مرغی فارم اور انڈوں پر زکوٰۃ کا حکم:

2 min readFatwa Vol 9 #250Urdu

Question

ایک شخص کا (Broiler Chicken) مرغی فارم ہے، تجارت کے لیے مرغیاں پروان چڑھائی جاتی ہیں، کیا ان کا الگ سے کوئی نصاب ہے یا نہیں یا پھر ان کی قیمت پر زکوٰۃ واجب ہو گی؟ (۲) اگر کوئی شخص مرغیوں کی تجارت نہیں کرتا، انڈے حاصل کرنے کے لیے مرغی فارم میں مرغیاں رکھی ہیں، تو کیا مرغیوں پر زکوٰۃ واجب ہو گی یا انڈوں پر ؟ بینوا توجروا ۔

Answer

مرغیوں کا کوئی الگ سے نصاب مقرر نہیں، سال ختم ہونے پر ان کی مالیت پر زکوٰۃ واجب ہو گی، یعنی مالیت کا ڈھائی فیصد زکوٰۃ میں ادا کر دیا جائے ۔ (۲) جب مرغیوں کی تجارت نہیں کرتا تو مرغیوں کی مالیت پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے بلکہ انڈوں کی آمدنی پر زکوٰۃ واجب ہو گی ۔ دلائل ملاحظہ فرمائیں:

قال في الهداية: الذكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصاباً من الورق أو الذهب. (الهداية: ۱/۱۹۵، فصل في العروض، المصباح). (وكذا في الفتاوى الهندية: ۱/۱۷۹، ومختصر القدوري: ۱/۵۷، ط: بيروت، والفتاوى التاتارخانية: ۲/۲۳۷).

احسن الفتاوی میں مرقوم ہے:
مرغی خانہ اور مچھلی کے تالاب کی زمین، مکان اور متعلقہ سامان پر زکوٰۃ نہیں، مرغیاں اور چوزے خریدتے وقت اگر خود انہی کو بیچنے کی نیت ہو تو ان کی مالیت پر زکوٰۃ فرض ہے، اور اگر ان کی بجائے ان کے انڈے اور بچے بیچنے کی نیت ہے تو (مرغیوں پر ) زکوٰۃ نہیں ۔ (احسن الفتاوی: ٤/۳۰۰) ۔
فتاوی رحیمیہ میں مذکور ہے:
اگر آپ مرغیوں کی تجارت نہیں کرتے بلکہ صرف ان کے انڈوں کی تجارت کرتے ہیں تو اصل سرمایہ پر زکوٰۃ نہیں، بلکہ انڈوں کی آمدنی پر ہے جب کہ صاحب نصاب ہوں ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۳/٦۰۸) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.