فوت شدہ پانچ نمازیں رہ جانے پر ترتیب کے عود کرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 9 #62Urdu

Question

صاحب ترتیب نے اپنی فوت شدہ نمازیں قضا پڑھ لیں تو ترتیب واپس آئی یا نہیں؟ نیز اگر پڑھتے پڑھتے پانچ نمازیں رہ گئیں تو ان پانچ میں ترتیب ضروری ہے یا نہیں؟

Answer

صاحب ترتیب وہ شخص کہلاتا ہے جس کے ذمہ کوئی قضا نماز نہ ہو، تو جب سب نمازیں قضا کر چکا تو اب صاحب ترتیب شمار ہوگا، لیکن پانچ نمازیں باقی ہیں تو اس میں دو قول ہیں؛ اصح یہ ہے کہ ترتیب عود کر نہیں آئے گی جب تک تمام نمازیں قضا نہ کر لیں، یعنی صورتِ مسئولہ میں پانچ نمازیں بغیر ترتیب کے پڑھ سکتا ہے اگر چہ ترتیب وار پڑھنا بہتر ہے۔ فتاوی شامی میں ہے:

وقيد بقضاء البعض، لأنه لو قضي الكل عاد الترتيب عند الكل كما نقله القهستاني. (فتاوى الشامي: ۲/۷۰، سعيد).

شرح وقایہ میں مذکور ہے:

فإنه لما قضى صلاة الشهر إلا فرضاً أو فرضين قلت الفوائت بعد الكثرة فلا يعود الترتيب إلا أن يقضي الكل. (شرح الوقاية: ۱/۱۸۳، قضاء الفوائت). (ومثله في البحر الرائق: ۲/۸٦).
وفي فتح القدير: عاد الترتيب عند البعض وهو الأظهر، خلاف ما اختاره شمس الأئمة وفخر الإسلام وصاحب المحيط وقاضي خان وصاحب المغني والكافي وغيرهم، وما استدل به عن محمد فيه نظر

فالأصح أن الترتيب إذا سقط لا يعود

الخ. (فتح القدير: ۱/٤۹۳، دار الفكر). (وكذا في إمداد الفتاح، ص: ۸٤۹). (وفتاوى دار العلوم زكريا جلد دوم، ص ۵۳٦، ط: المجلس العلمي، بمبئي).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.