شبِ براءت میں ۱۰ قسم کے لوگوں کی مغفرت نہیں کی جاتی:
Question
نمبر ۱٤: پندرہویں شعبان میں اللہ تعالی کی طرف سے مغفرت کا دریا بہتا ہے، اور بے شمار لوگوں کی مغفرت کر دی جاتی ہے، لیکن کیا ایسے لوگ بھی ہیں جن کی اس مبارک رات میں بھی مغفرت نہیں ہوتی؟ اگر ہیں تو ان کی نشاندہی فرما دیں، اور کن وجوہات کی بنا پر مغفرت نہیں ہوتی وہ بھی ذکر کریں؛ تاکہ لوگ اس سے اجتناب کرنے کی کوشش کریں، اور اگر کوئی مبتلا ہو تو اس رات سے پہلے ہی توبہ کر لے؟ بینوا بالدلیل ۔
Answer
حامداً و مصلیاً: احادیث کی ورق گردانی سے معلوم ہوتا ہے کہ دس قسم کے لوگ ہیں جن کی اس مبارک رات میں بھی مغفرت نہیں ہوتی، اور یہ اس وجہ سے ہے کہ جن معاصی اور گناہ میں وہ مبتلا ہیں وہ بہت زیادہ قبیح و شنیع ہیں، تو ان کی قباحت و شناعت کی نحوست کی وجہ سے وہ حضرات مغفرت سے محروم رہتے ہیں، ان دس افراد کو درج ذیل احادیث کی روشنی میں ملاحظہ کیجیے ۔
(۱) مشرك:
شرک کے معنی ہے اللہ تعالی کی ذات و صفات میں کسی چیز کو شریک ٹھہرانا، شرک توحید کی ضد ہے، اور شرک کرنے والا اگر اسی حال میں فوت ہو گیا تو اس کی کسی حال میں مغفرت نہیں ہو گی ۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:
﴿إِنَّ الله لا يغْفِرُ أَنْ ُيشْرَك بِه
ٖ
وَيغْفِرُ مَا دُونَ ذٰلِك لِمَنْ يشَآءُ﴾ (النساء: ٤۸).
بیشک اللہ تعالی اس بات کو نہ بخشیں گے کہ ان کے ساتھ کسی کو شریک قرار دیا جاوے اور ان کے سوا جتنے گناہ ہیں جن کے لیے منظور ہوگا بخش دیں گے، اور جو شخص اللہ تعالی کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے وہ بڑے جرم کا مرتکب ہوا ۔ (بیان القرآن) ۔
صحیح ابن حبان میں ہے:
أخبرنا محمد بن المعافى العابد بصيدا وابن قتيبة وغيره قالوا: حدثنا هشام بن خالد الأزرق قال: حدثنا أبو خليد عتبة بن حماد عن الأوزاعي وابن ثوبان عن أبيه عن مكحول عن مالك بن يخامر عن معاذ بن جبل عن النبي ﷺ قال: يطلع الله تعالى إلى خلقه في ليلة النصف من شعبان فيغفر لجميع خلقه إلا لمشرك أو مشاحن. (صحيح ابن حبان: رقم ۵٦٦۵، بيروت) قال شعيب الأرناؤوط: حديث صحيح بشواهده.
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: شعبان کی پندرہویں رات میں اللہ تعالی اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور تمام کی مغفرت فرماتے ہیں سوائے مشرک کے اور جس کے دل میں کینہ ہو ۔
صحیح بخاری میں ہے:
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله قال: حدثني سليمان بن بلال عن ثور بن زيد المدني عن أبي الغيث عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: اجتنبوا السبع الموبقات، قالوا: يا رسول الله، وما هن؟ قال: الشرك بالله والسحر وقتل النفس التي حرم الله إلا بالحق وأكل الربوا وأكل مال اليتيم والتولي يوم الزحف وقذف المحصنات المؤمنات الغافلات. (صحيح البخاري: رقم ۲۷٦٦).
حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنه نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ: سات ہلاک کرنے والی باتوں سے دور رہو ۔ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ، وہ کون سی باتیں ہیں؟ فرمایا: خدا کے ساتھ شرک کرنا اور جادو کرنا اور اس جان کا نا حق مارنا جس کو اللہ تعالی نے حرام کیا ہے اور سود کھانا، اور یتیم کا مال کھانا اور جہاد سے فرار یعنی بھاگنا اور پاک دامن بھولی بھالی مومن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا ۔
(۲) مشاحن:
وہ شخص جو کسی پر غصہ اور ناراض ہو لیکن اس سے بدلہ لینے کی قوت نہ ہو تو اس کے دل میں غصہ روکنے اور ضبط کرنے سے دل پر ایک قسم کی گرانی ہوتی ہے، دل میں کسی کے بارے میں یہ کیفیت ہونا یہ کینہ اور بغض ہے، اور ایسی کیفیت دل میں رکھنے والا مشاحن ہے ۔
لغات الحدیث میں ہے: شحن بھر دینا، دور کرنا، ہانک دینا، حسد کرنا ۔ مشاحنہ: بغض رکھنا ۔ مشاحن: دشمنی رکھنے والا ۔ (
لغات: ۲/۲۹ ط كتب خانه كراچي)
حسن البیان فی لیلۃ النصف من شعبان میں ہے:
المشاحن، وهو الذي في قلبه على أخيه المسلم لهوي في نفسه، وهذا الحقد والتشاحن يمنع المغفرة في أغلب أوقاتها. (حسن البيان: ص ۲۵، ط بيروت)
صحیح ابن حبان میں ہے:
أخبرنا محمد بن المعافى العابد بصيدا وابن قتيبة وغيره قالوا: حدثنا هشام بن خالد الأزرق قال: حدثنا أبو خليد عتبة بن حماد عن الأوزاعي وابن ثوبان عن أبيه عن مكحول عن مالك بن يخامر عن معاذ بن جبل عن النبي ﷺ قال: يطلع الله تعالى إلى خلقه في ليلة النصف من شعبان فيغفر لجميع خلقه إلا لمشرك أو مشاحن. (ابن حبان: رقم ۵٦٦۵، بيروت) قال شعيب الأرناؤوط: حديث صحيح بشواهده.
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: شعبان کی پندرہویں رات میں اللہ تعالی اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور تمام کی مغفرت فرماتے ہیں سوائے مشرک کے اور جس کے دل میں کینہ ہو ۔
صحیح مسلم میں ہے:
حدثنا قتيبة بن سعيد عن مالك بن أنس فيما قرئ عليه عن سهل عن أبيه عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ قال: تفتح أبواب الجنة يوم الاثنين ويوم الخميس فيغفر لكل عبد لا يشرك بالله شيئاً إلا رجلاً كانت بينه وبين أخيه شحناء، فيقال: انظروا هٰذين حتى يصطلحا، انظروا هٰذين حتى يصطلحا، انظروا هٰذين حتى يصطلحا. (صحيح مسلم: رقم ۲۵۵٦).
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور ہر اس بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، سوائے اس شخص کے جو اپنے (مسلمان) بھائی سے کینہ رکھتا ہو، تو کہا جائے گا: ان دونوں کو مہلت دو یہاں تک کہ وہ صلح کر لے ۔
(۳) قاتل:
کسی انسان کو نا حق قتل کرنے والا چاہے مقتول مسلمان ہو یا کافر، ایسے شخص کے بارے میں بہت سخت وعیدیں قرآن و حدیث میں آئی ہیں ۔ کفر کے بعد سب سے بڑا گناہ کسی کو نا حق قتل کرنا ہے ۔
اللہ تعالی فرماتے ہیں:
﴿وَمَنْ يقْتُلْ مُؤْمِنََا مُتَعَمِّدا فَجَزَاؤُه جَهنَّمَ خَالِداً فِيها وَغَضِبَ الله عَلَيه وَلَعَنَه وَأَعَدَّ لَه عَذَاباً عَظِيماً﴾ (النساء: ۹۳).
عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ قال: يطلع الله عز وجل إلى خلقه ليلة النصف من شعبان فيغفر لعباده إلا لاثنين: مشاحن وقاتل نفس. قال الشيخ شعيب الأرناؤوط: حديث صحيح بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة. (مسند أحمد مع تعليقات الشيخ شعيب الأرناؤوط، رقم: ٦٦٤۲).
