسن لڑکے سلمہ
رضي الله عنه
کا نکاح حضرت حمزہ
رضي الله عنه
شہیدِ احد کی نابالغ لڑکی سے کر دیا۔ (احکام القرآن رازی حنفی:
۲
/
۵۵
)۔ مستفاد از (سیرتِ عائشہ رضی الله عنه، ص:
۳٦۲
۔
۳٦۳
)۔
(۳) حضرت معاویہ رضی الله عنه نے اپنی بیٹی ہند کا نکاح عبد اللہ بن عامر سے نو سال کی عمر میں کر دیا۔ (تاریخ مدینۃ دمشق:
۷۰
/
۱۸۸
، ط: دار الفکر)۔
(٤) ہشام بن عروہ کا نکاح فاطمہ بنت منذر سے ہوا تھا اور رخصتی کے وقت فاطمہ نو سال کی تھیں۔ (تاریخ بغداد:
۱
/
۲۲۲
، ط: دار الکتب العلمیۃ)۔
دلیل نمبر (۳) کا جواب: صاحب مشکوۃ نے اپنے رسالہ "الاکمال فی اسماء الرجال" میں حضرت اسماء رضی الله عنه کے بارے میں فرمایا کہ وہ حضرت عائشہ رضی الله عنه سے دس سال عمر میں بڑی تھیں، یہ بات انہوں نے قیل سے بیان کی ہے اور یہ ضعیف ہے، ان کے علاوہ جمہور مؤرخین اور سیرت نگار حضرات نے کوئی حد بیان نہیں کی بلکہ صرف اتنی بات پر اکتفا کیا ہے کہ حضرت اسماء رضی الله عنه حضرت عائشہ رضی الله عنه سے عمر میں بڑی تھیں۔ چنانچہ ابن الاثیر اسد الغابہ میں لکھتے ہیں:
وكانت (أسماء بنت أبي بكر) أسن من عائشة رضي الله عنه وهي أختها لابيها

(
۷/۷، ط: دار الکتب العلمیۃ)۔ مزید دیکھیے: (تاریخ دمشق:
٦۹
/
۹
، ط: دار الفکر، و معرفۃ الصحابۃ لابی نعیم:
۵
/
۱۸۲
/
۳۷٦۹
، دار الکتب العلمیۃ)۔
ہاں امام ذہبی رحمه الله نے سیر اعلام النبلاء میں
"بضع عشر"
کا لفظ استعمال کیا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:

وكانت أسن من عائشة ببضع عشرة سنة. (
سیر اعلام النبلاء: ۲/۲۸۸، ط: مؤسسۃ الرسالۃ)۔
اور بضع کا لفظ عربی میں ۳ سے ۹ تک کے عدد پر بولا جاتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عائشہ رضی الله عنه حضرت اسماء سے تقریباً ۱۸ سال چھوٹی تھیں، اور بنا کے وقت نو سال عمر تھی جو احادیثِ صحیحہ کے بالکل موافق ہے۔
البتہ تاریخ کی بعض کتابوں میں عبد الرحمن بن ابی الزناد کے حوالہ سے دس سال کی تحدید مروی ہے۔
ملاحظہ ہو: (سیر اعلام النبلاء:
۲
/
۲۸۹
، و الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب:
۱
/
۱۸۵
، و تہذیب الاسماء:
۱
/
۹۱۹
)۔
لیکن عبد الرحمن بن ابی الزناد کو بعض محدثین نے ضعیف اور بعض نے
لا يحتج به
کہا ہے۔
ملاحظہ ہو: (الجرح و التعدیل:
۵
/
۲۵۳
، و تہذیب التہذیب:
٦
/
۱۷۰
، ط: دائرۃ المعارف، و سیر اعلام النبلاء:
٤
/
٤۰۸
، ط: دار الحدیث)۔
لہذا روایاتِ صحیحہ کے مقابلہ میں ضعیف راوی کا قول حجت نہیں۔
دلیل نمبر (٤) کا جواب: معترضین نے اپنے مطلب کی بات اخذ کر لی ہے ورنہ حافظ ابن حجر رحمه الله نے الاصابہ میں حضرت فاطمہ رضی الله عنه کی ولادت سے متعلق چند اقوال نقل کیے ہیں، چنانچہ واقدی کے حوالہ سے بنائے کعبہ یعنی بعثت سے ۵ سال قبل، اور ابو عمر کے حوالہ سے میلاد النبی کے ٤۱ ویں سال ولادت والا قول نقل کیا ہے، پھر اپنی رائے لکھی ہے کہ حضرت فاطمہ رضی الله عنه کی ولادت بعثت سے کچھ پہلے (ایک سال یا کچھ زیادہ) ہوئی۔ دیکھیے: (الاصابۃ:
۸
/
۲٦۳
، دار الکتب العلمیۃ)۔
نیز دیگر مؤرخین نے بھی اس بات کو نقل کیا ہے۔ بطورِ مشتے نمونہ از خروارے چند حوالے ملاحظہ کیجیے:
چنانچہ امام ذہبی رحمه الله نے سیر اعلام النبلاء میں (:
۲
/
۱۱۹
، ط: مؤسسۃ الرسالۃ) اور احمد بن عبد اللہ طبری نے ذخائر العقبی میں (
۱
/
۲٦
) اور محمد بن یوسف صالحی شامی نے سبل الہدی و الرشاد میں (
۱۱
/
۳۷
، ط: دار الکتب العلمیۃ) اور ابن عبد البر نے الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب میں (
٤
/
۱۸۹۳
، ط: دار الجیل)، اور ابن عساکر نے تاریخ مدینۃ دمشق میں (
۳
/
۱۵۷
) اور حافظ مزی رحمه الله نے تہذیب الکمال میں (
۳۵
/
۲٤۸
، ط: مؤسسۃ الرسالۃ) اور شیخ عصامی نے سمط النجوم العوالی میں (
۱
/
۲۱۷
)۔ وغیرہ۔
ان تمام کتبِ تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی ولادت بعثت سے کچھ پہلے یا بعثت کے بعد ہوئی، اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی ولادت بعثت کے چار سال بعد ہوئی، اس اعتبار سے حضرت عائشہ رضی الله عنه اور حضرت فاطمہ رضی الله عنه کے درمیان تقریباً پانچ سال کا فرق ہے اور حضرت عائشہ رضی الله عنه کی عمر شریف بوقت ہجرت نو سال تھی جو روایاتِ صحیحہ کے عین موافق ہے۔
مستفاد از (
رواية الصحيحين لعمر السيدة عائشة رضي الله عنه عند زواجها بالنبي ﷺ بين صدق الحقيقة وافتراء المشككين، ص: ۲۰ ــ ۲٤، للدكتور محمد رمضان أبو بكر محمود استاذ مساعد بجامعة الأزهر بمصر وجامعة حائل بالسعودية).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.