شہداء کی ارواح سبز پرندوں میں ہونے کا مطلب اور عقیدۂ تناسخ:

8 min readFatwa Vol 9 #231Urdu

Question

ایک حدیث کے مطابق شہید کی روح سبز پرندے میں عرش کے نیچے قندیل میں لالٹین کی شکل رہتی ہے، اور جنت میں جہاں جانا چاہے جا سکتی ہے، اس حدیث پر چند اشکالات ہیں؛ ۔
۱ ۔ انسانی روح کا پرندہ میں جانا اعلی سے ادنی کی طرف انتقال ہے کیوں کہ انسان سے پرندہ بن گیا ؟
۲ ۔ جنت میں داخلہ قیامت میں ہوگا، تو شہید کی روح قیامت سے پہلے جنت میں کیسے داخل ہوئی؟
۳ ۔ انسانی روح کا پرندہ میں جانا تناسخ ہے جو ہندوؤں کا عقیدہ ہے؟
٤ ۔ بعض روایات میں عام مومنین کی ارواح کا پرندہ میں منتقل ہونے کا ذکر ہے دونوں میں کیا فرق ہے؟

Answer

۱ ۔ یہ اعلی سے ادنی کی طرف انتقال نہیں بلکہ پرندے بہ منزلہ چاٹر فلائٹ اور ہیلی کاپٹر ہوں گے، یعنی شہید کی روح ہوائی جہاز میں سیر کرتی ہو گی، جنت کے ہوائی جہاز کو دنیا کے ہوائی جہاز پر قیاس نہیں کیا جا سکتا ۔
۲ ۔ یہ داخلہ روح کا ہے ہاں حقیقی داخلہ اجساد کے ساتھ قیامت میں بوقتِ بعثت ہوگا، تو یہ جزئی دخول، دخولِ کلی کے یا عارضی دخول، دخولِ حقیقی کے منافی نہیں ۔
۳ ۔ یہ تناسخ نہیں ہے، تناسخ کا مطلب یہ ہے کہ اچھی روحیں اچھوں کی شکل میں اور ارواحِ خبیثہ برے جانوروں کی شکل میں حلول کر کے دوبارہ دنیا میں آتی ہیں، اور نیک و کار کو نیکی کا صلہ ملتا ہے اور بروں کو برائی کا بدلہ ملتا ہے، یہی معاد ہے اور آخرت کے منکر ہیں ۔ یہ ہندوؤں کا باطل عقیدہ ہے ۔
اور اس حدیث کا تعلق دنیا سے نہیں بلکہ عالمِ برزخ سے ہے، پھر وہاں پر شہداء کی ارواح ہوائی جہاز میں سیر کرتی ہیں، اس میں حلول نہیں کرتیں ۔ یعنی طیر بمنزلہ ہوائی جہاز کے ہیں ۔
٤ ۔ بعض احادیث میں عام مومنین کا ذکر ہے ؛ اس کی مختلف توجیہات کا خلاصہ حسبِ ذیل ہے:
الف؛ مومن سے مراد مومنِ کامل یعنی شہید ہے ۔
ب؛ شہید کے علاوہ بعض مومنین کو بھی یہ فضیلت حاصل ہو گی ۔
ج: شہید ہمیشہ جنت میں عرش کے نیچے ایئرپورٹ پر خوبصورت ہیلی کاپٹروں میں اڑتا رہے گا، اور غیر شہید احیاناً اڑے گا، اور کبھی کبھی اس کی روح آسمان میں یا فنائے قبر میں ہو گی ۔
شہداء کے بارے میں حدیث شریف ملاحظہ کیجیے:

عن عبد الله في قوله تعالى ﴿ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتاً بل أحياء عند ربهم يرزقون﴾، قال: أما سألنا عن ذلك فقال: أرواحهم كطير خضر تسرح في الجنة في أيها شاءت، ثم تأوي إلى قناديل معلقة بالعرش، فبيناهم كذلك، إذا طلع عليهم ربك اطلاعة، فيقول: سلوني ما شئتم، قالوا ربنا وماذا نسألك ونحن نسرح في الجنة في أيها شئنا فلما رأوا أنهم لا يتركون من أن يسألوا قالوا: نسألك أن ترد أرواحنا في أجسادنا إلى الدنيا حتى نقتل في سبيلك. فلما رأى أنهم لا يسألون إلا ذلك تركوا. (رواه ابن ماجه، ص ۲۰۱، رقم ۲۸۰۱، باب فضل الشهادة في سبيل الله).

مذکورہ بالا روایت کے مختلف الفاظ ملاحظہ فرمائیں:
۱ ۔ مسلم شریف میں ہے:
أرواحهم في جوف طير خضر لها قناديل معلقة بالعرش. (۲/۱۳۵/۱۸۸۷).

۲ ۔ ترمذی شریف میں یہ الفاظ ہیں:
أرواحهم في طير خضر. (رواه الترمذي، رقم ۱٦٤۱، باب ما جاء في ثواب الشهداء).

۳ ۔ ابن ماجہ کی مذکورہ بالا روایت:
أرواحهم كطير خضر. (رقم: ۲۸۰۱).

