دائمی مریض کے لیے فدیہ دینے یا وصیت کرنے کا حکم:
Question
اگر کوئی شخص دائمی مریض ہے اور روزہ نہیں رکھ سکتا، اگر اسی دائمی مرض میں انتقال ہو جائے تو کیا اس کے ذمہ فدیہ کی وصیت لازم ہے یا نہیں؟ جب کہ اس مرض سے اس کو افاقہ نہیں ملا، اور روزہ کی طاقت حاصل نہیں ہوئی؟ بینوا توجروا ۔
Answer
مریض حالتِ مرض میں اور مسافر حالتِ سفر میں انتقال کر جائے اور قضا کا موقع نہ ملے تو ان پر قضا لازم نہیں اور نہ فدیہ کی وصیت کرنا لازم ہے، اگر اولیاء ان کی طرف سے احساناً ادا کر دے تو امید ہے کہ ثواب پہنچ جائے گا ۔ ہاں دائمی مریض جو صحتیابی سے ناامید ہو، اسی طرح وہ بوڑھا اور بڑھیا جو انتہائی ضعف کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتے تو ان پر بھی فدیہ لازم ہے اور اگر زندگی میں ادا نہیں کیا تو موت سے پہلے فدیہ کی وصیت کرنا لازم ہے ۔ ملاحظہ ہو در مختار میں مرقوم ہے:
ويندب لمسافر الصوم لآية وأن تصوموا
إن لم يضره فإن شق عليه أو على رفيقه فالفطر أفضل لموافقته الجماعة فإن ماتوا أي في ذلك العذر فلا تجب عليهم الوصية بالفدية لعدم إدراكهم عدة من أيام أخر ولو ماتوا بعد زوال العذر وجبت الوصية بقدر إدراكهم عدة من أيام أخر. (الدر المختار: ۲/٤۲٤، سعيد).
وفي فتاوى الشامي: قوله وللشيخ الفاني، أي الذي فنيت قوته أو أشرف على الفناء ولذا عرفوه بأنه الذي كل يوم في نقص إلى أن يموت نهر، ومثله ما في القهستاني عن الكرماني: المريض إذا تحقق اليأس من الصحة فعليه الفدية لكل يوم من المرض
قوله العاجز عن الصوم أي عجزاً مستمراً كما يأتي أما لم يقدر عليه لشدة الحر كان له أن يفطر ويقضيه في الشتاء فتح، قوله يفدي وجوباً، لأن عذره ليس بعرضي للزوال حتى يصير إلى القضاء فوجبت الفدية ثم عبارة الكنز وهو يفدي إشارة إلى أنه ليس على غيره الفداء لأن نحو المرض والسفر في عرضة الزوال فيجب القضاء وعند العجز بالموت تجب الوصية بالفدية قوله ولو في أول الشهر، أي يخير بين دفعها في أوله وآخره كما في البحر. (فتاوى الشامي: ۲/٤۲۷، سعيد).
قال في المجمع: وإن تبرع الولي به أي بالإطعام من غير وصية صح ويكون له ثواب ذلك. (مجمع الأنهر: ۱/۳٦۸، ط: دار الكتب العلمية). وللمزيد راجع: (الفتاوى الهندية: ۱/۲۰۷).
عمدۃ الفقہ میں مذکور ہے:
جس شخص کا عذر مرتے دم تک زائل ہونے والا نہ ہو اگر وہ مال دار ہو تو اس پر اپنی زندگی میں فوت شدہ روزوں کا فدیہ دینا واجب ہے کیوں کہ دائمی عجز کی وجہ سے ان روزوں کی قضا پر قادر نہیں ہے اور جس کا عذر زائل ہونے والا ہو مثلاً: مسافر یا مریض تو اس پر ان روزوں کی قضا واجب ہے اور اس کو اپنی زندگی میں فدیہ دینا جائز نہیں ہے لیکن جب وہ موت آ جانے کے ساتھ روزوں کی قضا سے عاجز ہو جائے تو ان دنوں کے روزوں کا فدیہ دینے کی وصیت کرنا اس پر واجب ہے جب کہ اس سفر سے واپسی یا مرض سے صحت پانے کے بعد وقت پایا اور روزوں کی قضا نہیں کی ۔ (عمدۃ الفقہ: ۳/۳٤۱، ط: زوار اکیڈمی) ۔
دوسری جگہ مرقوم ہے:
اگر کسی شخص کے رمضان کے روزے مرض یا سفر کے عذر کی وجہ سے فوت ہو گئے اور مرض یا سفر کا عذر ابھی باقی تھا کہ وہ مرگیا تو اس پر ان روزوں کی قضا واجب نہیں ہے، کیوں کہ عذر کی حالت میں مر جانے کی وجہ سے اس نے وہ دن ہی نہیں پائے جن میں اس پر فوت شدہ روزوں کی قضا واجب ہوتی اور اس پر فدیہ کے لیے وصیت کرنا بھی واجب نہیں ہے کیوں کہ فدیہ کی وصیت کا واجب ہونا قضا لازم آنے کی فرع ہے، یعنی اگر قضا لازم آتی تو فدیہ کی وصیت واجب ہوتی پس جب وہ اس عذر کی حالت میں مرگیا تو اس پر کچھ لازم نہیں ہے، لیکن اگر پھر بھی اس نے وصیت کی ہو کہ اس کے روزوں کے عوض میں فدیہ دیا جائے تو یہ وصیت صحیح ہو جائے گی، اگر چہ اس پر وصیت کا کرنا واجب نہیں تھا ۔ (عمدۃ الفقہ: ۳/۳٤۳) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3532
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3532