زکوٰۃ کی وصولی اسلامی حکومت کے ساتھ خاص ہونے کا شبہ:
Question
ایک عالم صاحب کا کہنا ہے کہ زکوٰۃ صرف اسلامی حکومت ہی وصول کر سکتی ہے، اسلامی ریاست کی عدمِ موجودگی میں زکوٰۃ ادا کرنے کا کوئی طریقہ باقی نہیں رہتا، لہٰذا آج کے زمانہ میں اگر کوئی زکوٰۃ ادا کرے تو اس کو صدقہ کا ثواب ملے گا ۔ اور زکوٰۃ وصول کرنے والی تنظیمیں سب فضول ہیں ؛ کیوں کہ یہ کام ان کا ہے ہی نہیں ۔ اور عالم صاحب درجِ ذیل اثر دلیل میں پیش کرتے ہیں:
عن مسلم بن يسار قال: كان أبو عبد الله رجل من الصحابة يقول: الزكاة والحدود والفيء والجمعة إلى السلطان.
کیا یہ بات شریعت کی نگاہ میں صحیح ہے یا نہیں؟ بینوا بالبرہان توجروا عند الرحمن ۔
Answer
شریعت کی رو سے اسلامی حکومت صرف اموالِ ظاہرہ کی زکوٰۃ وصول کرنے کی مکلف ہے اموالِ باطنہ کی ادائیگی کے لیے حکومت شرط نہیں بلکہ خود اصحابِ اموال کے ذمہ ہے کہ وہ خود ادا کر دے ۔
اموالِ ظاہرہ سے مراد ؛ گائے، بھینس، بھیڑ، بکری، وغیرہ جانور ہیں ۔ اور اموالِ باطنہ سے مراد؛ سونا، چاندی اور دیگر اموال ہیں ۔ ملاحظہ ہو ؛ بدائع الصنائع میں مرقوم ہے:
أما الأول فمال الزكاة نوعان؛ ظاهر: وهو المواشي والمال يمر به التاجر على العاشر، وباطن وهو الذهب والفضة وأموال التجارة في مواضعها
وأما المال الباطن الذي يكون في المصر فقد قال عامة مشايخنا إن رسول الله ﷺ طالب بزكاته وأبو بكر رضي الله عنه وعمر رضي الله عنه طالبا وعثمان رضي الله عنه طالب زماناً ولما كثرت أموال الناس ورأى أن في تتبعها حرجاً على الأمة وفي تفتيشها ضرراً بأرباب الأموال فوض الأداء إلى أربابها. وذكر إمام الهدى الشيخ أبو منصور الماتريدي السمرقندي رحمه الله وقال لم يبلغنا أن النبي ﷺ بعث في مطالبة المسلمين بزكاة الورق وأموال التجارة ولكن الناس كانوا يعطون ذلك. (بدائع الصنائع: ۲/۳۵، كتاب الزكاة، فصل في من له المطالبة بأداء الواجب، ط: سعيد).
قرآنِ کریم میں
وآتوا الزكاة
کی تفسیر میں امام ابو بکر جصاص رازی رحمه الله فرماتے ہیں:
ولم يشترط فيها أخذ الإمام لها
فلما خص الزكاة بالأمر بالإيتاء دون أخذ الإمام وأمر في الصدقة بأن يأخذها الإمام وجب أن يكون أداء الزكوات موكولاً إلى أرباب الأموال إلا ما يمر به على العاشر. (أحكام القرآن: ۳/۱۵٦، ط: سهيل).
دوسری آیتِ کریمہ:
﴿إن تبدوا الصدقات فنعما هي وإن تخفوها وتؤتوها الفقراء فهو خير لكم﴾ [البقرة: ۲۷۱]
کے تحت ابو حیان الاندلسی لکھتے ہیں:
وقال ابن عباس رضي الله عنه: إخفاء صدقة التطوع أفضل من إظهارها، وروي عنه: صدقات السر في التطوع تفضل علانيتها بسبعين ضعفاً، وصدقة الفريضة علانيتها أفضل من سرها بخمسة وعشرين ضعفاً، قال القرطبي: ومثل هذا لا يقال بالرأي، وإنما هو توقيف، وقال قتادة: كلاهما إخفاء أفضل. وقال الزجاج: كان إخفاء الزكاة على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم أحسن، فأما اليوم فالناس مسيئون الظن فإظهارها أفضل. (البحر المحيط: ۲/٦۸۹، ط: دار الفكر).
اس آیتِ کریمہ اور اس کی تفسیر سے معلوم ہوا کہ خفیہ صدقہ سے فرض بھی ادا ہو جاتا ہے ۔
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمه الله اس آیتِ کریمہ کے تحت لکھتے ہیں:
اس مقام میں مختلف اقوال ہیں، مگر احقر کے ذوق میں حسبِ شہادت ظاہر قرآن و حدیث حضرت حسن بصری رحمه الله کا قول جو کبیر میں منقول ہے، راجح معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ یہ آیت فرض و نفل سب صدقات کو شامل ہے اور سب میں اخفا ہی افضل ہے ۔ (بیان القرآن: ۱/۱٦۳، ط: تاج پبلشرز) ۔
اعلاء السنن میں علامہ ظفر احمد عثمانی رحمه الله لکھتے ہیں کہ اموالِ باطنہ میں سلطان کو لینے کا حق نہیں ہے کیوں کہ نبی ﷺ سے صراحۃً اس بارے میں کچھ منقول نہیں ہے؛
قال نعم فيها فرق آخر وهو أن السلطان له ولاية الجبر في الأموال الظاهرة لا في الأموال الباطنة لعدم نقله عنه عليه السلام صريحاً، وروايات بعثه ﷺ السعاة إما مفسرة صريحة في الأموال الظاهرة وإما مبهمة تحمل على المفسرة أو على ما حملوا عليه حديث أبي هريرة رضي الله عنه الآتي ذكره قريباً.
