قبر میں میت کا پورا بدن قبلہ کی طرف متوجہ کرنے کا حکم:
Question
میت کو قبر میں دفن کرتے وقت پورے جسم کو قبلہ کی طرف گھمایا جائے گا یا فقط چہرہ قبلہ کی طرف کیا جائے گا؟ بینوا توجروا۔
Answer
میت کے پورے جسم کو قبلہ کی طرف کرنا سنت ہے، پشت کی طرف سے مٹی کا سہارا دے کر قبلہ کی طرف کر دیا جائے، صرف چہرہ قبلہ کی طرف کرنا اور جسم کو چت لٹانا خلافِ سنت ہے۔
ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:
عن عبيد بن عمير عن أبيه وكانت له صحبة، أن رجلاً سأله فقال: يا رسول الله ما الكبائر؟ فقال: هن تسع
وعقوق الوالدين المسلمين واستحلال البيت الحرام قبلتكم أحياء وأمواتاً. (رواه أبو داود، رقم: ۲۸۷۷).
حاشية الطحطاوي
میں ہے:
قوله ويوجه إلى القبلة، وجوباً كما في الدر أو استناناً كما في ابن أمير حاج عن الإمام فلو وضع لغير القبلة أو على يساره ثم تذكروا قال الإمام إن كان بعد تسريج اللبِن قبل أن ينهال التراب عليه أزالوا ذلك ووجه إليها على يمينه وإن أهالوا التراب لا ينبش القبر لأن ذلك سنة والنبش حرام. قوله بذلك أمر النبي ﷺ علياً لما مات رجل من بني عبد المطلب فقال: يا علي استقبل به القبلة استقبالاً. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ٦۰۹، ط: قديمي).
عمدۃ الفقہ میں مرقوم ہے:
سنت یہ ہے کہ میت کو قبر میں داہنی کروٹ پر قبلہ رو لٹایا جائے اور اس میت کی پیٹھ کی طرف مٹی یا اس کے ڈھیلے سے تکیہ لگا دیں تاکہ میت داہنی کروٹ پر قائم رہے پشت کی جانب لوٹ نہ جائے، چت لٹانے اور صرف منہ قبلہ کی طرف کرنے کا جو عام رواج ہو گیا ہے وہ سنتِ متوارثہ کے خلاف ہے۔ (عمدۃ الفقہ: ۲/۵۳۱)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3460
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3460