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پندرہویں شعبان کی رات کو اللہ تعالی اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، اور تمام بندوں کی مغفرت فرما دیتے ہیں سوائے دو کے: کینہ رکھنے والا، اور قاتل ۔
صحیح بخاری میں ہے:
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله قال: حدثني سليمان بن بلال عن ثور بن زيد المدني عن أبي الغيث عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: اجتنبوا السبع الموبقات، قالوا: يا رسول الله، وما هن؟ قال: الشرك بالله والسحر وقتل النفس التي حرم الله إلا بالحق وأكل الربوا وأكل مال اليتيم والتولي يوم الزحف وقذف المحصنات المؤمنات الغافلات. (صحيح البخاري: رقم ۲۷٦٦).
حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنه نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ: سات ہلاک کرنے والی باتوں سے دور رہو ۔ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ، وہ کون سی باتیں ہیں؟ فرمایا: خدا کے ساتھ شرک کرنا اور جادو کرنا اور اس جان کا نا حق مارنا جس کو اللہ تعالی نے حرام کیا ہے اور سود کھانا، اور یتیم کا مال کھانا، اور جہاد سے فرار یعنی بھاگنا اور پاک دامن بھولی بھالی مومن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا ۔
(٤) قاطع رحم، رشته قطع كرنے والا:
قطع رحمی کا مطلب یہ ہے کہ رشتہ داروں کو ایذا و تکلیف پہنچانا، اور ان سے سلام کرنا چھوڑ دینا، اور ان کی خبر نہ لینا، قطع رحمی کبیرہ گناہ ہے ۔
اللہ تعالی فرماتے ہیں:
﴿فَهلْ عَسَيتُمْ إِنْ تَوَلَّيتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكمْ. أولٰئٓك الَّذِينَ لَعَنَهمُ الله فَأَصَمَّهمْ وَأَعْمٰى أَبْصَارَهمْ﴾ (محمد: ۲۲).
شعب الایمان للبیہقی میں ہے:
قالت عائشة: دخل علي رسول الله ﷺ فوضع عنه ثوبيه ثم لم يستتم أن قام فلبسها فأخذتني غيرة شديدة فظننت أنه يأتي بعض صويحباتي فخرجت أتبعه بالبقيع بقيع الغرقد، يستغفر للمؤمنين والمؤمنات والشهداء، فقلت: بأبي وأمي، أنت في حاجة ربك، وأنا في حاجة الدنيا فانصرفت فدخلت حجرتي ولي نفس عال ولحقني رسول الله ﷺ فقال: ما هذا النفس يا عائشة؟ فقالت: بأبي وأمي أتيتني فوضعت عنك ثوبيك ثم لم تستمم أن قمت فلبستهما فأخذتني غيرة ظننت أنك تأتي بعض صويحباتي حتى رأيتك بالبقيع تصنع ما تصنع قال: يا عائشة، أكنت تخافين أن يحيف الله عليك ورسوله، بل أتاني جبريل عليه السلام فقال: هذه الليلة ليلة النصف من شعبان، ولله فيها عتقاء من النار بعدد شعور غنم كلب لا ينظر الله فيها إلى مشرك ولا إلى مشاحن ولا إلى قاطع رحم
(رقم ۳۸۳۷، ط بيروت).
حضرت عائشہ رضی الله عنه کی روایت کے اخیر میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: میرے پاس جبرئیل علیہ السلام آئے اور کہا: یہ نصف شعبان کی رات ہے، اور اس میں اللہ تعالی بنو کلب کے دنبوں کے بالوں کے برابر لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتے ہیں ۔ اللہ تعالی اِس رات میں شرک کرنے والوں، کینہ رکھنے والوں اور قطع رحمی کرنے والوں کی طرف نظر رحمت سے نہیں فرماتے ۔ صحیح البخاری میں ہے:
حدثنا يحيى بن بكير حدثنا الليث عن ابن شهاب أن محمد بن مطعم قال: إن جبير بن مطعم أخبره أنه سمع النبي ﷺ يقول: لا يدخل الجنة قاطع. (رقم: ۵۹۸٤، ط دار طوق النجاة).
