نمازِ جنازہ میں سورۂ فاتحہ پڑھنے کا حکم:

5 min readFatwa Vol 9 #211Urdu

Question

بعض غیر مقلدین اعتراض کرتے ہیں کہ حدیث میں ہے:"
لا صلاة إلا بفاتحة الكتاب "
اس میں لفظِ صلاۃ نمازِ جنازہ کو بھی شامل ہے، پھر بھی نمازِ جنازہ میں سورۂ فاتحہ، نہ احناف کا امام پڑھتا ہے اور نہ مقتدی ۔ ایسا کیوں؟

Answer

حدیث شریف میں جس نماز کا ذکر ہے وہ نماز، حقیقی نماز ہے اور نمازِ جنازہ، حقیقی نماز نہیں ہے، کیوں کہ حقیقی نماز کے ارکان و شرائط ہیں، مثلاً: رکوع، سجدہ، قعدہ وغیرہ جو اس میں نہیں ہیں، اس لیے حدیث شریف نمازِ جنازہ کو شامل نہیں، نیز نمازِ جنازہ کے لفظ صلاۃ کے ساتھ علی کا لفظ آتا ہے ۔ ملاحظہ ہو :
۱. ولا تصل على أحد منهم مات أبداً، ۲: من صلى على الميت في المسجد فلا شيء له،
اور
لا صلاة إلا بفاتحة الكتاب
میں صلاۃ کے ساتھ لفظ علی نہیں ہے بنا بریں نمازِ جنازہ کو شامل نہیں ۔
اگر بالفرض فاتحہ جنازہ کو بھی شامل ہو تو حدیث میں فاتحہ کے ساتھ سورت کا ذکر بھی موجود ہے جب کہ جمہور کے نزدیک نمازِ جنازہ میں سورت نہیں ہے ۔
ہاں بعض روایات میں نمازِ جنازہ میں سورۂ فاتحہ پڑھنے کی تصریح موجود ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ احناف تطبیق دیتے ہیں کہ پہلی تکبیر کے بعد حمد و ثنا مسنون ہے چاہے فاتحہ کی شکل میں ہو یا فقط ثنا کی شکل میں ہو ۔
دلائل ملاحظہ کیجیے: امام بخاری رحمه الله نے اپنے دعوی (نمازِ جنازہ پر بھی صلاۃ کا اطلاق ہوتا ہے) کو ثابت کرنے کے لیے ایک مستقل باب قائم فرمایا:
باب سنة الصلاة علي الجنازة وقال النبي ﷺ: من صلى على الجنازة. وقال: صلوا على صاحبكم. وقال: صلوا على النجاشي. سماها صلاة، ليس فيها ركوع ولا سجود ولا يتكلم فيها وفيها تكبير وتسليم.
۲. الأبواب والتراجم لصحيح البخاري،
میں حضرت شیخ اس ترجمۃ الباب کی یوں تشریح فرماتے ہیں:

ما يظهر من الشرح أنهم اختلفوا في غرض الترجمة على قولين: الأول: ما قال الحافظ ابن المنير: المراد بالسنة ما شرعه النبي ﷺ فيها يعني فهو أعم من الواجب والمندوب ومراده بما ذكره هنا من الآثار والأحاديث أن لها حكم غيرها من الصلوات والشرائط والأركان وليست مجرد دعاء فلا تجزئ بغير طهارة مثلاً. والثاني: ما في هامش الهندية عن الكرماني ما في غرض البخاري بيان جواز إطلاق الصلاة على صلاة الجنازة وكونها مشروعة وإن لم تكن ذات الركوع والسجود فاستدل عليه تارة بإطلاق اسم الصلاة والأمر بها وتارة بإثبات ما هو من خصائص الصلاة. (الأبواب والتراجم، ص ۱۲۰).

نمازِ جنازہ میں لفظ صلاۃ کے ساتھ علی کا لفظ آتا ہے:

۱ ﴿ولا تصل على أحد منهم مات أبداً ولا تقم على قبره﴾ [التوبة]،
۲: عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ صلى على الجنازة ثم أتى قبر الميت فحثى عليه من قبل رأسه ثلاثاً. (رواه ابن ماجه، رقم: ۱۵٦۵).
۳: عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: صلى رسول الله ﷺ على الجنازة فقال: اللهم اغفر لحينا

الخ. (رواه أبو داود، رقم: ۳۲۰۳).

وہ روایت ملاحظہ ہو جس میں سورۂ فاتحہ کی قراءت جنازہ کے لیے ہونے کی تصریح ہے ؛

حدثتني أم شريك الأنصارية قالت: أمرنا النبي ﷺ أن نقرأ على الجنازة بفاتحة الكتاب. (رواه ابن ماجه، رقم: ۱٤۹٦). وإسناده ضعيف.

دوسرے علماء اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ اثر ابن عباس
رضي الله عنه
اس سے سنداً قوی ہے اور اس میں سنت ہونے کی تصریح ہے، لہٰذا یہ ضعیف روایت بھی سنت یا مستحب پر محمول کی جائے گی ۔ اثر ابن عباس رضی الله عنه ملاحظہ ہو :

عن طلحة بن عبد الله بن عوف قال: صليت خلف ابن عباس رضي الله عنه على جنازة فقرأ بفاتحة الكتاب وسورة وجهر حتى أسمعنا فلما فرغ أخذت بيده فسألته عنه فقال: سنة حق. (رواه النسائي، رقم: ۱۹۸۷).

لیکن اس روایت سے غیر مقلدین پر اعتراض ہوتا ہے کہ اس میں فاتحہ کے ساتھ سورت کا بھی ذکر ہے حالانکہ جمہور کے نزدیک جنازہ میں سورت نہیں ہے ۔ ملاحظہ ہو اعلاء السنن میں مرقوم ہے:

فالحق في الجواب عنه أن أثر ابن عباس رضي الله عنه لا يفيد الخصم، لما فيه من ذكر السورة مع الفاتحة في بعض الطرق الصحيحة، ولم يقل بكون قراءة السورة سنة مصطلحة. (إعلاء السنن: ۸/۲٦۱، ط: إدارة القرآن).

اعلاء السنن میں حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی صاحب رحمه الله چند روایات نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

فهذه الروايات تدل على أن السنة قراءة الفاتحة وسورة معها في صلاة الجنازة ولكن لا حجة فيه للخصم فإنه لا يقول بقراءة السورة. (إعلاء السنن: ۸/۲۵۸).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.