احادیث، فقہائے کرام کی عبارات اور اکابرین کے فتاوی کی روشنی میں:
Question
عاشورا کے دن اپنے اہل و عیال پر وسعتِ رزق کے بارے میں کوئی حدیث مروی ہے یا نہیں ؟ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ اس بارے میں روزے کے علاوہ کوئی چیز ثابت نہیں ، اور وسعت والی روایت بھی صحیح نہیں ، وہ سب روایات موضوع اور ناقابل اعتبار ہیں؟ یہ بات کہاں تک صحیح ہے؟ آپ روایات ذکر کر کے ان کا درجہ بھی بتلا دیں کہ موضوع ہیں یا ضعیف؟ نیز علمائے کرام اور اکابر سے اس بارے میں کوئی تصریح منقول ہو تو اس کو بیان کریں۔
بينوا بالتفصيل توجروا بالأجر الجزيل.
Answer
بصورتِ مسئولہ عاشورا کے دن اپنے گھر والوں پر رزق میں وسعت اور فراخی کے بارے میں مرفوعاً و موقوفاً چند صحابہ کرام رضي الله عنہم سے روایات مروی ہیں۔ بعض ان میں سے صحیح یا حسن ہیں اور بعض ضعیف، لیکن بقولِ محدثین مجموعی اعتبار سے صحیح علی شرط مسلم یا حسن لذاتہ یا حسن لغیرہ ضرور ہیں، بنا بریں قابل اعتبار ہیں۔ نیز علمائے کرام اور فقہائے عظام نے بھی ان کو تسلیم کیا ہے اور اپنی کتابوں میں ذکر فرمایا ہے۔ روایات کی تفصیل، تخریج و تحقیق حسبِ ذیل ملاحظہ فرمائیں:
حدیث نمبر ۱: حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ کی موقوف روایت:
علامہ ابن عبد البر رحمه الله نے الاستذکار میں حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ سے موقوفاً روایت نقل فرمائی ہے جو بالکل صحیح ہے اس کے روات سب ثقات ہیں۔ روایت ملاحظہ کیجیے:
أخرج ابن عبد البر في الاستذكار (۳/۳۳۱، دار الكتب العلمية، بيروت) حدثنا قاسم بن أصبغ (الإمام) قال: حدثنا أبو وضاح (صدوق) قال: حدثنا أبو محمد العابد (ثقة) عن بهلول بن راشد (ثقة) عن الليث بن سعد (ثقة) عن يحيى بن سعيد (ثقة) عن سعيد بن المسيب (ثقة) قال: قال عمر بن الخطاب رضي الله عنه: من وسع على أهله يوم عاشوراء وسع الله عليه سائر السنة، قال يحيى بن سعيد جربنا ذلك فوجدناه حقاً.
حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: جو شخص عاشوراء کے دن اپنے گھر والوں پر کھانے وغیرہ میں فراخی کرے گا، اللہ تعالی اس کے ساتھ پورے سال وسعت کا معاملہ فرمائیں گے، یحیی بن سعید کہتے ہیں: ہم نے اس نسخہ کو آزمایا تو بالکل سچا پایا۔
رجال کی تحقیق درجِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
قاسم بن أصبغ: الإمام، انظر: (سير أعلام النبلاء: ۱۵/٤۷۲، وتاريخ الإسلام: ۷/ ۷۳۸، ولسان الميزان: ٦/۳٦۷).
أبو وضاح أبو بد الله، محمد بن وضاح؛ صدوق. راجع: (سير أعلام النبلاء: ۱۳/ ٤٤۵، وتاريخ الإسلام: ٦/۸۲۸).
أبو محمد العابد، خلف بن محمد؛ ثقة. راجع: (طبقات علماء افريقية، ص ۱۱٦).
بهلول بن راشد، أبو محمد الزاهد؛ ثقة. راجع: (التاريخ الكبير: ۲/۱٤۵، وتاريخ الإسلام: ٤/۸۱۷).
الليث بن سعد بن عبد الرحمن الفهمي؛ ثقة. راجع: (سير أعلام النبلاء: ۸/۱۳٦، وتاريخ الإسلام: ٤/۷۱۰).
يحيى بن سعيد بن قيس بن عمرو الأنصاري؛ ثقة. انظر: (سير أعلام النبلاء: ۵/٤٦۸، وتاريخ الإسلام: ۳/۱۰۰۹، والتاريخ الكبير: ۸/۲۷۵).
