ایک مسجد کی رقم کو دوسری مسجد کے لیے قرض حسنہ میں دینے کا حکم:
Question
بعض مساجد والے ہمارے پاس آئے اور مسجد کے لیے قرض طلب کیا، فی الحال ہمارے پاس للہ فنڈ میں کچھ رقم ہے جس کی مسجد کو فی الحال ضرورت نہیں، اور یہ جمعہ و عیدین میں چندہ کر کے جمع کی گئی تھی، کیا ہمارے لیے جائز ہے کہ دوسری مسجد کو بطورِ قرض دے کہ وقتِ مقررہ پر وہ ہمیں ادا کر دیں گے ۔
Answer
منتظمہ کمیٹی کے مشورہ سے دوسری مسجد کو قرض دینے کی اجازت ہے جب کہ اس مسجد کے متولی صاحبان قابل اعتماد حضرات ہوں اور واپسی کا عہد کر لیں اور ضائع ہونے سے اطمینان ہو جائے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں مذکور ہے:
للمتولي إقراض مال المسجد بأمر القاضي. (الدر المختار مع رد المحتار: ۵/٤۱۷، سعيد).
وفيه أيضاً: لا يملك الاستدانة إلا بأمر القاضي. (الدر المختار: مع رد المحتار: ٤/٤٤۰، سعيد).
وقال في خلاصة الفتاوى: وأما إقراض ما فضل من الوقف، قال في وصايا النوازل: رجوت أن يكون ذلك واسعاً إذا كان ذلك أحرز للغلة من إمساكه، فإن فضل من غلته، فصرف الفضل إلى حوائجه على أن يرده إذا احتاج إلى العمارة، قال: لا يفعل وينزه غاية التنزه، فإن فعل مع ذلك، ثم أنفق فيه رجوت أن ذلك يبرأ عما وجب عليه. (خلاصة الفتاوى: ٤/٤۲۳، ط: مكتبه رشيديه كوئته).
فتاوی محمودیہ میں ہے:
اگر قرض وصول ہونے پر اعتماد ہو، ضائع ہونے کا احتمال نہ ہو تو منتظمہ کمیٹی کے مشورہ سے درست ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۵/٤۸، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3384
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3384