پراویڈنٹ فنڈ میں میراث کا حکم:
Question
اگر کسی کی تنخواہ سے رقم کٹتی ہے زبردستی یا اختیاری پھر حکومت یا کمپنی اس کے ساتھ اپنی طرف سے کچھ رقم ملاتی ہے اور وہ شخص اس کو بیوی یا کسی اور کے نام کر لیتا ہے تو وہ اس نامزدآدمی کی ہو گی یا سب وارثوں میں تقسیم ہو گی؟ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ پر اویڈنٹ فنڈ کی رقم میت کا حق ہے لہذا یہ رقم تمام ورثاء میں حسبِ سہامِ شرعی تقسیم ہو گی۔ کسی کے نامزدکرنے سے وہ شخص اس کا مالک نہیں بنے گا۔
ملاحظہ ہو قاضی مجاہد الاسلام قاسمی صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
پراویڈنٹ فنڈ، لائف انشورنس، کو آپریٹوسوسائٹی جیسے معاملات میں ان کے ضوابط کے مطابق اگر کسی شخص نے اپنی رقم کے لیے دوسرے کو نامزد کر دیاتونامزدشخص خواہ وارث ہو یا غیر وارث، اس کی حیثیت نہ موصی لہ کی ہو گی اور نہ موہوب لہ کی، بلکہ صرف امین کی ہو گی، لہذا نامزد کرنے والے شخص کی جمع کردہ اور وضع شدہ رقم اس کی موت کے بعد حسبِ سہامِ شرعی اس کے وارثوں میں تقسیم ہو گی۔ (مجموعہ قوانین اسلامی، ص
۲۵۵
، دفعہ
۱۰
)۔
پراویڈنٹ فنڈ جبری اور اختیاری دونوں کی تفصیل فتاوی دار العلوم زکریا: ۵/٤٦٤ تا ٤٦٦، پر گزر چکی ہے وہاں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔ نیز میت کے حقوق میں میراث کی وضاحت بھی پنشن فنڈ کے تحت گزر چکی ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3260
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3260