سعيد بن المسيب بن حزن القرشي المخزومي؛ انظر: (سير أعلام النبلاء: ٤/ ۲۱۷، وتاريخ الإسلام: ۲/۱۱۰۳، وجامع التحصيل، ص ۱۸٤).
مذکورہ بالا حدیث کے بارے میں علامہ عراقی رحمه الله نے فرمایا کہ اس کی سند جیدہ ہے، اس کے رجال ثقہ ہیں، البتہ سعید بن مسیب کے حضرت عمر رضی الله عنه سے سماع کے بارے میں اختلاف ہے لیکن حافظ مزی رحمه الله نے بحوالہ امام احمد بن حنبل سماع کو ثابت کیا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
قال العراقي: وإسناده جيد. سعيد بن نصر، وقاسم بن أصبغ ثقتان، ومحمد بن وضاح صدوق تكلم فيه، وأبو محمد العابد اسمه خلف بن محمد من أهل إفريقية، قال ابن يونس: وهو رجل معروف بالمغرب. وبهلول بن راشد روي عنه جماعة. وقال أبو زرعة: ثقة لا بأس به. وقال ابن يونس: كانت له عبادة وفضل. وذكره ابن حبان في الثقات. وباقيهم رجال الصحيح. نعم في سَماع ابن المسيب من عمر خلاف. فقال أحمد: رآه وسمع منه. وقال أبو حاتم: لا يصح له سماع منه إلا رؤية. (التوسعة على العيال لا بي زرعة، ص ۱۳، ۱٤، وتحفة التحصيل في ذكر رواة المراسيل، ص ۱۲۹).
قال الإمام المزي رحمه الله: وقال أبو طالب: قلت لا حمد بن حنبل: سعيد بن المسيب؟ فقال: ومن مثل سعيد بن المسيب، ثقة من أهل الخير. قلت: سعيد عن عمر حجة؟ قال: هو عندنا حجة، قد رأي عمر وسمع منه، وإذا لم يقبل سعيد عن عمر فمن يقبل. (تهذيب الكمال: ۱۱/ ۷۳، ط: مؤسسة الرسالة).
البتہ بعض حضرات کے نزدیک سماع ثابت نہیں ہے، لیکن اس کی وجہ سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیوں کہ مرسلاتِ سعید بن المسیب محدثین کے نزدیک صحیح اور حجت ہیں۔ قال الذہبی فی السیر:
قال أحمد بن حنبل رحمه الله، وغير واحد: مرسلات سعيد بن المسيب صحاح. (سير أعلام النبلاء: ٤/۲۲۲، وكذا في تهذيب الكمال: ۱۱/۷۳).
وقال في مقام آخر: ومراسيل سعيد محتج بها. (سير أعلام النبلاء: ٤/۲۲۱).
وأما الشافعي رحمه الله فنص على أن مرسلات سعيد بن المسيب، حسان، قالوا: لأنه تتبعها فوجدها مسندة. (الباحث الحثيث، ص ٦). قال الخطيب في الكفاية: قال يحيى بن معين: أصح المراسيل مراسيل سعيد بن المسيب وعن الإمام أحمد بن حنبل قال: مرسلات سعيد بن المسيب أصح المراسيل. (الكفاية، ص ٤۰٤، المدينة المنورة. وكذا في تدريب الراوي: ۱/۲۰۳).
ہاں بعض حضرات نے اس حدیث کی سند میں ایک راوی ابو محمد العابد شیخ ابن وضاح کو مجہول کہا ہے (
انظر: التعليق للاعتصام: ۲/۲۵۵، السعودية)
لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے کیوں کہ ابو العرب نے طبقات علماء افریقہ میں ثقہ کہا ہے۔ راجع: (طبقات علماء افریقۃ:
۱
/
۱۱٦
)۔
حدیث نمبر ۲:۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ کی مرفوع روایت:
أخرجه ابن عبد البر في الاستذكار (۳/۳۳۰، دار الكتب العلمية) قال: حدثنا أحمد بن قاسم (الشيخ) محمد بن إبراهيم (ثقة) ومحمد بن حكم (ثقة) قالوا: حدثنا محمد بن معاوية (ثقة) قال: حدثنا الفضل بن الحباب (ثقة) قال: حدثنا هشام بن عبد الملك الطيالسي (ثقة) قال: حدثنا شعبة (الإمام) عن أبي الزبير (ثقة، قيل هو مدلس ولم يثبت تدليسه عند معاصريه وأول من نسب إليه التدليس الإمام النسائي) عن جابر رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: من وسع على نفسه وأهله يوم عاشوراء وسع الله عليه سائر سنته، قال جابر رضي الله عنه جربناه فوجدناه كذلك، وقال أبو الزبير وقال شعبة مثله.
