آتش فشاں سے پتھر یا راکھ لانے کا حکم:
Question
دنیا میں جگہ جگہ آتش فشاں پھٹتا ہے، اور وہاں سے آگ نالی کی طرح بہتی ہے، بعض لوگ وہاں سے پتھر یا راکھ وغیرہ لاتے ہیں، کیا ایسا کرنا درست ہے یا نہیں ؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ عذاب والی جگہ ہے یہاں سے کچھ نہیں لینا چاہیے؟ شرعی حکم کیا ہے؟
Answer
آتش فشاں اللہ تعالی کی قدرت کا ایک کرشمہ ہے یہ معذب بستیوں کا عذاب نہیں ہے، اور قوموں پر جو عذاب نازل کیے گئے وہ عذاب لوگوں کو ہلاک کرنے والا تھا، آتش فشاں ایسا نہیں ، مدینہ منورہ کے ارد گرد زمین کو لابۃ سے تعبیر کیا گیا ہے؛ بخاری میں ہے: "
حُرِّمَ ما بين لا بتي المدينة على لساني".
اور لغت میں حرۃ اور لابۃ آتش فشاں کے بعد اس کے جمے ہوے کالے پتھروں والی زمین کو کہتے ہیں؛
والحرة أرض بركانية وجمعها حرار، يقال لها: اللابة واللوبة وقد تكونت من فعل البراكين، ويشاهد منها نوعان: نوع يتألف من فجوات البراكين نفسها، ونوع يتألف من حممها اللابة[
Lava
] التي كانت تقذفها فتسيل على جوانب الفتحة، ثم تبرد وتتفتت بفعل التقلبات الجوية
الخ. للمزيد راجع؛ (مكة والمدينة في الجاهلية وعهد الرسول ﷺ: ۱/۱۵، للشيخ أحمد إبراهيم الشريف ط: دار الفكر العربي).
وينظر للمزيد: (لسان العرب: ۲/۲٤۲، ۱۰/۱۸۲، والقاموس: ۳/۷۸، والمصباح المنير: ۲/۷۲۹).
مذکورہ عبارت میں براکین برکان کی جمع ہے اور برکان آتش فشاں کو کہتے ہیں۔
انظر: (معجم تصحيح لغة الإعلام العربي).
اور مدینہ منورہ کے اطراف کی زمینیں ایسی ہی ہیں اس کے باوجود نبی ﷺ نے اس کے استعمال سے منع نہیں فرمایا۔
نیز فقہ کا قاعدہ ہے: "
الأصل في الأشياء الإباحة"
یعنی اشیاء میں اصل اس کا مباح اور جائز الاستعمال ہونا ہے۔ زمین سے نہ جانے کتنی دھاتیں اور کانیں نکلتی ہیں اور استعمال میں آتی ہیں، جنگل کی لکڑیاں ہر کوئی جمع کرتا ہے، اسی طرح آتش فشاں کے پتھروں کو استعمال میں لانا جائز ہے، یہ سب مباح الاصل ہیں۔
آتش فشاں کی چند قسمیں ہیں:
(۱) ایک قسم وہ ہے جس میں صرف آگ بہتی ہوئی نالی کی شکل میں برآمد ہوتی ہے، یہ قسم زیادہ تر نقصان دہ نہیں ہوتی، اور یہ قسم بحر الکاہل کے ایک خوبصورت جزیرے کے ایک پہاڑ میں زیادہ ہے،
نیز ریونین کے پہاڑ میں بھی پائی جاتی ہے۔ اور اس قسم کے آتش فشاں کے بعد سبزی اور شادابی زیادہ ہوتی ہے۔ اور آتش فشاں کی جمی ہوئی آگ کی نالیوں میں ایک قسم کا پھول ظاہر ہوتا ہے۔
(۲) دوسری قسم وہ ہے جس میں ایک قسم کا مادہ پھٹتا ہے، اس کے گیس اور پتھر کے ریزوں سے فضا ملوث ہو جاتی ہے، اور بسا اوقات اتنا کثیر ہوتا ہے کہ ہوائی جہاز کی پرواز بھی مشکل ہو جاتی ہے۔
نیز آتش فشاں اللہ تعالی کی مرضی سے کبھی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے، چنانچہ آج تک اس کے پھٹنے سے تقریباً دو لاکھ افراد جاں بحق ہوے ہیں۔
آتش فشاں کے فوائد: (۱) اس کے پتھروں میں سے کبریت (یعنی گندھک) برآمد ہوتا ہے، جو بے شمار چیزوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ (۲) اس کے ذریعہ تھرمل اور بجلی پیدا کی جاتی ہے۔ (۳) اس کے پتھروں میں بہت قیمتی معدنیات (جیسے؛ سونا، چاندی، تانبا، پیتل وغیرہ) ہوتے ہیں۔ (٤) اس کے پتھر بہت سی خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں، اور تعمیرات میں استعمال ہوتے ہیں۔ (۵) دنیا کے بعض حسین و جمیل مناظر اور قدرتی باغات اسی کے مرہونِ منت ہیں۔
مذکورہ بالا تفصیلات درجِ ذیل کتب سے مستفاد ہیں: (
الموسوعة العربية العالمية اول واضخم عمل من نوعه وحجمه ومنهجه في تاريخ الثقافة العربية الإسلامية. وعمل موسوعي ضخم اعتمد في بعض أجزاءه على النسخة الدولية من دائرة المعارف، world Book international، تحت مادة "بركان").
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
سوال: ریونین ایک پہاڑی علاقہ ہے، اور یہاں ایک آتش فشاں ہے جو بہت دور تک پھیلا ہوا ہے، اس کے قریب بہت سے جلے پتھر پڑے ہیں جو وزن میں ہلکے ہوتے ہیں اور ان کا استعمال بہت سی جگہوں میں ہوتا ہے، سینٹ لوئیس کے قبرستان کے اندر جو آمد و رفت کا راستہ ہے وہاں کیچڑ نہ ہو اس لیے یہ پتھر وہاں ڈالتے ہیں، بعض لوگ اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ پتھر دوزخ کے پتھروں کی مثال ہے۔ اس سلسلہ میں شرعی حکم کیا ہے؟ (۲) اوپر کے سوال میں درج پتھروں کا استعمال یہاں کے بہت سے مسلمان اپنے مکانوں میں فیشن سمجھتے ہوے ایک چھوٹا سا آتش فشاں بنواتے ہیں، اس کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب: (۱) قبرستان کے اندر لوگوں کے چلنے کا جو راستہ ہے اس کو پختہ کرنے کے لیے یہ پتھر لگائے جا سکتے ہیں، قبر کے اندر اور قبر کے اوپر لگانا منع ہے۔ (۲) مباح ہے، بنا سکتے ہیں، لیکن فضولیات سے بچنا بہتر ہے۔ (فتاوی رحیمیہ:
۵
/
٤۸۳
، ط: مکتبۃ الاحسان، دیوبند)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3150
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3150