وصیت کے ایک تہائی مال سے کم میں مکمل ہو جانے پر باقی مال کا حکم:
Question
ایک شخص نے وصیت کی کہ میرے مال کا ایک تہائی حصہ میری قضا نمازوں کے فدیہ کے لیے استعمال کیا جائے۔ اور مرحوم کی قضا نمازوں کی مقدار ایک تہائی مال سے کم ہے، یعنی تمام قضا نمازوں کا فدیہ ادا کرنے کے بعد رقم بچ جاتی ہے، تو اس کا کیا کیا جائے؟ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ نمازوں کا فدیہ ایک تہائی سے کم میں مکمل ہو گیا تو باقی مال ترکہ میں شامل کر کے تمام ورثاء کے درمیان حسبِ سہامِ شرعی تقسیم کیا جائے گا۔ فقہاء نے حج بدل میں یہ جزئیہ تحریر فرمایا ہے کہ اگر میت نے اپنے ایک تہائی مال میں سے حج بدل کی وصیت کی، ورثاء نے وصیت کو نافذ کیا اور ثلث مال میں سے حج بدل کرا دیا اور ثلث میں سے کچھ رقم بچ گئی تو وہ ترکہ میں شامل ہو گی۔ ملاحظہ ہو عالمگیری میں ہے:
شهدوا أن فلاناً وصي فلان ثابت الوصاية من جهته وصاية صحيحة دفع إلى فلان كذا من ثلث مال هذا الموصي وكان أوصي إليه به أن يدفع إلى رجل أمين موثوق به قد حج عن نفسه
ٖ
حجة الإسلام ليحج عنه ما سمي ووصف فيه يختاره هذا الوصي ومات هذا الموصي على هذه الوصية لم يرجع عنها ولم يغير وخرجت هذه الدراهم من ثلث ماله
فدفع إليه هذه الدراهم ليحج بها عن هذا الموصي من بلد كذا وهو بلد هذا الموصي الذي مات فيه
إن فضل من هذه الدراهم فضل بعد فراغ هذا الحاج ورجوعه إلى بلد الموصي رده على هذا الوصي وكان ميراثاً عن الميت. (الفتاوى الهندية: ٦/۳۵۳).
فتاوی ولوالجیہ میں مرقوم ہے:
ولو أوصي بحجة وفضلت منه نفقة أو كسوة ردت على ورثته؛ لأن هذا مال الميت خلا عن الدين والوصية فيكون للورثة. (الفتاوى الولوالجية: ۵/۳۹۹، ط: دار الكتب العلمية).
علامہ سرخسی رحمہ اللہ مبسوط میں تحریر فرماتے ہیں:
ولو أوصي أن يحج عنه حجة بمائة درهم وهي ثلثه فحج الوصي بها فبقي من نفقة الحاج وكسوته وإطعامه شيء كان ذلك لورثة الميت. (المبسوط: ۲۷/۱۷۲، ط: دار المعرفة، بيروت).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3239
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3239