نبی ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے اور اپنے گھر والوں پر عاشوراء کے دن وسعت کرے گا، اللہ تعالی اس پر پورے سال وسعت رکھیں گے۔ رجال کی تحقیق درجِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
أحمد بن قاسم بن عبد الرحمن التاهرتي، الشيخ المحدث، مسند الأندلس
وكان ذا زهد وتعبد وانقباض مع الثقة والعلم. (سير أعلام النبلاء: ۱۷/۷۹، وتاريخ الإسلام: ۸/۷٤۸).
محمد بن إبراهيم بن سعيد: ثقة. راجع: (جذوة المقتبس ۱/٤۱، وبغية الملتمس، ص ۵٦، وتاريخ الأندلس للحميدي).
محمد بن عبد الله بن حكم الأموي: ثقة. انظر: (الثقات لقاسم بن قطلوبغا: ۸/۳۷٤، وجذوة المقتبس، ص ٦۵، وبغية الملتمس، ص ۹۰).
محمد بن معاوية المعروف بابن الأحمر أحد رواة سنن النسائي عنه، ثقة. راجع: (سير أعلام النبلاء: ۱٦/٦۸، وتاريخ الإسلام: ۸/۱۳۰).
وأبو خليفة الفضل بن الحباب: ثقة. راجع: (سير أعلام النبلاء: ۱٤/۷، وميزان الاعتدال: ۳/۳۵۰، ولسان الميزان: ٤/٤۳۸).
أبو الوليد الطيالسي هشام بن عبد الملك ثقة، راجع: (سير أعلام النبلاء: ۱۰/۳٤۱، وتهذيب الكمال: ۳۰/۲۲٦).
شعبة بن الحجاج: الإمام، انظر: (سير أعلام النبلاء: ۷/۲۰۲، وتاريخ الإسلام: ٤/۷۱).
اس روایت کے بارے میں جلد اول میں لکھا تھا کہ اس کی سند میں ابو الزبیر کا عنعنہ ہے اور وہ مدلس ہیں۔
لیکن یہ بات شیخ محمد عوامہ صاحب کے نزدیک درست نہیں اور اس کی درجِ ذیل چند وجوہات ہیں:
۱۔ شعبہ ان سے
"عن"
کے ذریعہ سے روایت کرتے ہیں، جب کہ شعبہ تدلیس کے سخت مخالف ہیں، اور ان کے بارے میں امام مزی رحمه الله نے بحوالہ عبد الرحمن مہدی نقل کیا ہے کہ وہ صرف لفظِ
"حدثني"
یا
"حدثنا"
سے روایت کرتے ہیں بنا بریں اس روایت میں
"عن"
بمعنی "
حدثني"
ہے۔ راجع: (تہذیب الکمال:
۱۲
/
٤۹۲
)۔
۲۔ صحیح مسلم میں ابو الزبیر عن جابر کی روایات بکثرت موجود ہیں، اگر وہ مدلس ہوتے تو مدلس کی روایت ضعیف ہے، امام مسلم ضعیف روایات کو اپنی صحیح میں جگہ نہ دیتے، صحیح مسلم میں ابو الزبیر عن جابر تقریباً ۱۵۳ روایات ہیں، ان میں سے ایک کو بھی کسی نے ضعیف نہیں کہا۔
قال العلامة العراقي رحمه الله: وقد أخرج مسلم في صحيحه أكثر من مائة وأربعين حديثاً، رواية أبي الزبير، عن جابر رضي الله عنه بعضها معنعن، وبعضها بـ حدثنا، أو أخبرنا. وأما البخاري فلم يخرج من رواية أبي الزبير عن جابر رضي الله عنه إلا حديثين: حديث في المخابرة فيه أبو الزبير مقرون بغيره، وقد ذكر له البخاري حديثاً آخر لم يقرن معه غيره، ولكنه ذكره تعليقاً مجزوماً به، وهو حديث يعني جابراً. (التوسعة على العيال لا بي زرعة، مخطوطة للامام زين الدين العراقي، رقم الحديث ۲).