وعدم النقل فيما يكثر وقوعه كل سنة بل كل شهر لاختلاف أوقات حولان الحول حجة ظاهرة احتج بها العلماء في مسائل كثيرة، واحتج به صاحب البدائع كما نقله عنه صاحب الدر المختار في خصوص صدقة الفطر، حيث قال: ولا يبعث الإمام على صدقة الفطر ساعياً لأنه عليه السلام لم يفعله
فإن قلت: لا يلزم من عدم بعث السعاة عدم الولاية لاحتمال وجوب أداء أهل الأموال بأنفسهم إلى السلطان.
قلنا: ينفيه الحديث: لا جلب ولا جنب، كما في سنن أبي داود، وسكت عنه، فما ورد من قوله عليه السلام:" هاتوا ربع العشر "على معنى أدوا ولو إلى المساكين. (إعلاء السنن: ۹/۵۲، للسلطان ولاية أخذ الزكاة في الأموال الظاهرة لا الباطنة، إدارة القرآن).
علامہ ابن نجیم مصری رحمه الله فرماتے ہیں کہ سلطان کو اموالِ باطنہ میں کوئی حق نہیں ہے:
قال: وظاهر ما صححه السرخسي رحمه الله أنه لا فرق بين الأموال الظاهرة والباطنة وصحح الولوالجي عدم الجواز في الأموال الباطنة قال: وبه يفتى لأنه ليس للسلطان ولاية الزكاة في الأموال الباطنة فلم يصح الأخذ، وفي الظهيرية: الأفضل لصاحب المال الظاهر أن يودي الزكاة إلى الفقراء بنفسه لأن هؤلاء لا يضعون الزكاة مواضعها. (البحر الرائق: ۲/۲۲۳، ط: كوئته).
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله جواہر الفقہ میں فرماتے ہیں:
رسولِ کریم ﷺ نے حکومت کی طرف سے زکوٰۃ وصول کرنے کا انتظام صرف اُن اموال میں کیا جو فقہاء کی اصطلاح میں اموالِ ظاہرہ کہلاتے ہیں یعنی جن اموال کا معاملہ بالکل کھلا ہوا اور واضح ہے، جیسے معادن، زرعی زمینیں اور مویشی کہ ان کو کوئی چھپا کر گھروں اور صندوقوں میں محفوظ نہیں کر سکتا بلکہ اُس کی حفاظت کی ذمہ داری حکومت ہی کی انتظامی مشینری کرتی ہے
باقی اموالِ باطنہ نقد، سونا، چاندی، زیورات وغیرہ ان کے متعلق حکومت کو شرعی قانون سے اس کا مجاز نہیں کیا کہ وہ لوگوں کے گھروں میں گھس کر ان کے محفوظ سامانوں کی تلاشی لیں ۔ اور اُن کی زکوٰۃ وصول کریں بلکہ ایسے اموال کی زکوٰۃ خود اصحابِ اموال ہی کے حوالہ کی گئی وہ بطورِ خود ادا کریں، خواہ بیت المال کو دے دیں یا براہِ راست فقراء میں تقسیم کر دیں، اور جو بیت المال کو دیں اس میں بھی ان سے یہ محاسبہ نہ ہوتا تھا کہ کل کتنا مال تھا؟ اس کی کتنی زکوٰۃ ہوتی ہے یہ کس قدر دے رہے ہیں؟ صحابہ کرام کا عام معمول یہی رہا کہ وہ اپنے ایسے اموال کی زکوٰۃ بھی بیت المال ہی میں خود جمع کر دیتے تھے مگر آنحضرت ﷺ کی طرف سے ان پر کوئی پابندی نہ تھی ۔ (جواہر الفقہ: ۳/۱۸۰، ۱۸۱، ط: مکتبہ دار العلوم کراچی) ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں: (خیر الفتاوی: ۳/از ص ۵۳۳ تا ص ۵۵۵، و فتاوی محمودیہ: ۱٤/۷۵، مکتبہ محمودیہ، و فتاوی حقانیہ: ٤/۷۷) ۔
سوال میں پیش کردہ موقوف اثر کا جواب:
محدثین نے مختلف قسم کے آثار نقل کیے ہیں ان سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ اموالِ باطنہ کی زکوٰۃ اصحابِ اموال خود بھی ادا کر سکتے ہیں اور اگر حکومت کو دینا چاہیں تو حکومت کو بھی دے سکتے ہیں ۔
مختلف قسم کے آثار اور احادیث کے لیے ملاحظہ فرمائیں: (السنن الکبری للامام البیہقی: ٤/۱۱٤، امام بیہقی رحمه الله نے چار ابواب قائم کیے ہیں اور ان میں دونوں طرح کی احادیث نقل کی ہیں، و مصنف ابن ابی شیبۃ: ٦/٤۷۳، المجلس العلمی، و کتاب الاموال لابن زنجویہ: ۲/ ۲۱٤ - ٤/۹٦۰، و کتاب الاموال لابی عبید قاسم بن سلام: ۱/۱۸ - ۱۸/٦۸٤) ۔
نیز مسلم بن یسار نے کسی صحابی کا قول نقل کیا ہے، اس موقوف اثر کے مقابلہ میں بہت ساری مرفوع روایات موجود ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ اموالِ باطنہ کی زکوٰۃ لوگ خود ادا کرتے تھے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3510
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3510