(۵) مسبل ازار:
شلوار کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا ۔
شعب الایمان للبیہقی میں ہے:
قالت عائشة: دخل علي رسول الله ﷺ فوضع عنه ثوبيه ثم لم يستتم أن قام فلبسها
إلى قوله: أتاني جبريل عليه السلام فقال: هذه الليلة ليلة النصف من شعبان، ولله فيها عتقاء من النار بعدد شعور غنم كلب لا ينظر الله فيها إلى مشرك ولا إلى مشاحن ولا إلى قاطع رحم ولا إلى مسبل
(رقم ۳۸۳۷، ط بيروت).
ابو داؤد شریف میں ہے:
حدثنا موسى بن إسماعيل حدثنا أبان حدثنا يحيى عن أبي جعفر عن عطاء بن يسار عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: بينما رجل يصلي مسبلاً إزاره إذ قال له رسول الله ﷺ: اذهب فتوضأ ثم جاء ثم قال: اذهب فتوضأ فذهب فتوضأ ثم جاء، فقال له رجل: يا رسول الله! مالك أمرته أن يتوضأ، فقال: إنه كان يصلي وهو مسبل إزاره وإن الله تعالى لا يقبل صلاة رجل مسبل إزاره. (أبو داود: رقم ٦۳۸، ط بيروت)
ایک روایت میں حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنه سے منقول ہے: اس دوران کہ ایک شخص ٹخنوں سے نیچے ازار لٹکائے ہوے نماز پڑھ رہا تھا کہ اسی وقت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جاؤ وضو کر کے آؤ، وہ وضو کر کے آئے، پھر دوبارہ آپ ﷺ نے یہی ارشاد فرمایا تو ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ، کیا بات پیش آئی کہ آپ نے انہیں وضو کا حکم فرمایا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ شلوار ٹخنوں سے نیچے لٹکائے نماز پڑھ رہے تھے اور اللہ تعالی مسبل ازار کی نماز قبول نہیں فرماتے ۔
(٦) عاق الوالدين:
والدین کا نافرمان؛
مسند احمد میں ہے:
حدثنا يعقوب أبي عن الوليد بن كثير عن قطن بن وهب بن عويمر بن الأجدع عمن حدثه عن سالم بن عبد الله بن عمر أنه سمعه يقول: حدثني عبد الله بن عمر أن رسول الله ﷺ قال: ثلاثة قد حرم الله تبارك وتعالى عليهم الجنة مدمن الخمر، والعاق، والديوث الذي يقر في أهله الخبث. (رقم ٦۱۱۳). قال الشيخ شعيب الأرناؤوط: صحيح وهذا إسناد ضعيف لجهالة راويه عن سالم.
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین قسم کے لوگوں پر اللہ تعالی نے جنت حرام فرما دی ہے: شراب کا عادی، والدین کا نافرمان، او ر وہ بے غیرت جو اپنے گھر والوں کی فحاشی پر خاموش رہتا ہے ۔
شعب الایمان للبیہقی میں ہے:
يا عائشة، أكنت تخافين أن يحيف الله عليك ورسوله، بل أتاني جبريل عليه السلام فقال: هذه الليلة ليلة النصف من شعبان، ولله فيها عتقاء من النار بعدد شعور غنم كلب لا ينظر الله فيها إلى مشرك ولا إلى مشاحن ولا إلى قاطع رحم ولا إلى مسبل ولا إلى عاق والديه، ولا إلى مدمن خمر
الخ. إسناده ضعيف. (رقم ۳۵۵٦).
وأيضاً أخرجه ابن عساكر في تاريخ مدينة دمشق.