۳۔ شیخ محمد عوامہ حفظہ اللہ تعالی نے الکاشف کی تعلیقات میں ابو الزبیر سے تدلیس کی تہمت کی نفی فرمائی ہے، چنانچہ شیخ محمد عوامہ لکھتے ہیں:
أما أقدم من وصفه بالتدليس: فهو الإمام النسائي، في حين أن السابقين له، والمعاصرين، واللاحقين بعده بنحو قرن ونصف القرن إلى عصر ابن حزم لم يذكروه بالتدليس أبداً، ثم أخذت كلمة النسائي بالتسليم، وتروولت من المتأخرين، مع أن الساجي قال: (بلغني عن يحيى بن معين أنه قال: استحلف شعبة أبا الزبير بين الركن والمقام: أنك سمعت هذه الأحاديث من جابر؟ فقال: والله سمعتها من جابر يقول ثلاثاً).
وهذا وإن كان بلاغاً غير متصل إلا أن الساجي في مقام الجرح والتعديل، لذلك صدر كلامه فيه بقول: (صدوق حجة في الأحكام، قد روي عنه أهل النقل، وقبلوه، واحتجوا به) ثم قال: وبلغني عن يحيى بن معين
وهذه القصة تتلاءم أيضاً مع حال شعبة المتشدد الحريص على معرفة ما عند شيوخه من مسموع وغير مسموع، ومواقفه وأقواله في التدليس والمدلسين معروفة، وقد نقلت عنه كلمات كثيرة في أبي الزبير ليس في واحدة منها وصفه بالتدليس، مع أن التدليس من الجرائم العظام عند شعبة مما يدل على بعد أبي الزبير عن التدليس، ولو كان فيه شيء منه لوصفه به شعبة، ويدل أيضاً على اطمئنان شعبة إلى نفي أبي الزبير تهمة التدليس عن نفسه. والله أعلم. (التعليقات على الكاشف: ۲/۲۱۸).
عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ: سب سے پہلے امام نسائی رحمه الله نے ابو الزبیر کی طرف تدلیس کی نسبت کی، جب کہ ابو الزبیر کے ہم زمانہ یا ان سے پہلے والے یا بعد والوں میں سے ایک ڈیڑھ صدی تک حتی کہ ابن حزم کے زمانہ تک کسی ایک فرد نے بھی ان کو مدلس نہیں کہا، پھر بعد میں امام نسائی کی بات مشہور ہو گئی، حالانکہ امام ساجی رحمه الله نے بحوالہ یحیی بن معین نقل کیا ہے کہ امام شعبہ نے ابو الزبیر سے حجر اسود اور مقامِ ابراہیم کے درمیان تین مرتبہ قسم دے کر پوچھا کہ آپ نے یہ احادیث حضرت جابر
رضي الله عنه
سے سنی ہیں تو ابو الزبیر نے اس کا اقرار کیا۔
نیز امام ساجی رحمه الله فن جرح وتعدیل کے امام ہیں اس لیے ان کی بات حجت ہے اور خود امام ساجی نے ابو الزبیر کے بارے میں یہ کہا کہ: وہ سچے ہیں، احکام میں ان کی روایات قابل استدلال ہیں، بڑے محدثین نے ان سے روایات قبول کی ہیں۔
مزید براں امام شعبہ کا موقف تدلیس اور مدلیس کے بارے میں اہل فن پر مخفی نہیں ہے، اگر کوئی ایسی بات ہوتی تو اس کو ضرور بتلا دیتے، کیوں کہ تدلیس امام شعبہ کے نزدیک بڑا جرم سمجھا جاتا تھا، اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ امام شعبہ ابو الزبیر کے بارے میں بالکل مطمئن تھے۔
٤۔ ائمہ جرح و تعدیل کی اکثریت نے ابو الزبیر کو ثقہ اور قابل استدلال راوی بتلایا ہے۔
بطورِ مشتے نمونہ از خروارے چند اقوال ملاحظہ کیجیے:
أبو الزبير محمد بن مسلم بن تدرس، ثقة. فقد وثقه ابن سعد في الطبقات الكبرى (۵/٤۸۱)، وابن معين في تاريخه (۲/۵۳۸)، والنسائي (تهذيب الكمال: ۲٦/٤۰۹)، والعجلي في تاريخ الثقات (ص ٤۱۳)، وابن المديني في الجرح والتعديل (ص ۸۷).
وقال أحمد ليس به بأس، (الجرح التعديل: ۸/۷٦)، وفي رواية ابن هاني، قال: هو حجة احتج به (شرح علل الترمذي لابن رجب: ۲/۵۷۳) وقال يعقوب بن شيبة: ثقة، صدوق، وإلى الضعف ما هو (تهذيب الكمال: ۲٦/٤۰۸). وقال ابن عدي: وروي مالك عن أبي الزبير أحاديث، وكفي بأبي الزبير صدقاً أن يحدث عنه مالك، فإن مالكاً لا يروي إلا عن ثقة، ولا أعلم أحداً من الثقات تخلف عن أبي الزبير إلا قد كتب عنه، وهو في نفسه ثقة، إلا أن يروي عنه بعض الضعفاء، فيكون ذلك من جهة الضعيف، وأبو الزبير يروي أحاديث صالحة، ولم يتخلف عنه أحد، وهو صدوق وثقة، لا بأس به. (الكامل: ٦/۱۲۱).
