امام سے آیتِ سجدہ سن کر دوسری رکعت میں شامل ہونے پر سجدۂ تلاوت کا حکم:

2 min readFatwa Vol 9 #37Urdu

Question

ایک شخص وضو کر رہا تھا، امام صاحب جمعہ کی صبح سورۂ الم سجدہ پڑھ رہے تھے، لاؤڈ اسپیکر سے اس نے آیتِ سجدہ سنی، پھر وہ دوسری رکعت میں شامل ہوا، کیا اس پر سجدۂ تلاوت ہے یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ شخص مذکور پر سجدۂ تلاوت واجب ہے، نماز کے بعد اس کو ادا کر لیوے۔ ہاں اگر آیتِ سجدہ خارجِ نماز سن کر اسی رکعت میں شامل ہو جائے تو امام کا سجدہ کافی ہو جائے گا اب دوبارہ سجدہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ ملاحظہ ہو ہدایہ میں مذکور ہے:

قال المرغيناني: فإن قرأها الإمام وسمعها رجل ليس معه في الصلاة فدخل معه بعدها سجدها الإمام لم يكن عليه أن يسجدها، لأنه صار مدركاً لها بإدراك الركعة، وفي حاشية اللكنوي: هذا إذا أدركه في آخر تلك الركعة، أما لو أدركه في الركعة الأخرى يسجدها بعد الفراغ لأنه لا يصير مدركاً لتلك القراءة ولا لما تعلق بتلك القراءة من السجدة. (الهداية: ۱/۱٦٤، رقم الحاشية ۲، ط: شركة علمية).
قال في فتح القدير: قوله فدخل معه، بعد ما سجدها يعني دخل معه في تلك الركعة أما لو دخل في الثانية كان عليه أن يسجدها بعد الفراغ. (فتح القدير: ۲/۱۷، دار الفكر).
(وكذا في تبيين الحقائق: ۱/۲۰۷، إمداديه، والدر المختار: ۲/۱۱۰، سعيد).

فتاوی رحیمیہ میں مذکور ہے:
اگر امام کے سجدہ کرنے سے پہلے یا سجدہ کرنے کے بعد اس رکعت کے آخر میں امام کے پیچھے نیت باندھ لی اور نماز میں شامل ہو گئے تو امام کا سجدہ آپ کے لیے بھی کافی ہے علیحدہ سجدہ کرنا نہیں ہو گا۔ (فتاوی رحیمیہ: ۳/ ۳٤۰، مکتبۃ الاحسان، دیوبند)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.