اہل بیت کون لوگ ہیں اور کیا ازواجِ مطہرات اہل بیت میں شامل ہیں یا نہیں ؟

6 min readFatwa Vol 8 #266Urdu

Question

شیعہ ہم سے کہتے ہیں کہ تم اہل بیت کو نہیں مانتے بقول ان کے اہل بیت: علی رضی الله عنه، حسن رضی الله عنه، حسین رضی الله عنه اور فاطمہ رضی الله عنه ہیں، اور یہ بھی کہتے ہیں کہ جن پر رسول اللہ ﷺ نے چادر ڈالی تھی وہی لوگ اہل بیت ہیں۔ ازواجِ مطہرات اہل بیت یا آلِ بیتِ رسول نہیں۔ ہمارے مفتیانِ کرام اس مسئلہ میں کیا کہتے ہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ شیعہ کی یہ بات صحیح اور درست نہیں کہ اہل بیت وہی لوگ ہیں جن پر حضور ﷺ نے چادر ڈالی تھی، بلکہ دلائلِ کثیرہ اس بات پر شاہد ہیں کہ ازواجِ مطہرات اہل بیت رسول میں داخل ہیں۔ چند دلائل حسبِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
۱۔
قال الله تعالى: ﴿إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيراً﴾ [الأحزاب: ۳۳]
اس آیتِ کریمہ میں اہل بیت سے مراد ازواجِ مطہرات ہیں؛ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عباس
رضي الله عنه
فرماتے ہیں:
نزلت في نساء النبي ﷺ خاصة. (الدر المنثور: ٦/٦۰۳، ط: بيروت).

محقق ابن کثیر رحمه الله اس آیتِ کریمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

وهذا نص في دخول أزواج النبي ﷺ في أهل البيت هاهنا، لأنهن سبب نزول هذه الآية، وسبب النزول داخل فيه قولاً واحداً، أما وحده على قول أو مع غيره على الصحيح.
وروي ابن جرير عن عكرمة أنه كان ينادي في السوق: ﴿إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيراً﴾ نزلت في نساء النبي ﷺ خاصة، وهكذا روي ابن أبي حاتم قال: حدثنا على بن حرب الموصلي، حدثنا زيد بن الحباب، حدثنا حسين بن واقد، عن يزيد النحوي، عن عكرمة عن ابن عباس رضي الله عنه في قوله: إنما يريد الله الخ

قال: نزلت في نساء النبي ﷺ خاصة. (تفسير ابن كثير: ٦/۳٦٤, ط: دار الكتب العلمية، وكذا في روح المعاني: ۱۱/۱۹٤, ط: بيروت).

مفتی سعید پالن پوری صاحب چادر والی روایت کے تحت لکھتے ہیں: حضرت فاطمہ رضی الله عنه, حسن رضی الله عنه, حسین رضی الله عنه, اور علی رضی الله عنه کی اہل بیت میں شمولیت دعائے نبوی کی برکت سے ہوئی ہے, کیوں کہ اہل بیت کا اصل مصداق ازواجِ مطہرات رضی الله عنه ہیں, کیوں کہ سورۂ احزاب میں آیاتِ تخییر کے بعد پانچ آیتوں میں ازواج ہی کے لیے ہدایات, نصائح اور فضائل بیان ہوے ہیں ان کے درمیان میں یہ آیت آئی ہے:
إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت، الخ،
اہل البیت میں الف لام عہدی ہے, اور مراد نبی ﷺ کا گھر ہے اور آپ ﷺ کے گھر سے مراد آپ کی ازواج ہیں, اور اس کا قرینہ یہ ہے کہ پورے رکوع میں خطاب ازواج ہی سے ہے, مگر یہ آیت عام ہے, کیونکہ
عنكم
اور
يطهركم
میں مذکر ضمیریں استعمال ہوئی ہیں, اس لیے نزولِ آیت کے ساتھ ہی نبی ﷺ نے چار لوگوں کو ایک کمبل میں لے کر دعا کی "کہ اے اللہ یہ بھی میرے گھر والے ہیں, یہ دعا اللہ تعالی نے قبول فرمائی. (تحفۃ الالمعی:
۷
/
۳۹٦
).
شرح سنن ابی داود للعبادی میں مرقوم ہے:

