جائز اور مباحات میں شوہر کی اطاعت شیخ پر مقدم ہے:
Question
شیخ اور شوہر میں اختلاف ہو جائے تو عورت کے لیے شوہر کا اتباع ضروری ہے یا شیخ کا، دونوں میں سے کس کو ترجیح دے گی؟ بینوا توجروا۔
Answer
شریعتِ مطہرہ کی جانب سے واجب اور لازم امور میں تو شریعت کا اتباع ضروری ہے اور خلاف شریعت امور میں کسی کی اطاعت جائز نہیں ہے البتہ مباح اور جائز امور میں شوہر اور شیخ کے درمیان اختلاف ہو جائے تو شوہر کا حق شیخ پر مقدم ہونے کی وجہ سے شوہر کی بات ماننا ضروری ہے۔ بہت ساری روایات سے پتا چلتا ہے کہ شوہر کا حق مقدم ہے۔ روایات درجِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
أخرج الإمام أبو داود في سننه (۲۱٤۲) بسنده عن قيس بن سعد، وفيه: قال: لوكنت آمراً أحداً أن يسجد لا حد لا مرت النساء أن يسجدن لا زواجهن لما جعل الله لهم عليهن من الحق.
خلاصہ یہ ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: شوہر کا عورت پر ایسا حق ہے کہ اگر اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں عورتوں کو حکم دیتا کہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں۔
ایک حدیث میں ہے: نبی ﷺ نے فرمایا: جب شوہر اپنی بیوی کو پکارے تو فوراً حکم کی تعمیل کرے اگر چہ تنور کے پاس ہو۔
أخرج الإمام الترمذي في سننه (۱۱٦۰) بسنده عن طلق بن على رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: إذا الرجل دعا زوجته لحاجته فلتأته وإن كانت على التنور.
ایک حدیث میں ہے: اگر عورت نماز پنجگانہ کی پابندی کرے، شرمگاہ کی حفاظت کرے، رمضان المبارک کے روزے رکھے اور اپنے شوہر کی اطاعت کرے تو جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہو جائے۔
إذا صلت المرأة خمسها، وأحصنت فرجها، وصامت شهرها، وأطاعت بعلها، فلتدخل من أي أبواب الجنة شاء ت. رواه الربيع بن صبيح: عن يزيد الرقاشي، عن أنس رضي الله عنه والربيع ضعيف. (ذخيرة الحفاظ: ۱/۳۳۲/۳۳۷، ومسند أحمد، رقم: 1٦٦۱، وابن حبان، رقم: ٤۱٦۳). (وكذا أخرجه ابن عدي في الكامل (۳/۱۳۳). قال الشيخ شعيب الارنؤوط: حسن لغيره وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة. (التعليقات على مسند أحمد، رقم: 1٦٦۱).
خلاف شریعت امور میں کسی کی بات ماننا ناجائز اور گناہ ہے۔ ملاحظہ ہو حدیث میں ہے:
عن ابن عمر رضي الله عنه عن النبي ﷺ، قال: على المرء المسلم السمع والطاعة فيما أحب وكره، إلا أن يؤمر بمعصية، فإذا أمر بمعصية فلا سمع ولا طاعة. (متفق عليه).
وعن على رضي الله عنه أن النبي ﷺ بعث جيشاً وأمر عليهم رجلاً فأوقد ناراً وقال: ادخلوها فأرادوا أن يدخلوها وقال آخرون: إنما فررنا منها فذكروا للنبي ﷺ، فقال للذين أرادوا أن يدخلوها: لو دخلوها لم يزالوا فيها إلى يوم القيامة وقال للآخرين: لا طاعة في معصية إنما الطاعة في المعروف. (صحيح البخاري، رقم: ۷۲۵۷).
