شبِ براءت میں عبادت کی مقدار:
Question
نمبر ۸: شبِ براءت میں اگر پوری رات نہ جاگا جائے بلکہ دوسری راتوں سے کچھ زیادہ عبادت کی جائے تو یہ عبادت بھی قیام اللیل میں محسوب ہو گی یا نہیں؟
Answer
مبارک راتوں میں جہاں عبادت کی فضیلت آئی ہے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ پوری رات ہی عبادت کی جائے، بلکہ رات کے کچھ حصہ میں عبادت، تلاوت وغیرہ کر لیا جائے تو اس سے ثواب اور فضیلت حاصل ہو جائے گی اور قیام اللیل کے زمرہ میں شامل ہو جائے گا، حدیث شریف میں ہے کہ جس نے عشا کی نماز جماعت سے ادا کی اس نے آدھی رات قیام کیا پھر فجر بھی جماعت سے ادا کر لی تو گویا پوری رات عبادت کی، یعنی پوری رات نماز پڑھنے کی فضیلت حاصل ہو گئی ۔ حدیث شریف ملاحظہ فرمائیں:
عن عبد الرحمن بن أبي عمرة، قال: دخل عثمان بن عفان المسجد بعد صلاة المغرب فقعد وحده فقعدت إليه فقال يا ابن أخي سمعت رسول الله ﷺ يقول: من صلى العشاء في جماعة فكأنما قام نصف الليل ومن صلى الصبح في جماعة فكأنما صلى الليل كله. (رواه مسلم: ۱/٤۵٤).
وفي رواية لأبي داود عنه أنه قال: قال رسول الله ﷺ: من صلى العشاء في جماعة كان كقيام نصف ليلة ومن صلى العشاء والفجر في جماعة كان كقيام الليلة. (سنن أبي داود: ۱/۲۱۷، بيروت).
شعبان و شبِ براءت کے فضائل و احکام میں مذکور ہے:
حضرت حکیم الامت رحمه الله فرماتے ہیں کہ: اب قابل غور بات یہ ہے کہ کون سے حصہ شب میں جاگنا زیادہ بہتر ہے، اس کا فیصلہ قرآن سے بھی ہوتا ہے اور حدیث سے بھی، کیوں کہ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اخیری شب میں جاگنا اشد ہے، چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
إن ناشئة الليل هي أشد وطأ وأقوم قيلاً.
اور حدیث سے اس کا افضل ہونا معلوم ہوتا ہے چنانچہ آخری شب کی فضیلت میں بکثرت احادیث وارد ہیں اور قواعدِ عقلیہ بھی اس پر شاہد ہیں کیوں کہ وہ وقت سونے کا ہے اور سونے کا ترک کرنا مشکل ہے اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اخیر حصہ رات کا افضل ہے ۔ لیکن اگر کسی کے لیے اس حصہ میں جاگنا دشوار ہو وہ اول ہی شب میں عبادت کر کے فضیلت حاصل کر لے، جس کا ادنی درجہ یہ ہے کہ عشا تک عبادت میں مشغول رہیں، رات بھر جاگنے کی ضرورت نہیں بلکہ اچھا بھی نہیں کیوں کہ حدیث میں ہے:
أحب الأعمال إلى الله أدومها،
سو شعبان کی شب میں اتنا جاگنا چاہیے جس پر نباہ ہو سکے ۔ (شعبان کے فضائل و احکام، ص ۱۳٦، ط: ادارہ غفران پاکستان) ۔
حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمه الله فرماتے ہیں کہ: جناب باری عز اسمہ کی توجہ اس عالم اور اس کے رہنے والوں کی طرف، شعبان کی پندرہویں رات میں بہ نسبت اور راتوں کے زیادہ مبذول ہوتی ہے، اس لیے مناسب سمجھا گیا کہ بہ نسبت اور راتوں کے انسان بھی اللہ تعالی کی عبادت میں زیادہ حصہ لیں اور اس کی رحمت کو جس قدر بھی ممکن ہو اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کریں، اس لیے اس شب کو نوافل، قراءتِ قرآن، ذکر و دعا سے معمور کریں، چاہے تمام رات ہو یا اکثر حصہ یا کچھ حصہ، نہ کوئی خاص عبادت متعین ہے، اور نہ کوئی وقت معین ہے اس شب میں اپنے لیے، اپنے بڑوں کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے دعا کرنی چاہیے ۔ (مکتوبات شیخ الاسلام: ٤/۷۸) ۔
مفتی تقی عثمانی صاحب فرماتے ہیں:
یہ بتاؤ کہ کیا اللہ تعالی کے یہاں تمہارے گھنٹے شمار ہوتے ہیں کہ تم نے مسجد میں کتنے گھنٹے گزارے؟ وہاں گھنٹے شمار نہیں ہوتے وہاں تو اخلاص دیکھا جاتا ہے، اگر چند لمحات بھی اخلاص کے ساتھ اللہ تعالی کے ساتھ رابطہ میں میسر آ گئے تو وہ چند لمحات ہی ان شاء اللہ بیڑا پار کرا دیں گے ۔ (شبِ برا ء ت کی حقیقت، ص ۱۷) ۔
شعبان و شبِ براءت کے فضائل و احکام میں لکھا ہے:
اس رات میں تمام رات جاگنا ضروری نہیں، اگر کوئی اس رات میں گناہوں سے بچتے ہوے دوسرے دنوں کی بہ نسبت تھوڑی سی زیادہ عبادت کر لے اس کو بھی اس رات کی فضیلت کا حصہ حاصل ہو جائے گا، کیوں کہ اللہ تعالی کے یہاں گھنٹے شمار نہیں ہوتے، بلکہ اخلاص دیکھا جاتا ہے، اگر اخلاص کے ساتھ چند لمحات بھی اللہ تعالی کے خاص دربار میں میسر آ گئے تو وہ بہت بڑی نعمت اور دولت ہیں ۔ (شعبان و شبِ براءت کے فضائل، ص ۱۳٤) ۔
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3555
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3555