کنیسہ کو مسجد میں تبدیل کرنے کا حکم اور کیا سلطان محمد فاتح نے آیا صوفیا کے گرجے کو مسجد میں تبدیل کر کے ظلم کیا تھا؟:
Question
کسی جنگ میں لڑائی کر کے ایک غیر مسلم ملک کو فتح کیا گیا، تو کیا مسلم گورنر کے لیے یہ جائز ہے کہ ایک کنیسہ یا گرجا گھر کو مسجد میں تبدیل کر دے؟ اور اگر کسی ملک کو بہ طور صلح فتح کیا ہو تو اس کا حکم بھی یہی ہے؟ یہ سوال اس لیے اٹھتا ہے کہ جب سلطان محمد فاتح عثمانی رحمہ اللہ نے قسطنطنیہ کو فتح کیا تھا تو آیا صوفیا کو مسجد میں تبدیل کر دیا تھا۔ بینوا توجروا۔
Answer
جب کوئی شہر فتح ہو جائے اور اس کے رہنے والے مسلمان بن جائیں، نیز اس شہر کے مذہبی رہنما بھی مسلمان ہو جائیں تو پھر اس شہر کے کنیسہ کو مسجد میں تبدیل کرنا جائز ہے، اگر جائز نہ ہو تو پھر کیا اس کنیسہ میں جنات نماز پڑھیں گے؟ اور یہ بات ہمیں سنن نسائی اور مسند احمد کی روایت سے معلوم ہوتی ہے، رسو ل اللہ ﷺ کے پاس ایک وفد آیا اور کہا کہ ہم مسلمان ہو چکے ہیں اور ہمارا ایک گرجہ ہے، اب ہم کیا کریں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گرجے کو توڑ کر مسجد بنا دو۔ انہوں نے کہا کہ آپ ہمیں اپنے وضو کا مستعمل پانی دے دیں تاکہ ہم گرجے میں اس کو چھڑک دیں۔ آپ ﷺ نے وضو فرمایا اور پانی دے دیا، پھر وفد کے شرکاء نے کہا کہ راستے میں گرمی ہے یہ پانی سوکھ جائے گا، آپ ﷺ نے فرمایا: اس میں مزید پانی ڈالتے رہو۔ وہ لوگ واپس اپنی بستی پہنچے اور اپنے گرجے کو مسجد میں تبدیل کیا۔
اِسی طرح جب محمد فاتح عثمانی رحمہ اللہ تعالی نے قسطنطنیہ یعنی استنبول کو فتح کیا اور آیا صوفیہ کے گرجے میں آئے، تو وہاں بہت مسیحی جمع تھے، جن میں اُن کے علماء، مشائخ، گوشہ نشین اور مرشد بھی موجود تھے۔ وہ سب دعائیں پڑھ رہے تھے۔ جب محمد فاتح قریب پہنچے تو اندر موجود نصاری ڈر گئے، ایک راہب نے دروازہ کھولا، تو محمد فاتح نے اس سے درخواست کی کہ آپ لوگوں کو خاموش کرا دیں اور اطمینان رکھیں، اور لوگ امن و امان کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں۔ اس پر لوگ مطمئن ہو گئے۔ بعض گوشہ نشین مشائخ گرجے کی سرنگوں میں چھپے ہوئے تھے، جب انہوں نے سلطان کے عفو و کرم کا معاملہ دیکھا تو وہ نکل آئے اور اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا۔ پھر اس کے بعد سلطان فاتح نے کنیسہ کو مسجد میں تبدیل کرنے کا حکم صادر فرمایا اور آئندہ جمعہ کی نماز اس میں ادا کرنے کا حکم فرمایا۔ صلیبوں، تصویروں اور مجسموں کو مٹا دیا گیا اور خطیب کے لیے منبر بنا یا گیا۔ اس لیے استنبول میں پرانے زمانے سے مسیحی نہیں بلکہ اکثریت مسلمانوں کی ہے؛ کیوں کہ وہاں کے مسیحی مسلمان ہو گئے تھے، اور اگر کسی نے اس کے خلاف لکھا ہوگا تو وہ تحریر تعصب پر مبنی ہو گی۔