قال الذهبي: ثقة (الكاشف: ۲/۲۱٦) وقال: صدوق، (تذكرة الحفاظ: ۱/۱۲٦) وقال: مشهور. (المغني في الضعفاء: ۲/۳۷۳).
ہاں ترمذی شریف کی ایک روایت جس میں ابو الزبیر عن جابر کے الفاظ مذکور ہیں، اس کا مضمون یہ ہے کہ نبی ﷺ روزانہ رات کو سونے سے پہلے الم تنزیل اور سورۂ ملک پڑھتے تھے، محدثین کی تصریح کے مطابق صرف یہ روایت ابو الزبیر نے حضرت جابر رضی الله عنه سے نہیں سنی بلکہ صفوان بن عبد اللہ کا واسطہ ہے۔ چنانچہ امام ترمذی رحمه الله مذکورہ حدیث کو روایت کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
هذا حديث رواه غير واحد عن ليث بن أبي سليم، مثل هذا ورواه مغيرة بن مسلم، عن أبي الزبير، عن جابر رضي الله عنه، عن النبي ﷺ نحو هذا، وروي زهير، قال: قلت لا بي الزبير: سمعت من جابر رضي الله عنه يذكر هذا الحديث؟ فقال أبو الزبير: إنما أخبرنيه صفوان أو ابن صفوان، كأن زهيراً أنكر أن يكون هذا الحديث عن أبي الزبير عن جابر رضي الله عنه. (سنن الترمذي: ۵/۱۵، بيروت).
مزید ملاحظہ ہو: (
سنن الترمذي: ۵/٤۷۵، كتاب الدعوات، وتعليقات الشيخ بشار عواد على تهذيب الكمال: ۲٦/٤۱۰، وتعليقات الشيخ شعيب الارنؤوط على سنن الترمذي: ۵/۱٦۱).
مذکورہ بالا عبارت سے پتا چلا کہ جن روایات کے بارے میں ابو الزبیر کے مشہور تلامذہ کو معلوم تھا کہ ابو الزبیر نے حضرت جابر
رضي الله عنه
سے سنی ہیں ان کے متعلق تحقیق کی ضرورت ہی نہیں سمجھی، ہاں ترمذی والی روایت کے متعلق زہیر کو معلوم تھا بلکہ ابو الزبیر نے بتلایا ہو گا کہ یہ روایت بالواسطہ ہے اس لیے زہیر نے ابو الزبیر سے دریافت کیا اور ابو الزبیر نے صراحت کر دی کہ یہ روایت میں نے بالمشافہہ نہیں بلکہ بالواسطہ سنی ہے اور بہت ممکن ہے کہ امام نسائی رحمه الله نے اس روایت کی وجہ سے ابو الزبیر کو مدلس کہا ہو اگر چہ تدلیس ان کی عادت نہیں تھی، جیسا کہ امام حاکم ابو عبد اللہ صاحب مستدرک معرفۃ علوم الحدیث میں فرماتے ہیں:
النوع الحادي عشر من علوم الحديث؛ هذا النوع من هذه العلوم هو معرفة الأحاديث المعنعنة وليس فيها تدليس، وهي متصلة بإجماع أئمة أهل النقل على تورع رواتها عن أنواع التدليس؛ مثال ذلك ما حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا بحر بن نصر الخولاني حدثنا عبد الله بن وهب أخبرني عمرو بن حارث عن عبدربه بن سعيد الأنصاري عن أبي الزبير عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه عن رسول الله ﷺ أنه قال: لكل داء دواء، فإذا أصيب دواء الداء بريء بإذن الله عزوجل. قال الحاكم رحمه الله: هذا حديث رواته بصريون ثم مدنيون ومكيون وليس من مذاهبهم التدليس، فسواء عندنا ذكروا سماعهم أو لم يذكروه، وإنما جعلته مثالاً لا لوف مثله. (معرفة علوم الحديث، ص ٤۳، دائرة المعارف العثمانية).