في الحديث دليل على أن المراد بآل النبي ﷺ أزواجه، حيث قال: (فما كان حاجتك أمس إلى آل محمد) والقرآن جاء بهذا، وهو من أوضح الأمور في ذلك لأن الخطاب في آيات سورة الأحزاب هو لزوجات النبي ﷺ، وقد قال: إنما يريد الله

الخ. وقد ذكر خطابهن قبل هذه الجملة وبعدها، ولكن لم يأت في القرآن الخطاب لهن على سبيل التحديد، ما قال: إن الله أذهب عنكن الرجس أهل البيت، لأن أهل البيت، يشملهن ويشمل غيرهن، وهذا التطهير لهن ولغيرهن، ولهذا جاء في السنة بيان أن علياً وفاطمة والحسن والحسين من أهل البيت، والقرآن صريح في أن أزواج رسول الله ﷺ من أهل البيت. (شرح سنن أبي داود: ۱۲/۵۷۵).

مذکورہ عبارت سے بھی واضح ہوا کہ آیتِ کریمہ میں اہل بیت کا اولین مصداق ازواجِ مطہرات ہیں, پھر حدیث کے ذریعہ دیگر چار حضرات کو شامل کرنے کی دعا فرمائی گئی اور اللہ تعالی نے قبول فرمائی.
فتاوی محمودیہ میں (۲/٦۲) پر بھی اسی طرح لکھا ہے.
نیز آل تین طریقوں پر استعمال ہوتا ہے: (۱) ازواجِ مطہرات کے معنی میں؛ مثالیں حسب ذیل ہیں:
۱۔
ما شبع آل محمد ﷺ من خبز مأدوم. (مسند أحمد، رقم: ۲۵۵٤).

۲۔
اللهم اجعل رزق آل محمد كفافاً. (صحيح ابن حبان، رقم: ٦۳٤۳).

۳۔
من سره أن يكتال بالمكيال الأوفي إذا صلي علينا أهل البيت: فليقل: اللهم صل على محمد النبي وأزواجه أمهات المؤمنين وذريته. (شعب الإيمان، رقم: ۱٤۱۹).

(۲) اقارب کے معنی میں؛ یعنی بنو ہاشم اور شافعیہ کے نزدیک بنو المطلب؛ یاد رہے کہ ہاشم, مطلب, نوفل اور عبد شمس چار بھائی تھے. ملاحظہ ہو حدیث میں ہے:
إن الصدقة لا تحل لمحمد ولا لا ل محمد. (مسند الشافعي، رقم: ۹٦۱).

۲. جب آیتِ تطہیر
﴿إنما يريد الله ليذهب

الخ.﴾
نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے حضرت علی, حضرت فاطمہ, حسن اور حسین رضی اللہ تعالی عنہم کو چادر میں لے کر کہا:
اللهم هؤلاء أهل بيتي وخاصتي، اذهب عنهم الرجس. (سنن الترمذي، رقم: ۳۷۸٦).

(۳) تابعدار کے معنی میں. ملاحظہ ہو: ۱.
عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: سئل النبي ﷺ من آل محمد فقال: كل تقي

الخ. (المعجم الصغير للطبراني، رقم: ۳۱۸)
اس روایت میں نوح ابن ابی مریم پر بہت کلام ہے.
۲.
قال تعالى: ﴿إلا آل لوط﴾ [الحجر:
۵۹
], أي أتباع لوط عليه السلام.

۳.
قال تعالى: ﴿أدخلوا آل فرعون أشد العذاب﴾ [غافر:
٤٦
], أي أتباع فرعون.

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.