متیمم من الجنابۃ و متیمم من الحدث الاصغر میں سے کون امامت کا حقدار ہے؟

3 min readFatwa Vol 9 #48Urdu

Question

دو آدمی زید اور بکر حالتِ سفر میں تھے، گرمی کا موسم تھا قریب میں کوئی پانی نہیں تھا، ان میں سے ایک کو رات کے وقت احتلام ہوا، دونوں نے تیمم کیا ۔ اب ان میں سے کون امامت کا مستحق ہوگا؟

Answer

مسئلہ بالا میں فقہاء کے دو اقوال کتابوں میں مرقوم ہیں ؛ ایک قول یہ ہے کہ جس نے حدثِ اصغر سے تیمم کیا وہ امامت کا مستحق ہے اور اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ بے وضو ہونا جنابت کے مقابلہ میں ہلکا حدث ہے ۔ دوسرا قول یہ ہے کہ جس نے حدثِ اکبر سے تیمم کیا وہ امامت کا حقدار ہے کیوں کہ حدثِ اکبر سے تیمم یہ غسل کے درجہ میں ہے جو زیادہ قوی ہے اور وضو سے افضل ہے ۔ اکثر مشہور و معروف فقہاء نے اس دوسرے قول کو اختیار کیا ہے ۔ ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں مذکور ہے:

قوله ثم المتيمم عن حدث على المتيمم عن جنابة، كذا أجاب به الحلواني كما في التتمة وجزم به في الفيض وجامع الفتاوى كذا في الأحكام للشيخ إسماعيل ومثله في التاتارخانية ولعل وجهه أن الحدث أخف من الجنابة لكن في منية المفتي المتيمم عن الجنابة أولى بالإمامة من المتيمم عن حدث ونقله في النهر عنها مقتصراً عليه ولعل وجهه أن طهارته أقوى لأنها بمنزلة الغسل لا يبطلها الحدث. (فتاوى الشامي: ۱/۵۵۸، سعيد).

شامی کی عبارت پر علامہ رافعی رحمه الله فرماتے ہیں:
قوله، ولعل وجهه أن الحدث أخف من الجنابة: لا يظهر هذا التوجيه فإنه بالتيمم ارتفع كل منهما وتساوى الجنب والمحدث في الطهارة ولعل مراده ما ذكره السندي تعليلاً بقوله للخلاف في كون التيمم هل يرفع الحدث أم لا والجنابة أغلظ. (تقريرات الرافعي: ۱/۷۱).
قال في حاشية تبيين الحقائق: قوله وهو متيمم عن الجنابة إلى آخره، والمحدث المتيمم أولى بالإمامة من الجنب المتيمم، كنوز الفقه للمرعشي. (حاشية تبيين الحقائق للشيخ أحمد الشلبي: ۱/۱٤۲، إمداديه، ملتان).
وفي الأشباه والنظائر: ثم المتيمم عن الحدث على المتيمم عن الجنابة. (الأشباه والنظائر: ۳/۱٦۵، مسائل اجتماع الفضيلة والنقيصة، ط: إدارة القرآن والعلوم الإسلامية).
وفي الفتاوى الهندية: وفي منية المصلي: المتيمم من الجنابة أولى من المتيمم من الحدث كذا في النهر الفائق. (الفتاوى الهندية: ۱/۸٤).

عمدۃ الفقہ میں مذکور ہے:
وہ شخص جس نے حدثِ اصغر سے تیمم کیا ہو بہ نسبت اس شخص کے جس نے حدثِ اکبر سے تیمم کیا ہو مقدم ہے، شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ بے وضو ہونا جنابت سے ہلکا ہے اور بعض کے نزدیک حدثِ اکبر سے تیمم کرنے والا حدثِ اصغر سے تیمم کرنے والے پر مقدم ہے، شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی طہارت وضو کے تیمم کی طہارت سے اقوی ہے کیوں کہ وہ بمنزلہ غسل کے ہے جو کہ وضو سے افضل ہے اور غسل حدث سے باطل نہیں ہوتا ۔ (عمدۃ الفقہ: ۲/۲۰۳) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.