حدیثِ جابر رضی الله عنه پر بعض حضرات کے اشکالات اور ان کے جوابات:
حدیث جابر رضی الله عنه جو علی شرط مسلم صحیح ہے اس پر دو اشکالات ہیں؛ ایک اشکال شیخ البانی نے تمام المنہ میں کیا کہ ابو الزبیر مدلس ہیں ان کا عنعنہ قبول نہیں ، اس کا جواب شافی شیخ محمد عوامہ حفظہ اللہ تعالی نے دیا جو ہم نے نقل کیا نیز یہ بھی نقل کیا کہ اکثر محدثین ابو الزبیر کی توثیق کے قائل ہیں۔
دوسرا اشکال: حافظ ابن حجر نے لسان المیزان میں فضل بن حباب بن محمد کے ترجمہ میں کیا ہے وہ یہ ہے کہ یہ حدیث منکر ہے اس لیے کہ ممکن ہے کہ ابن الاحمر نے ابو خلیفہ فضل بن حباب سے یہ حدیث ان کی کتابوں کے جلنے کے بعد سنی ہو۔ لیکن حافظ ابن حجر رحمه الله نے خود فضل بن حباب کو ثقہ کہا ہے۔ ملاحظہ ہو:
قال في لسان الميزان (4/438-440): الفضل بن الحباب بن محمد بن شعيب بن عبد الرحمن أبو خليفة الجمحي مسند عصره بالبصرة، يروي عن القعنبي ومسلم بن إبراهيم والكبار، وتأخر إلى سنة خمس وثلاث مائة ورحل إليه من الأقطار وكان ثقة عالماً ما علمت ليناً إلا ما قال السليماني فيه أنه من الرافضة فهذا لم يصح عن أبي خليفة
وذكره ابن حبان في الثقات. وقال أبو على الخليلي: احترقت كتبه منهم من وثقه ومنهم من تكلم فيه وهو إلى التوثيق أقرب
وقال مسلمة بن قاسم كان ثقة مشهوراً كثير الحديث
قلت: روي عنه ابن عبد البر في (الاستذكار) من طريقه حديثاً منكراً جداً ما أدري من الآفة فيه (قال) أخبرنا أحمد بن قاسم ومحمد بن إبراهيم ومحمد بن حكم قالوا: حدثنا محمد بن معاوية حدثنا الفضل بن الحباب حدثنا هشام بن عبد الملك الطيالسي حدثني شعبة عن أبي الزبير عن جابر رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله ﷺ
وشيوخ ابن عبد البر الثلاثة موثقون وشيخهم محمد بن معاوية هو ابن الأحمر راوي السنن عن النسائي وثقه ابن حزم وغيره فالظاهر أن الغلط فيه من أبي خليفة فلعل ابن الأحمر سمعه منه بعد احتراق كتبه، والله أعلم.
نیز فضل بن حباب کو جلیل القدر محدثین نے مکمل طور پر ثقہ کہا ہے، ان کے احتراق کتب کی بات صرف ابو علی خلیلی نے نکالی ہے اور حافظ ابن حجر رحمه الله نے اس کو بطورِ احتمال اور تخمینہ ذکر کیا ہے ۔ کسی اور نے ان کی کتابوں کے جلنے کی بات نہیں کی اور حدیثِ توسعہ کو منکر کہنا بھی سمجھ میں نہیں آتا جب کہ یہ متعدد اسانید اور مختلف ثقہ راویوں سے مروی ہے ۔ حافظ ذہبی سیر اعلام النبلاء میں فرماتے ہیں:
أبوخليفة، الإمام العلامة، المحدث الأديب الأخباري، شيخ الوقت، أبو ليفة، الفضل بن الحباب
ولقي الأعلام، وكتب علماً جماً
وكان ثقة صادقاً مأموناً، أديباً فصيحاً مفوهاً، رحل إليه من الآفاق. (سير أعلام النبلاء: ۱٤/۷، ۸). (وكذا في تذكرة الحفاظ للذهبي: ۲/٦۷۰، وميزان الاعتدال: ۳/۳۵۰، وتاريخ الإسلام: ۲۳/۱٦٦).
اس لیے حدیثِ جابر علی شرط مسلم صحیح ہے جب کہ سفیان بن عیینہ جیسے محدث اس پر اپنا تجربہ بیان کر رہے ہیں،
جربنا ذلك فوجدناه كذلك. الاستذكار، كتاب الصوم، باب صوم عاشوراء.