دلائل ملاحظہ فرمائیے:
في المعجم الكبير: عن قيس بن طلق عن أبيه طلق قال خرجنا ستة وفدا إلى النبي ﷺ، خمسة من بني حنيفة والسادس رجل من بني ضبعة بن ربيعة حتى قدمنا على نبي الله ﷺ، فأتيناه وصلينا معه، وأخبرناه أن بأرضنا بيعة لنا، واستوهبناه من فضل طهوره، فدعا بماء فتوضأ منه وتمضمض ثم صبه لنا في إداوة قال: اذهبوا بهذا الماء، فإذا قدمتم بلدكم فاكسروا بيعتكم، ثم انضحوا مكانها من الماء، واتخذوا مكانها مسجداً، فقلنا: يا نبي الله، البلد بعيد والماء ينشف، قال: فمدوه من الماء، فإنه لا يزيد إلا طيباً. فخرجنا حتى قدمنا بلدنا، ففعلنا الذي أمرنا وراهبنا ذلك اليوم من طيء، فنادينا بالصلاة، فقال الراهب: دعوة حق، ثم هرب فلم نره بعد. (المعجم الكبير للطبراني: ۸/۳۳۲، ۸۲۴۱).
وفي مسند أحمد: حدثنا عبد الله بن بدر، وسراج بن عقبة، أن عمه قيس بن طلق حدثه، أن أباه طلق بن على حدثه: أنه انطلق وفد إلى رسول الله ﷺ حتى أتوه، فأخبروه أن بأرضهم بيعة، واستوهبوه من طهوره فضله، فدعا بماء فتوضأ وتمضمض، ثم صبه في إداوة، وقال: اذهبوا بهذا الماء، فإذا قدمتم بلدكم، فاكسروا بيعتكم وانضحوا مكانها من هذا الماء، واتخذوها مسجداً، قال: قلنا: يا نبي الله، إنا نخرج في زمان كثير السموم والحر، والماء ينشف قال: فمدوه من الماء، فإنه يبقي منه شديد كثير رطب، قال: فخرجنا حتى بلغنا بلدنا، فكسرنا بيعتنا، ونضحنا مكانها بذلك الماء، واتخذناها مسجداً. وقال الشيخ شعيب في تعليقه: إسناد حسن. (مسند أحمد: ۳۹/۴۶۲). (وكذا في سنن النسائي: ۲/۳۸/۷۰۱، باب اتخاذ البيع مساجد، ط: مكتب المطبوعات الإسلامية).
وفي نيل الأوطار: والحديث يدل على جواز اتخاذ البيع مساجد، وغيرها من الكنائس ونحوها ملحق بها بالقياس. (نيل الأوطار: ۲/۱۷۰).
قال الصلابي في كتابه "الدولة العثمانية": توجه محمد الفاتح إلى كنيسة آيا صوفيا وقد اجتمع فيها خلق كبير من الناس ومعهم القسس والرهبان الذين كانوا يتلون عليهم صلواتهم وأدعيتهم، وعندما اقترب من أبوابها خاف النصارى داخلها خوفاً عظيماً، وقام أحد الرهبان بفتح الأبواب له، فطلب من الراهب تهدئة الناس وطمأنتهم والعودة إلى بيوتهم بأمان، فاطمأن الناس وكان بعض الرهبان مختبئين في سراديب الكنيسة، فلما رأوا تسامح الفاتح وعفوه خرجوا وأعلنوا إسلامهم، وقد أمر الفاتح بعد ذلك بتحويل الكنيسة إلى مسجد وأن يعد لهذا الأمر حتى تقام بها أول جمعة قادمة، وقد أخذ العمال يعدون لهذا الأمر، فأزالوا الصلبان والتماثيل وطمسوا الصور بطبقة من الجير وعملوا منبراً للخطيب. (الدولة العثمانية عوامل النهوض وأسباب السقوط لعلي محمد محمد الصلابي: ۱۰۰).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3217
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3217