حرمین میں نمازِ جنازہ میں عورتوں کی شرکت کا حکم:
Question
حرمین شریفین میں عورتیں طواف یا کسی اور غرض سے گئی تھیں، اور فرض نماز جماعت کے ساتھ پڑھی، اس کے بعد متصلاً جنازہ کی نماز شروع ہوئی تو عورتیں شرکت کر سکتی ہیں یا نہیں؟
Answer
عام حالات میں نمازِ جنازہ میں عورتوں کی شرکت کو فقہاء نے مکروہ لکھا ہے، لیکن حرمین شریفین میں عورتیں جنازہ میں شرکت کے لیے نہیں گئی تھیں بلکہ پہلے سے موجود تھیں اس لیے حرمین میں ان کی شرکت کی گنجائش ہے ۔ ہاں اگر کوئی شریک نہ ہو اور اپنی جگہ بیٹھی رہے تب بھی کوئی حرج نہیں ۔
نجم الفتاوی میں مرقوم ہے:
عورتیں نمازِ جنازہ میں فتنے کی وجہ سے شرکت نہیں کر سکتیں البتہ اگر ساتھ کھڑی ہو گئیں تو نماز درست ہو جائے گی ۔
لما في البحر الرائق (۲/۱۸۰) وأما ما يفسدها فما أفسدها إلا المحاذاة
وفي الجوهرة (۱/۱۳۰): وإن قامت امرأة إلى جانب رجل لم تفسد عليه صلاته.
وفي حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح (ص ۳۰٤): ولا يحضرن الجماعات لما فيه من الفتنة، لقوله ﷺ: صلاة المرأة في بيتها أفضل من صلاتها في حجرتها وصلاتها في مخدعها أفضل من صلاتها في بيتها، فالأفضل ما كان أستر لها لا فرق بين الفرائض وغيرها كالتراويح
وفي الدر المختار (۱/۵٦٦): ويكره حضورهن الجماعة، ولو لجمعة وعيد ووعظ مطلقاً ولو عجوزاً ليلاً على المذهب المفتى به لفساد الزمان، استثنى الكمال بحثاً العجائز المتفانية.
وفي الشامية (۱/۵٦٦): قوله على المذهب المفتى به، أي مذهب المتأخرين، قال في البحر: وقد يقال هذه الفتوى التي اعتمدها المتأخرون
وفيه نظر، بل هو مأخوذ من قول الإمام وذلك أنه إنما منعها لقيام الحامل وهو فرط الشهوة بناء على أن الفسقة لا ينتشرون في المغرب
(
ماخوذ من نجم الفتاوی، از مفتی نجم الحسن امروہی: ۲/۷۰٤، دار العلوم یا سین القرآن) ۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:
اگر جماعت کے پیچھے کھڑی ہو جائیں تو نماز ان کی بھی ہو جائے گی ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ٤/۳۹۷) ۔
حدیث میں ہے جب ابو طلحہ رضی الله عنہ کے بیٹے کا انتقال ہوا تو حضور ﷺ کو نماز کے لیے مدعو فرمایا، آپ ﷺ نے نمازِ جنازہ پڑھائی، اس نماز میں حضرت ام سلیم رضی الله عنہ نے بھی شرکت کی تھی ۔ حدیث ملاحظہ ہو :
أن أبا طلحة رضي الله عنه دعا رسول الله ﷺ إلى عمير بن أبي طلحة حين توفي فأتاهم رسول الله ﷺ فصلى عليه في منزلهم فتقدم رسول الله ﷺ وكان أبو طلحة رضي الله عنه وراءه وأم سليم رضي الله عنه وراء أبي طلحة رضي الله عنه ولم يكن معهم غيرهم، هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه، وسنة غريبة في إباحة صلاة النساء على الجنائز. (المستدرك للحاكم: ۱/۳٦٤/۱۳۵۰).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3468
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3468