سنن نسائی میں ہے:
أخبرنا محمد بن بشار عن محمد، قال حدثنا شعبة عن منصور عن سالم بن أبي الجعد عن نبيط عن جابان عن عبد الله بن عمرو عن النبي ﷺ قال: لا يدخل الجنة منان ولا عاق ولا مدمن خمر. (رقم: ۵٦۸۸، ط بيروت)
(۷) مدمن خمر: شراب كا عادي:
حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالی شبِ براءت میں شراب کے عادی کی طرف نظر رحمت نہیں فرماتے اور نہ اس کی مغفرت فرماتے ہیں؛ سنن کبری للبیہقی میں ہے:
أتاني جبريل عليه السلام فقال: هذه الليلة ليلة النصف من شعبان، ولله فيها عتقاء من النار بعدد شعور غنم كلب لا ينظر الله فيها إلى مشرك ولا إلى مشاحن ولا إلى قاطع رحم ولا إلى مسبل ولا إلى عاق والديه، ولا إلى مدمن خمر
الخ. إسناده ضعيف. (رقم ۳۵۵٦).
وعن أبي بن كعب قال: قال رسول الله ﷺ: إن جبريل أتاني ليلة النصف من شعبان قال: قم فصل وارفع رأسك ويديك إلى السماء قال: فقلت يا جبريل ما هذه الليلة؟ قال: يا محمد، يفتح أبواب السماء وأبواب الرحمة ثلاثمئة باب فيغفر لجميع من لا يشرك بالله شيئاً غير مشاحن أو غاش أو مدمن خمر أو مصر على زنى، فإن هؤلاء لا يغفر لهم حتى يتوبوا. (أخرجه ابن عساكر في تاريخ مدينة دمشق، رقم ۵۹۲۳).
رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جبریل شعبان کی پندرہویں رات میرے پاس آئے اور کہا کہ اٹھیے اور نماز پڑھیے اور اپنا سر اور ہاتھ آسمان کی جانب بلند کیجیے، رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے کہا جبریل، یہ کون سی رات ہے، انہوں نے کہا: اے محمد، (اس رات) آسمان اور رحمت کے ۳۰۰ دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور تمام لوگوں کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو اللہ تعالی کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے سوائے کینہ رکھنے والا، دھوکہ باز، شرا ب کا عادی، اور زنا کا عادی ۔ اِن لوگوں کی مغفرت نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ توبہ کر لے ۔
(۸) زاني:
زنا کرنے والے مرد و عورت، زنا بد ترین گناہ ہے، احادیث میں اس کے مرتکب کے لیے سخت وعیدیں آئی ہیں ۔
أخرج ابن عساكر في تاريخ مدينة (تحت ترجمة محمد بن أحمد بن عبد الرحمن الملطي المقري رحمه الله) مسنده من أبي بن كعب قال: قال رسول الله ﷺ: إن جبريل أتاني ليلة النصف من شعبان قال: قم فصل وارفع رأسك ويديك إلى السماء قال: فقلت يا جبريل ما هذه الليلة؟ قال: يا محمد، يفتح أبواب السماء وأبواب الرحمة ثلاثمئة باب فيغفر لجميع من لا يشرك بالله شيئا غير مشاحن أو غاش أو مدمن خمر أو مصر على زنى، فإن هؤلاء لا يغفر لهم حتى يتوبوا. (رقم ۵۹۲۳)
رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جبریل شعبان کی پندرہویں رات میرے پاس آئے اور کہا کہ اٹھیے اور نماز پڑھیے اور اپنا سر اور ہاتھ آسمان کی جانب بلند کیجیے، رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے کہا جبریل، یہ کون سی رات ہے، انہوں نے کہا: اے محمد، (اس رات) آسمان اور رحمت کے ۳۰۰ دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور تمام لوگوں کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو اللہ تعالی کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے سوائے کینہ رکھنے والا، دھوکہ باز، شرا ب کا عادی، اور زنا کا عادی ۔
سنن کبری للبیہقی میں ہے:
وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب حدثنا أبو محمد الحسن بن علي بن عفان حدثنا ابن نمير عن الأعمش عن عبد الله مرة عن مسروق قال: قال عبد الله: قال رسول الله ﷺ: لا يحل دم رجل يشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله إلا بإحدى ثلاثة نفر: النفس بالنفس، والثيب الزاني، والتارك لدينه المفارق للجماعة. رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن عبد الله بن نمير عن أبيه. وأخرجه البخاري من ووجه آخر عن الأعمش. (السنن الكبرى للبيهقي، رقم ۱٦۲٦۲)
