بعض ورثاء کا بعض اموال پر صلح کرنے کا حکم:

5 min readFatwa Vol 8 #322Urdu

Question

زید کا انتقال ہوا اور اس کے دو بیٹے تھے، ایک بیٹے نے اس کا مکان، گاڑی اور سامان لے لیا۔ دوسرے بیٹے نے اس کا ایک چھوٹا مکان لے لیا اور مرحوم کا تین لاکھ قرض کسی کمپنی کے ذمہ تھا وہ بھی وصول کر لے گا، یعنی دوسرے بھائی کا جو حصہ قرضہ میں تھا وہ بھی اس کی طرف سے وصول کر لے گا، کیا اس طرح تقسیم جائز ہے یا نہیں ؟ اگر ناجائز ہو تو کیوں؟ اور اس کے جواز کی آسان تدبیر کیا ہے؟ جب کہ عام لوگ اس طرح کے معاملات کرتے رہتے ہیں۔ "ب" پھر اگر مدیون حالتِ افلاس میں مر گیا تو اب دوسرے بھائی سے اپنا حصہ وصول کر سکتا ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔

Answer

جب کوئی وارث تمام ورثاء کے اتفاق سے ترکہ میں سے کسی متعین رقم کے بدلہ میں اپنے حقِ ترکہ سے دست بردار ہو جائے، اس کو فقہاء کی اصطلاح میں تخارج سے موسوم کیا جاتا ہے۔
فقہاء نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ اگر ترکہ میں قرض اور دیون بھی شامل ہوں اور مصالح دیون اور قرضوں سے صلح کرنا چاہے اس طور پر کہ مصالح کا ان قرضوں اور دیون میں کوئی حصہ نہ ہوگا تو یہ صلح باطل ہے۔
وجہ بطلان یہ ہے کہ اس معاملہ میں تملیک الدین من غیر المدیون ہے جو ناجائز ہے۔ مثلاً زید کے دو بیٹے خالد اور بکر تھے زید کے انتقال کے بعد خالد نے والد کی وراثت میں سے مکان لیا اور بکر نے کار لی اور اس کے ساتھ زید کے کسی کے ذمہ ۵ لاکھ رینڈ تھے وہ بھی بکر کے حصے میں آ گئے تو اس صورت میں خالد نے بکر کو ڈھائی لاکھ رینڈ کا مالک بنایا جب کہ بکر مدیون نہیں بلکہ دائن ہے اور چونکہ لوگ اس طرح کے معاملات بکثرت کرتے رہتے ہیں اس لیے فقہاء نے اس معاملہ کی تصحیح کے لیے مختلف حیلے اور تدبیریں کی ہیں۔
مختصر یہ ہے کہ خالد نے ڈھائی لاکھ رینڈ کی تملیک بکر کو کی ہے جس میں تملیک الدین من غیر المدیون لازم آتا ہے تو صاحبِ فتح القدیر نے لکھا ہے کہ دین کی تملیک غیر مدیون کو دائن کی اجازت سے جائز ہے۔
ملاحظہ ہو فتح القدیر میں ہے:

أجيب بأن هبة الدين من غير من عليه الدين إنما لا يجوز إذا لم يأذن للغير في قبضه، فأما إذا وهب الدين من آخر وأذن له في قبضه جاز استحساناً. (فتح القدير: ۷/۱۹۰، كتاب الكفالة، ط: دار الفكر). (وكذا في العناية بهامش فتح القدير: ۷/۱۹۰، والفتاوى الهندية: ٤/۳۸٤،
و فتاوی دار العلوم زکریا:
۵
/
٦۰۰
، ط: بمبئی
).

(ب) اگر مدیون حالتِ افلاس میں مر گیا اور ایک بھائی نے اپنا حصہ عین خرید کر دوسرے بھائی کو مدیون کے حوالہ کیا ہو یعنی مدیون نے اپنے دائن کو اپنے مدیون پر حوالہ کیا ہو اور مدیون المدیون کا حالتِ افلاس میں انتقال ہو چکا تو اب دائن اپنا حصہ دین اپنے مدیون یعنی بھائی سے وصول کر سکتا ہے۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں مرقوم ہے:

فلو سلم له ما قبض ثم توي ما على الغريم له أن يشارك القابض لأنه إنما رضي بالتسليم ليسلم له ما في ذمة الغريم ولم يسلم. (الهداية: ۳/۲۵٤، كتاب الصلح).

یعنی ایک مصالح فریق نے اپنی چیز پر قبضہ کیا اور دوسرے فریق مصالح کا حصہ جو مدیون پر تھا اس کو نہ مل سکا تو یہ پہلے فریق کے ساتھ اس کے وصول شدہ حصہ میں شرکت کر سکتا ہے، اس لیے کہ یہ دوسرا فریق پہلے فریق کو اس چیز کے دینے پر اس لیے راضی ہوا تھا کہ اس کو مدیون سے اپنا حصہ مل جائے اور وہ نہ مل سکا۔

وللاستزادة راجع: (الهداية: ۳/۱۲۹، والعناية ٦/۳۵۰، وبدائع الصنائع: ٦/۱۸، وتبيين الحقائق: ٤/۱۷۲،
و احسن الفتاوی:
۷
/
۱۹٤
، و جدید معاملات کے شرعی احکام:
۲
/
٦۹
،
والدر المختار مع رد المحتار: ۵/ ۳٤۵، سعيد).

نوٹ: یہ مسئلہ ایک طالبِ علم کے سوال کے جواب میں مختلف کتبِ فقہ سے مع اشکالات و جوابات مفصل لکھا گیا تھا، لیکن یہاں ضرورت نہ ہونے کی وجہ سے اور تطویل اور قیل و قال سے بچتے ہوے مختصر جواب پر اکتفا کیا گیا۔
والله سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.