ولحديث جابر طريق آخر أخرجه البيهقي في "الشعب" (۳۵۱۲): من طريق عبد الله بن إبراهيم الغفاري (متروك): حدثنا عبد الله بن أبي بكر ابن أخي محمد بن المنكدر، عن محمد بن المنكدر (الامام) عن جابر رضي الله عنه مرفوعاً به. وقال: إسناده ضعيف.
عبد الله بن إبراهيم الغفاري، أبو محمد المدني، متروك، ونسبه ابن حبان إلى الوضع. قال ابن حبان: كان يأتي عن الثقات بالمقلوبات، وعن الضعفاء بالملزقات.
وقال ابن عدي: عامة ما يرويه لا يتابع عليه، وقال الدارقطني: حديثه منكر. راجع: (الضعفاء: ۲/۲۳۳، والكامل: ٤/۱۵۰٦، والميزان: ۲/۳۸۸).
٭
عبد الله بن أبي بكر ابن أخي محمد بن المنكدر؛ لم أجد من ذكره.
والحديث ذكره السيوطي في الدر المنثور (۸/۵۰۰) ونسبه إلى لمؤلف فقط. انظر: اللآلئ المصنوعة (۲/۱۱۲).
حدیث نمبر ۳: حضرت عبد اللہ بن مسعود
رضي الله عنه
کی مرفوع روایت:
أخرجه الطبراني في "الكبير" (۱۰/۹٤/۱۰۰۰۷)، والبيهقي في "الشعب" (۱۵۱۳)، وفي "فضائل الأوقات" (۲٤٤)، وابن عدي في "الكامل" (۵/۲۱۱، ترجمة: ۱۳٦٤)، والعقيلي في "الضعفاء". من طريق هيصم بن شداخ (ضعيف جداً)، عن الأعمش (ثقة)، عن إبراهيم (ثقة)، عن علقمة (ثقة، ثبت)، عن عبد الله رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: من وسع على عياله يوم عاشوراء لم يزل في سعة سائر سنته.
ترجمہ: نبی ﷺ نے فرمایا: جو اپنے اہل و عیال پر عاشورا کے دن وسعت کرے گا وہ سارا سال وسعت میں رہے گا۔
قلت: إسناده ضعيف؛ فيه هيصم بن شداخ؛ قال العقيلي: مجهول، وقال الأزدي: منكر الحديث، ذاهب. وقال الهيثمي: ضعيف جداً. وينظر للمزيد: الضعفاء (۳/۲۵۲)، الميزان (٤/۳۲٦)، لسان الميزان (٦/۲۱۲).
حدیث نمبر ٤: حضرت ابو سعید الخدری رضی الله عنه کی مرفوع روایت:
یہ روایت دو طرق سے مروی ہے۔ ملاحظہ ہو:
الأول: عن محمد بن إسماعيل الجعفري (منكر الحديث): ثنا: عبد الله بن سلمة الربعي (منكر الحديث)، عن محمد بن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي صعصعة (ثقة)، عن أبيه (ثقة) عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: من وسع على عياله في يوم عاشوراء أوسع الله عليه سنته كلها. لا يروي هذا الحديث عن أبي سعيد الخدري إلا بهذا الإسناد، تفرد به إسماعيل الجعفري.
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اپنے اہل و عیال پر عاشورا کے دن وسعت کرے گا، اللہ تعالی اس کے اوپر سارے سال وسعت رکھیں گے۔
أخرجه الطبراني في "الأوسط" (۱۰/۱٤۰/۹۲۹۸). وإسناده ضعيف.
٭
محمد بن إسماعيل الجعفري: قال أبو حاتم: منكر الحديث. وقال أبو نعيم الأصبهاني: متروك، وذكره ابن حبان في الثقات، وقال: روي عنه أحمد بن سعيد الدارمي والناس، يغرب. انظر: ميزان الاعتدال (۳/٤۸۱) لسان الميزان (٦/۵٦۸) ديوان الضعفاء (۳٤۲).
٭
عبد الله بن سلمة الربعي: قال أبو زرعة: منكر الحديث متروك. (لسان الميزان: ٤/٤۸۹).
والثاني: عن خالد بن خداش (صدوق)، حدثنا عبد الله بن نافع (ثقة)، حدثني أيوب بن سليمان بن ميناء (متكلم فيه)، عن رجل (مجهول)، عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه مرفوعاً به.
٭
أيوب بن سليمان بن ميناء: ذكره ابن حبان في الثقات، وقال: يغرب، وقال أبو نعيم: متروك. راجع: (لسان الميزان: ۵/۷۸، وتعليق الدكتور عبد العلي على شعب الإيمان).