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی ایسے شخص کا خون حلال نہیں جو گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ میں اللہ تعالی کا رسول ہوں سوائے تین لوگوں کے: قاتل، شادی شدہ زنا کار، اور مرتد ۔
(۹) غاش:
دھوکے باز ۔
أخرج ابن عساكر في تاريخ مدينة (تحت ترجمة محمد بن أحمد بن عبد الرحمن الملطي المقري رحمه الله) مسنده من أبي بن كعب قال: قال رسول الله ﷺ: إن جبريل أتاني ليلة النصف من شعبان قال: قم فصل وارفع رأسك ويديك إلى السماء قال: فقلت يا جبريل ما هذه الليلة؟ قال: يا محمد، يفتح أبواب السماء وأبواب الرحمة ثلاثمئة باب فيغفر لجميع من لا يشرك بالله شيئا غير مشاحن أو غاش أو مدمن خمر أو مصر على زنى، فإن هؤلاء لا يغفر لهم حتى يتوبوا
الخ
قال أبو عمرو عثمان بن سعيد الداني: سمعت إسماعيل بن رجاء يقول: كان أبو الحسين الملطي كثير التصنيف في الفقه وكان يتفقه للشافعي وكان يقول الشعر ويسره ويعجب به. قال: وسمعت إسماعيل يقول: توفي أبو الحسين الملطي بعسقلان سنة سبع وسبعين وثلاثمئة. (تاريخ دمشق: حديث ۵۹۲۳).
رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جبریل شعبان کی پندرہویں رات میرے پاس آئے اور کہا کہ اٹھیے اور نماز پڑھیے اور اپنا سر اور ہاتھ آسمان کی جانب بلند کیجیے، رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے کہا جبریل، یہ کون سی رات ہے، انہوں نے کہا: اے محمد، (اس رات) آسمان اور رحمت کے ۳۰۰ دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور تمام لوگوں کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو اللہ تعالی کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے سوائے کینہ رکھنے والا، دھوکہ باز، شرا ب کا عادی، اور زنا کا عادی ۔
مسلم شریف میں ہے:
عن أبي هريرة أن رسول الله ﷺ قال: من حمل علينا السلاح فليس منا. (صحيح مسلم: رقم، ۱٦٤).
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہم (مسلمانوں) پر ہتھیار اٹھائے اور جو ہمیں دھوکا دے ۔
(۱۰) مصور:
تصویر کشی کرنے والا، احادیث مبارکہ میں مصور کے لیے سخت وعیدیں آئی ہیں ۔
فضائل الاوقات میں ہے:
حدثنا أبو عبد الله قال: حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بنهائي قال: حدثنا إبراهيم بن إسحاق الغسيلي قال: حدثنا وهب بن بقية، قال: أخبرنا سعيد بن عبد الكريم الواسطي عن أبي النعمان السعدي عن أبي الرجاء العطاردي عن أنس بن مالك قال: بعثني رسول الله ﷺ إلى منزل عائشة رضي الله عنها في حاجة، فقلت لها: أسرعي! فإني تركت رسول الله ﷺ يحدثهم عن ليلة النصف من شعبان، فقالت: يا أنيس، اجلس حتى أحدثك بحديث ليلة النصف من شعبان
قلت: يا رسول الله، وما بال شعر غنم كلب، قال: لم يكن في العرب قبيلة قوم أكبر غنما منهم، لا أقول ستة نفر: مدمن خمر، ولا عاق لوالديه، ولا مصر على زنى، ولا مصارم، ولا مصور
في إسناده سعيد بن عبد الكريم الواسطي، وهو متروك. (فضائل الأوقات: رقم ۲۷).
میزان الاعتدال میں ہے:
سعيد بن عبد الكريم. روى عنه أبو بكر بن عياش. قال الأزدي: متروك. (رقم: ۳۲۳۲).
مسلم شریف میں ہے:
عن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ: إن أشد الناس عذاباً يوم القيامة المصورون. ولم يذكر الأشج إِنَّ. (صحيح مسلم: رقم ۲۱۰۹).
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے سخت عذاب قیامت کے دن تصویریں بنانے والوں کو ہوگا ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3561
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3561