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں مذکور ہے:
اگر ایک کا حکم شرعاً صحیح اور دوسرے کا غلط ہے تو جس کا صحیح ہے اس کا حکم مانا جائے خواہ ماں ہو یا شوہر، اور دونوں باتیں جائز ہوں تو عورت کے لیے شوہر کا حکم مقدم ہے۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل:
٦
/
۳۲۰
)۔
فتاوی محمودیہ میں مرقوم ہے:
شادی کے بعد اگر والدین جائز کاموں میں شوہر کی فرماں برداری سے روکیں تو ان کو حق نہیں اور اس حالت میں لڑکی کو ان کی اطاعت بھی لازم نہیں والدین اور شوہر سب کا ہی احترام لازم ہے اور ناحق بات کسی کی بھی ماننا جائز نہیں۔ (فتاوی محمودیہ:
۱۸
/
٦۰۰
)۔
کفایت المفتی میں ہے:
بیوی پر شوہر کی اطاعت اور حفظ عصمت اور اس کے گھر کی حفاظت لازم ہے اگر باپ اور شوہر دونوں محتاج خدمت ہوں تو شوہر کی خدمت مقدم ہے۔ (کفایت المفتی:
۵
/
۲۳۵
، دار الاشاعت)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
نبی ﷺ کی صفت رحمۃ للعالمین کا یہ مطلب نہیں کہ آپ نعمتوں کو بانٹتے ہیں:
سوال: ایک صاحب کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رحمۃ للعالمین، یعنی وفات کے بعد رحمتوں کو بانٹنے والے ہیں، کیا یہ مطلب صحیح ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔
الجواب: بصورتِ مسئولہ رحمت کا معنی اور مطلب یہ ہے:
الرفقة والتعطف
، (تاج العروس) یعنی نرمی، شفقت و ہمدردی، اسی وجہ سے جب نبی ﷺ سے بددعا کرنے کا مطالبہ کیا جاتا تھا تو آپ ﷺ فرماتے تھے: "
إني لم أبعث لعاناً وإنما بعثت رحمة"
۔ نبی ﷺ پر رحمت کا اطلاق چند حیثیت سے ہے؛
۱۔ آپ لوگوں کو گمراہی کی تاریکیوں سے نکال کر ہدایت کے نور کی طرف لانے والے ہیں۔
۲۔ اللہ کے برگشتہ بندوں کو اللہ سے ملانے والے ہیں۔
۳۔ انسان کو اخلاقِ حمیدہ اور محاسنِ جمیلہ کی تعلیم دینے والے ہیں۔
٤۔ قیامت کے دن؛ میدانِ محشر، حوضِ کوثر وغیرہ سب جگہوں پر آپ امت کے لیے سفارش کریں گے۔
۵۔ آپ اس وقت تک راضی نہیں ہوں گے جب تک کہ تمام مسلمان جنت میں داخل نہ ہو جائیں۔
٦۔ اس معنی میں رحمت ہیں کہ اگلی امتوں کی طرح عام عذاب اس امت پر نہیں آئے گا۔
۷۔ رحمت بمعنی نعمت ہے جس نے آپ ﷺ کی قدر کی، ایمان لایا، جنت میں جائے گا اور جس نے انکار کیا جہنم میں داخل ہو گا۔ (ان معانی کے لیے کتب تفسیر و شروحاتِ حدیث کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے)۔
اور رحمت کا معنی
إعطاء الرحمة والنعمة
یعنی بخشش کرنے کے معنی لینا درست نہیں ہے؛ کیوں کہ لفظ رحمت اگلے انبیاء علیہم السلام کے لیے بھی استعمال ہوا ہے؛ جیسے حضرت عیسی علیہ السلام کے لیے:
﴿ولنجعله آية للناس ورحمة منا﴾،
حضرت صالح علیہ السلام کے لیے:
﴿وآتاني رحمة من عنده﴾،
حضرت خضر علیہ السلام کے لیے:
﴿وآتيناه رحمة من عندنا﴾،
بلکہ صحابہ کرام کے لیے استعمال ہوا ہے۔ ملاحظہ ہو:
﴿أشداء على الكفار رحماء بينهم﴾
وغیرہ مواضع میں کسی کا بھی یہ عقیدہ نہیں ہے کہ انبیاء اور صحابہ رحمت بھیجنے پر قادر ہیں۔ کیوں کہ اعطاء الرحمۃ صرف "الرحمن" کے ساتھ خاص ہے، اس وجہ سے کہ لغت میں الرحمن کے معنی ہیں:
ذو الرحمة التي لا غاية بعدها في الرحمة" فالرحمن الذي وسعت رحمته كل شيء.
اور لفظ "
الرحمن"
یہ اللہ تعالی کے ساتھ خاص ہے۔
قال الله تعالى: ﴿قل ادعوا الله أو ادعوا الرحمن﴾ [الإسراء: ۱۱۰]
خلاصہ یہ ہے کہ رحمت صرف اللہ تعالی ہی سے طلب کی جائے گی اور یہ اللہ تعالی نے خود ہمیں اس کی تعلیم دی ہے:
﴿ربنا لا تزغ قلوبنا بعد إذ هديتنا وهب لنا من لدنك رحمة، إنك أنت الوهاب﴾
اے ہمارے پروردگار ہمارے دلوں کو کج نہ کیجیے بعد اس کے کہ آپ ہم کو ہدایت کر چکے ہیں، اور ہم کو اپنے پاس سے رحمت عطا فرمائیے، بلاشبہ آپ بڑے عطا فرمانے والے ہیں۔ (بیان القرآن:
۲
/
۳
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3183
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3183