أخرجه البيهقي في "الشعب" (۳۵۱٤)، وفي "فضائل الأوقات" (۲٤۵). قال ابن حجر في "أماليه" (۲۸): ولولا الرجل المبهم لكان إسناده جيد، لكن يقوي بالذي قبله.
حدیث نمبر ۵: حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنه کی مرفوع روایت: ملاحظہ ہو:
أخرجه البيهقي في "الشعب" (۳۵۱۵)، وأبو نعيم في "أخبار أصبهان" (۷۰۷)، وابن عدي في "الكامل" (٦/۲۰۰) من طريق حجاج بن نصير (ضعيف): حدثنا محمد بن ذكوان (الأزدي، ضعيف)، عن يعلي بن حكيم (ثقة)، عن سليمان بن أبي عبد الله (مقبول)، عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ قال: من وسع على عياله وأهله يوم عاشوراء وسع الله عليه سائر سنته.
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اپنے اہل و عیال پر عاشورا کے دن وسعت کرے گا، اللہ تعالی اس کے اوپر سارا سال وسعت رکھیں گے۔
قلت: إسناده ضعيف؛ فيه ضعيفان.
وقال الإمام البيهقي في "الشعب" (۳/۳٦٦/۳۵۱۵) بعد ذكر هذه الأسانيد: "هذه الأسانيد وإن كانت ضعيفة فهي إذا ضم بعضها إلى بعض أخذت قوة".
ورواه البيهقي في "الشعب" (۳۵۱٦)، وغيره عن إبراهيم بن محمد بن المنتشر مرسلاً وإسناده قوي، رجاله موثقون.
حدیث نمبر ٦: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی مرفوع روایت:
قال الإمام الذهبي في الميزان (٤/۳۱۲/۹۲٦۵): هلال بن خالد. عن مالك، عن نافع، عن ابن عمر رضي الله عنه مرفوعاً: من كان ذا جدة فوسع على عياله يوم عاشوراء أوسع الله عليه سنته. قلت: هذا باطل. قال الخطيب: لا يثبت عن مالك في رواته غير واحد من المجهولين. (وكذا في لسان الميزان:
٦
/
۲۰۱
/
۷۱٤
، والتوسعة على العيال لا بي زرعة، ص 11).
(وكذا أورده الإمام السيوطي في اللآلئ المصنوعة:
۲
/
۹٦
، دار الكتب العلمية).
وله إسناد آخر، قال الدارقطني في الأفراد: حدثنا محمد بن موسى ثنا يعقوب بن خرة الدباغ ثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن سالم عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ: من وسع على عياله يوم عاشوراء وسع الله عليه سائر سنته. قال الدارقطني: منكر من حديث الزهري
(التوسعة على العيال لا بي زرعة، ص ۱۰، اليواقيت الغالية: ۱/۳۲۹).
بندہ عاجز کے خیال میں تمام اسانید کی روشنی میں یہ حدیث علی شرط مسلم صحیح ہونی چاہیے۔
شیخ البانی نے سلسلہ احادیث ضعیفہ میں یہ کہا کہ سلف کا اس پر تعامل نہیں تھا، یہ بات صحیح نہیں۔
موضوعات کی کتابوں میں بھی اس حدیث کو ثابت مانا ہے۔
موضوعات کی کتابوں کی چند عبارات ملاحظہ کیجیے:
۱۔ الآثار المرفوعہ فی الاخبار الموضوعہ میں علامہ عبد الحی لکھنوی رحمه الله فرماتے ہیں:
وأما حديث التوسعة على العيال فأخرجه الطبراني عن ابن مسعود رضي الله عنه مرفوعاً: من وسع على عياله يوم عاشوراء وسع الله عليه سائر سنته. وفي سنده الهيضم بن شداخ مجهول، وأخرجه البيهقي في شعب الإيمان وقال: تفرد به هيضم عن الأعمش، وأخرجه ابن عدي عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: من وسع على عياله وأهله يوم عاشوراء وسع الله عليه سائر سنته. وفي سند سليمان بن أبي عبد الله الراوي عن أبي هريرة مجهول، كذا ذكره ابن الجوزي في الموضوعات.
وقال المنذري في كتاب الترغيب والترهيب: رواه البيهقي من طرق عن جماعة من الصحابة، وقال البيهقي: هذه الأسانيد وإن كانت ضعيفة فهي إذا ضم بعضها إلى بعض أخذت قوة. انتهى. وقال زين الدين العراقي في أماليه: ورد هذا الحديث من طرق صحح بعضها
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3224
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3224