عام مومنین والی روایت ملاحظہ کیجیے:

عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك عن أبيه قال: لما حضرت كعباً الوفاة أتته أم بشر بنت البراء بن معرور

إلى قوله: قالت: يا أبا عبد الرحمن! أما سمعت رسول الله ﷺ يقول: إن أرواح المؤمنين في طير خضر تعلق بشجر الجنة، قال: بلى قالت: فهو ذاك. (رواه ابن ماجه، رقم: ۱٤٤۹).
وفي رواية لأحمد عنه: كان يحدث أن رسول الله ﷺ، قال: إنما نسمة المؤمن طير يعلق في شجر الجنة حتى يرجعه الله تعالى إلى جسده يوم يبعثه. (مسند احمد، رقم: ۱۵۷۹۲).
تكملة فتح الملهم
میں مذکور ہے:

وقد اختلف العلماء فيه قديماً وحديثاً، وقد عد ابن القيم في ذلك نحواً من سبعة عشر قولاً، منها: أن أرواح المؤمنين عند الله في الجنة، شهداء كانوا أم غير شهداء إذا لم يحبسهم عن الجنة كبيرة

ومنها: أنهم بفناء الجنة على بابها، يأتيهم من روحها ونعيمها ورزقها. ومنها: أن الأرواح مستقرها أفنية قبورها، ومنها: أنها مرسلة تذهب حيث شاءت. ومنها: أن أرواح الشهداء في الجنة وأرواح عامة المؤمنين على أفنية قبورهم، وما إلى ذلك من الأقوال. وقد بسط ابن القيم في كتاب الروح على هذه المسألة، وتكلم على كل قول وما يؤيده أو يعارضه من الأحاديث الآثار، ثم لخص ما وصل إليه. (تكملة فتح الملهم: ۳/٤۱٤، دار العلوم كراچي).

دوسری جگہ مرقوم ہے:

وقد استدل بعض الجهلة بحديث الباب على ثبوت التناسخ في الأرواح، وهذا باطل لا أصل له. قال ابن القيم في كتاب الروح، ص ۱٤۲: وإنما التناسخ الباطل ما تقوله أعداء الرسل من الملاحدة وغيرهم الذين ينكرون المعاد، أن الأرواح تصير بعد مفارقة الأبدان إلى أجناس الحيوان والحشرات والطيور التي تناسبها وتشاكلها، فإذا فارقت هذه الأبدان انتقلت إلى أبدان تلك الحيوانات، فتنعم فيها أو تعذب، ثم تفارقها وتحل في أبدان أخر تناسب أعمالها وأخلاقها، وهكذا أبداً، فهذا معادها عندهم ونعيمها وعذابها، لا معاد لها عندهم غير ذلك، فهذا هو التناسخ الباطل المخالف لما اتفقت عليه الرسل والأنبياء من أولهم إلى آخرهم، وهو كفر بالله واليوم الآخر. وإذا عرفت معنى التناسخ ظهر لك البون الشاسع ما بين حديث الباب وفكرة التناسخ، فإن التناسخ مبني على إنكار المعاد والآخرة، وعلى أن حلول الأرواح في الأبدان المختلفة يقع في عالمنا هذا، والحديث مبني على إثبات الآخرة، وعلى أن أرواح الشهداء تكون في أجواف الطير في البرزخ، لا في الدنيا، فشتان بينهما. (تكملة فتح الملهم: ۳/٤۱٦).
أن الظاهر من حديث الباب أن أرواح الشهداء تكون في أجواف الطير، وأن هذا مختص بالشهداء، ولكن أخرج مالك في موطأه عن كعب بن مالك أن رسول الله ﷺ قال: إنما نسمة المومن طير يعلق في شجرة الجنة

وهذا يدل على أن هذه الفضيلة حاصلة لكل مؤمن، وتأول بعض العلماء في حديث كعب بأن المراد من المؤمن في ذلك الحديث المؤمن الشهيد خاصة

ويدل على هذا أن الله سبحانه وتعالى جعل أرواح الشهداء في أجواف طير خضر، فإنهم لما بذلوا أنفسهم لله حتى أتلفها أعداء فيه، أعاضهم منها في البرزخ أبداناً خيراً منها تكون فيها إلى يوم القيامة

تحفۃ الالمعی میں مذکور ہے:
حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے
﴿ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتاً﴾
کی تفسیر پوچھی گئی یعنی اللہ تعالی کے پاس شہداء کو جو روزی دی جاتی ہے اس کی نوعیت کیا ہو سکتی ہے؟
حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا سنو ! ہم نے یہ بات نبی ﷺ سے پوچھی ہے پس ہمیں بتلایا گیا کہ شہداء کی روحیں ہرے پرندوں میں ہوتی ہیں جنت میں جہاں چاہیں چرتی ہیں یعنی سبز رنگ کے ہیلی کاپٹروں میں بیٹھ کر جنت میں جاتی ہیں ۔ (تحفۃ الالمعی: ۷/۱٦۸) ۔
مزید تفصیل کے لیے درجِ ذیل کتب کا مطالعہ مفید ہے: (کتاب الروح لابن القیم، ص ۱۲۳، ۱٤۳، ۱٤۵، ۱٤۲، ۱۲۲، و اوجز المسالک للشیخ محمد زکریا: ٤/٦۰۱، و شرح الصدور للامام السیوطی، ص ۲٤۰، و تکملۃ فتح الملہم: ج ۳) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.